کپتان کو شرمندہ کرنا حماد اظہر کو بھگتنا پڑ گیا

وفاقی کابینہ میں بھارت کے ساتھ تجارت شروع کرنے کے معاملے پر وزیر خزانہ حماد اظہر کے ساتھ منہ ماری میں شرمندگی کا سامنا کرنے والے وزیر اعظم عمران خان نے ملکی خزانے کی کنجی شوکت ترین کو دینے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے حالانکہ ترین بھی پیپلزپارٹی کے سابقہ دور حکومت میں ناکام وزیر خزانہ ثابت ہو چکے ہیں۔

دس سال قبل پیپلزپارٹی دور حکومت میں وزارت خزانہ چلانے والے شوکت ترین نے تصدیق کی ہے کہ ملکی معیشت سے متعلق کلیدی فیصلئے کرنےکے لئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی جا رہی جسکے وہ کنوینر ہوں گے۔ ان کا عہدہ وفاقی وزیر کے مساوی ہوگا تاہم انہیں وفاقی کابینہ میں اس لئے شامل نہیں کیا جا رہا کیونکہ ان کے خلاف نیب میں کیس چل رہا ہے۔ جیسے ہی یہ کیس ختم ہوگا شوکت ترین کو وفاقی کابینہ میں شامل کر لیا جائے گا۔

دوسری جانب حکومتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ یکم اپریل کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیرا عظم عمران خان کو اس وقت شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب بھارت کے ساتھ کاٹن اور چینی درآمد کرنے کے فیصلے پر کابینہ کے کئی اراکین نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔ اس پر عمران خان نے حماد اظہر کو غصے میں پوچھا کہ آپ نے اتنا بڑا فیصلہ کس کے کہنے پر کیا۔ جواب میں حماد اظہر نے کمال معصومیت سے سب کے سامنے صاف صاف کہہ دیا کہ وزیر اعظم صاھب آپ نے چند روز قبل خود ہی تو مجھے ایسا کرنے کے لیے کہا تھا۔ یہ سن کر کپتان لاجواب ہو گئے اور اپنی خفت مٹانے کے لیے بھارت سے تجارت کا فیصلہ عبوری طور پر ملتوی کردیا۔ واضح رہے کہ بیرسٹر حماد اظہر سابق گورنر پنجاب میاں محمد اظہر کے بیٹے ہیں۔ چند روز قبل حماد اظہر نے کئی سال پہلے عمران خان کے ساتھ اپنی ایک یادگار تصویر شیئر کی تھی جب حماد سٹوڈنٹ تھے اور عمران خان پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان ہوا کرتے تھے۔ تاہم حماد اظہر نے کپتان کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں باور کروا دیا کہ ان کی کابینہ کرکٹ ٹیم نہیں جسکے کھلاڑی نکالے جانے کے خوف سے غلط بات بھی سن لیتے تھے۔

