کپتان کو نشئی کیوں دکھایا؟کامیڈین کے خلاف ایکشن ہو گا

کپتان حکومت نہ مہنگائی پر قابو پارہی نہ ہی بےروزگاری پر لیکن اس کی مکمل توجہ اپنے سیاسی مخالفین اور ناقدین کو خاموش کروانے اور اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانے پر ہے، اب ایک تازہ ترین واقعے میں تحریک انصاف کے ایک رہنما شوکت علی نے وزیر اعظم عمران خان کے بارے میں ایک ٹی وی چینل پر ایک کامیڈی پروگرام کرنے کی پاداش میں ایک کامیڈین کے خلاف تادیبی کارروائی کےلیے ایف آئی اے یا وفاقی تحقیقاتی ادارے میں درخواست برائے اندراج مقدمہ جمع کروا دی ہے۔
تحریک انصاف کے رہنما شوکت علی جوئیہ کی جانب سے ایف آئی اے سائبر کرائم ونِگ کے ڈائریکٹر کو لکھی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ 29 جنوری کی رات 9 بجکر 32 منٹ پر خالد بٹ نے، جس کا اصل نام مرتضیٰ چوہدری ہے، اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو کلپ ڈالی جس پر ‘نیو نیوز’ کا لوگو بھی موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسی تاریخ کو نیو نیوز نے رات 11 بجے ایک پروگرام نشر کیا جس میں وزیراعظم عمران خان کا ان کے انجیکشن اور حوروں والے بیان کے حوالے سے مذاق اڑایا گیا۔ درخواست گزار کے مطابق اسے پارٹی نے ہدایت کی ہے کہ وزیر اعظم کی تضحیک کرنے پر وہ اس ٹی وی چینل اور کامیڈین کے خلاف قانونی کارروائی کےلئے ایف آئی اے سے رابطہ کریں کیونکہ ٹویٹر پر ڈالے گے اس ویڈیو کلپ میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ عمران خان نشے کے عادی ہیں جو کہ خود کو نشہ آور ٹیکہ لگا رہے ہیں اور وہی نشہ آور ٹیکہ میزبان کو بھی لگانے کی ترغیب دے رہے ہیں۔
شکایت کنندہ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر نشر کیے جانے اس ویڈیو کلپ میں وزیر اعظم کی تضحیک کی گئی اور ٹوئٹ کا عنوان ‘وزیر اعظم نے لائیو ٹیکہ لگا کر ناقدین کو جواب دے دیا’ جھوٹ، بدنیتی اور الزام تراشی پر مبنی تھا جس کا مقصد عمران خان کی بے عزتی اور تضحیک کرنا تھا۔ یہ موقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ ویڈیو کلپ میں کوکین اور حور جیسے شرمناک الفاظ کا استعمال کرکے نوجوانوں کو بھڑکایا گیا ہے اور مصطفیٰ چوہدری نے ایک منشیات زدہ شخص کی طرح اداکاری کرتے ہوئے یہ تاثر دیا ہے کہ وہ عمران خان ہے۔
درخواست میں ڈائریکٹر ایف آئی سے درخواست کی گئی ہے کہ اس ویڈیو کلپ کی تیاری، اداکاری اور اس تضحیک آمیز ویڈیو کلپ کو نشر کرنے والے تمام افراد کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔ واضح رہے کہ 27 جنوری 2020 کو کراچی میں شوکت خانم کینسر اسپتال کی ایک تقریب سے خطاب کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے 2013 میں انتخابی مہم کے دوران لفٹ سے گر کر زخمی ہونے اور اپنی تکلیف کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘اس وقت شوکت خانم کے ڈاکٹر عاصم نے مجھے ایسا انجیکشن لگایا جس سے نہ صرف تکلیف ختم ہوگئی بلکہ دنیا ہی بدل گئی اور وہاں موجود نرسیں مجھے حوریں نظر آنا شروع ہوگئیں۔’ ان کا کہنا تھا کہ ’انجیکشن کے بعد لگا کہ مجھے کوئی تکلیف نہیں ہے، میں نے ٹی وی پر تقریر بھی کردی لیکن یہ یاد نہیں میں نے کیا کہا، جب اس انجیکشن کا اثر زائل ہوا تو مجھے پھر تکلیف شروع ہوگئی اور میں نے ڈاکٹر عاصم پر زور دیا کہ وہ مجھے وہ ٹیکہ پھر سے لگا دیں اور ساتھ ہی انہیں دھمکایا بھی کہ میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا لیکن انہوں نے مجھے ٹیکہ نہیں لگایا۔‘
ان کی یہ تقریر بالخصوص ‘ٹیکے کے اثر سے حوریں نظر آنے والی’ بات سوشل میڈیا پر زیر گردش رہی اور صارفین میں سے کسی نے وزیر اعظم اور ان کی اس بات کا مذاق بنایا تو دیگر نے ان پر تنقید کی۔