لیکن یہ کیسے ممکن تھا کہ اپنے کپتان کو بھری کابینہ کے اجلاس میں شرمندہ کرنے والے حماد اظہر کو اپنی اس حرکت کی قیمت ادا نہ کرنا پڑتی۔ چنانچہ اب یہ خبریں آرہی ہیں کہ حماد اظہر عبوری طور پر وزیر خزانہ بنائے گئے ہیں اور شوکت ترین اصل وزیر خزانہ ہوں گے۔ یاد رہے کہ حالیہ دنوں حفیظ شیخ کو فارغ کرنے کے بعد عمران خان نے حماد اظہر کو وزیر خزانہ بنایا تو ان کی بہت تعریفیں کی گئیں تھیں۔ تاہم یکم اپریل کو کابینہ کے اجلاس میں بھارت سے تجارت شروع کرنے کا مدعا جائز طور پر کپتان پر ڈالنے کی غلطی کرنے کی پاداش میں حماد اب دوبارہ وفاقی وزیر سے جونیئر وزیر بننے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کا یہ فیصلہ مسترد کر دیا ہے کہ چینی کی فراہمی بہتر بنانے اور چھوٹے صنعتکاروں کی ضرورت پوری کرنے کے لئے بھارت سے سستی چینی اور کپاس درآمد کی جائے۔ حماد اظہر نے وزارت کا چارج سنبھالنے کے بعد پہلی پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ بھارت میں یہ اجناس باقی دنیا اور پاکستان سے ارزاں نرخوں پر دستیاب ہیں، اس لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ البتہ یکم اپریل کو جب یہ معاملہ وفاقی کابینہ میں زیر غور آیا تو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، اسد عمر، شیخ رشید اور شیریں مزاری نے اپنے ہی ادارے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلہ کو مسترد کر دیا حالانکہ اس معاملہ میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے سربراہ بھی وزیر اعظم عمران خان تھے، اور انہی کی نگرانی میں کمیٹی نے بھارت سے تجارتی تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بقول حماد اظہر بھارت سے چینی اور کپاس درآمد کرنے کے فیصلے کی منظوری بھی وزیراعظم نے دی تھی۔ تاہم کابینہ کے اجلاس میں تنقید کے بعد جب حماد اظہر نے اصل کہانی کھول دی اور مدعا وزیراعظم پر ڈال دیا تو کپتان نے اپنی عزت بچاتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ بھارت کے ساتھ اس وقت تک تجارتی تعلقات بحال نہیں ہو سکتے جب تک انڈیا مقبوضہ کشمیر کے بارے میں بھارتی دستور کی شق 370 بحال نہیں کرتا۔ واضح رہے کہ اس شق کے تحت بھارتی تسلط میں کشمیری عوام کو کسی حد تک نیم خود مختاری حاصل تھی اور انہیں اپنے علاقے پر بعض مخصوص حقوق دیے گئے تھے۔ نریندر مودی کی حکومت نے 5 اگست 2019 میں یک طرفہ طور سے اس شق کو ختم کرتے ہوئے کشمیر کو وفاقی اکائیوں میں تبدیل کر دیا تھا اور اس خطے کو براہ راست اپنے کنٹرول میں لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں ایک روز پہلے کیے گئے ای سی سی کے فیصلے کو تبدیل کر دیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کابینہ نے وزیراعظم پر اظہار عدم اعتماد کر دیا ہے۔ اس معاملے کا یہ پہلو بھی کم دلچسپ نہیں ہے کہ وزیر اعظم ہی وزارت تجارت و ٹیکسٹائل کے نگران وزیر بھی ہیں، اسی وزارت نے بھارت سے کپاس درآمد کرنے کی تجویز دی تھی جسے وزیراعظم عمران خان نے 26 مارچ کو منظور کیا تھا۔ واضح رہے کہ کسی وزارت کا کوئی فیصلہ نگران وزیر کے دستخط کے بغیر ای سی سی میں غور کے لئے پیش نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ وزیر اعظم کی زیر صدارت منعقدہ ای سی سی اجلاس میں تجویز کو منظور کر لیا گیا۔ تاہم بعد ازاں تنقید کے بعد عمران خان نے ہی کابینہ اجلاس میں ای سی سی کے پہلے فیصلے کو مسترد کر دیا۔ سنئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے اس حوالے سے اپنے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ ثابت کیا کہ وزیراعظم عمران خان نے تجارت کے انچارج وزیر کے طور پر 26 مارچ 2021 کو بھارت سے کاٹن اور چینی درآمد کرنے کی منظوری دی تھی جبکہ مشیر تجارت عبد الرزاق داود بھی اس حوالے سے ٹویٹس میں بتا چکے تھے کہ وہ ایسا کرنے جا رہے ہیں لہٰذا کپتان کا کابینہ اجلاس میں اس حوالے سے حماد اظہر سے سوال محض ڈرامے بازی تھی۔

اس واقعے کے بعد میڈیا میں حماد اظہر کے اختیارات اور اتھارٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں بلکہ عمران خان اور حکومت کی حیثیت کے بارے میں نئے سوال پیدا ہو گئے ہیں۔ بعض حلقے اسے جنرل باجوہ کی پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے نئی پالیسی اور حکومتی اختلاف قرار دے رہے ہیں۔ مبصرین کے خیال میں ایسا انہی حالات میں ہوتا ہے جب وزیر اعظم کے عہدے پر فائز کسی شخص کو معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کس تجویز یا مشورہ پر دستخط ثبت کر رہا ہے۔ یا پھر ملک میں فیصلے کرنے والے ادارے ایک سے زیادہ ہوں۔ یعنی کابینہ سے بھی اوپر کوئی ایسی اتھارٹی ہو جسے جب ایک ادارے میں کیا گیا کوئی فیصلہ پسند نہیں آیا تو دوسرے ادارے یعنی کابینہ سے اسے مسترد کروا دیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ای سی سی اور وفاقی کابینہ میں یکے بعد دیگرے ایک ہی معاملہ پر دو متضاد فیصلوں سے بھارت کے ساتھ قیام امن اور خطے میں معاشی و مواصلاتی اشتراک و تعاون پر پاکستان کے اعلانات کی سنجیدگی کے بارے میں بھی شبہات پیدا ہوئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب حکومت ہی کے دو ادارے بھارت سے تجارت شروع کرنے کے معاملہ پر کسی ایک حکمت عملی پر قائم نہیں رہ سکتے تو پھر آرمی چیف کے اس اعلان کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے کہ جنگ کی بجائے امن کا راستہ تلاش کر کے ہی برصغیر کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کام کیا جاسکتا ہے؟ یہ معاملہ وفاقی حکومت کی کارکردگی، فیصلے کرنے کے ناقص طریقے، اہم ترین معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکامی اور ہماری ریاست کے اہم ترین اداروں کے درمیان تعاون کی کمی کی چغلی کھاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button