کپتان کو کشمیری قیادت کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا

وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے ایل او سی پار کرنے کی کوشش کو ’انڈین بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلنا‘ قرار دینے کے بیان پر سخت رد عمل سامنے آیا ہے اور کشمیری قیادت نے اس بیان کو ’غیر ذمہ دارانہ‘ اور ’بے موقع‘ قرار دیا ہے۔
یہ بیان تب آیا جب آزادی پسند کشمیری جماعت جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کی کال پر ہزاروں پاکستانی کشمیریوں نے لائن آف کنٹرول کی جانب مارچ شروع کیا۔ ہفتے کی صبح عین اُس وقت جب یہ مارچ مظفرآباد سے چکوٹھی کی طرف روانہ ہو رہا تھا، وزیر اعظم عمران خان کی یکے بعد دیگرے دو ٹویٹس سامنے آئیں جن میں سے پہلی ٹویٹ میں انہوں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ایل او سی پار کرنے کی کسی کوشش کو ’انڈین بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلنے‘ کے مترادف قرار دیا۔ وزیر اعظم نے اپنی دوسری ٹویٹ میں اس بیانیے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ بیانیہ جس کے ذریعے پاکستان پر ’اسلامی دہشت گردی‘ کا الزام لگا کر ظالمانہ بھارتی قبضے کے خلاف اہل کشمیر کی جائز جدوجہد سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایل او سی پار کرنے سے بھارت کو وادی میں محصور لوگوں پر تشدد بڑھانے اور جنگ بندی لکیر کے اُس پار حملہ کرنے کا جواز ملے گا۔‘
انسانی کرفیو میں گھرے کشمیریوں کے حوالے سے آزاد کشمیر کے لوگوں میں پایا جانے والا کرب سمجھ سکتا ہوں۔لیکن اہل کشمیر کی مدد یا جدوجہد میں انکی کی حمایت کی غرض سے جو بھی آزادکشمیر سے ایل او سی پار کرے گا وہ بھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلےگا۔ وہ بیانیہ جس کے ذریعے پاکستان پر "اسلامی دہشت گردی” کا الزام لگا کر ظالمانہ بھارتی قبضے کیخلاف اہل کشمیر کی جائز جدوجہد سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ایل او سی پار کرنے سے بھارت کو مقبوضہ وادی میں محصور لوگوں پر تشدد بڑھانے اور جنگ بندی لکیر کے اس پار حملہ کرنے کا جواز ملے گا۔
لیکن وزیر اعظم کی ٹویٹس سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر اس حوالے سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ سینئر صحافی حامد میر نے لکھا کہ وزیراعظم عمران خان کو چاہئیے تھا کہ اقوام متحدہ سے واپسی پر آزاد کشمیر کی سب جماعتوں کو اعتماد میں لیتے اور لائن آف کنٹرول کراس کرنے کے معاملے پر ان سے بات چیت کرتے ایل او سی توڑنے کی خواہیش کو بھارت کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف قرار دینا غلط فہمیاں پیدا کرنے کا باعث بنے گا. ایک دوسری ٹویٹ میں حامد میر نے لکھا کہ: ‘ کشمیری لائن آف کنٹرول کو نہیں مانتے۔ یہ 1948 میں سیز فائر لائن قرار دی گئی۔ اسے 1958میں مسلم کانفرنس کے رہنما چوہدری غلام عباس نے توڑنے کا اعلان کیا اور شملہ معاہدے کے بعد یہ ایل او سی قرار پائی آج (پاکستان کے زیرانتظام) کشمیر کی سب پارٹیاں اسے توڑنا چاہتی ہیں، ان کی یہ خواہش بھارتی بیانیہ کیسے ہو گئی؟‘
اس حوالے سے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیر اطلاعات مشتاق منہاس نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے الفاظ کا چناؤ اور موقع کا انتخاب انتہائی غیر مناسب تھا اور یہ مجموعی طور پر سب کی دل آزاری کا باعث بنا۔ ان کا کہنا تھا: ’مارچ میں سبھی محب وطن کشمیری ہیں بلکہ کئی ایک تو ایسے ہیں جن کے خاندان کا نصف حصہ ایل او سی کی دوسری طرف ہے۔ ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے کہ کوئی کشمیری بھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلے گا۔‘ مشتاق منہاس کا مزید کہنا تھا کہ: ’بھارت کا میڈیا پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ ایل او سی کی طرف آنے والوں کو پاکستان کی مدد حاصل ہے اور ایسے میں وزیر اعظم پاکستان کا یہ کہنا کہ یہ لوگ بھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں سمجھ سے بالا تر ہے۔‘
انہوں نے کہا: ’62 دن سے لوگ کرفیو کی حالت میں ہیں اور اپنے پیاروں سے رابطہ نہیں کر پا رہے۔ ایسی حالت میں اس طرح کا بیان رنجیدہ کشمیریوں کے لیے مزید تکلیف کا باعث ہے۔ بہتر ہوتا وزیر اعظم الفاظ کا چناؤ سوچ سمجھ کر کرتے۔‘ دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ ’بطور کشمیری ہم ایل او سی کو نہیں مانتے۔ ہم اسے سیز فائر لائن کہتے ہیں اور اس کو عبور کرنے کا حق ہمیں اقوام متحدہ کی قرارداوں کے تحت حاصل ہے۔ ‘ ان کا کہنا تھا: ’ہماری جماعت مسلم کانفرنس نے 1958 میں چکوٹھی سے سیز فائر لائن عبور کی اور دوسری جانب جانے والے ہمارے چھ لوگ گرفتار بھی ہوئے۔ ہم اِس وقت بھی سیز فائر لائن توڑنے کے حامی ہیں اور جے کے ایل ایف سمیت تمام جماعتوں کے ساتھ اس پر مشاورت بھی ہوئی ہے۔ البتہ اس کے لیے وقت کے تعین پر ہمارے تحفظات ہیں۔ اس وقت ہماری توجہ کا مرکز سری نگر ہونا چاہیے۔‘ وزیر اعظم عمران خان کی ٹویٹس کے حوالے سے سردار عتیق احمد خان کا کہنا تھا کہ: ’ان کی وضاحت وہ خود یا ان کا کوئی ترجمان کر سکتا ہے کہ انہوں نے یہ بات کس تناظر میں کہی البتہ ایل او سی یا سیز فائر لائن کو توڑنے کا حق ہر کشمیری باشندے کو حاصل ہے۔‘
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس منظور گیلانی کے مطابق ’وزیر اعظم کی ان ٹویٹس کا سادہ اور آسان الفاظ میں مطلب یہی ہے کہ ایل او سی کراس کرنے کی کسی بھی کوشش کی اجازت نہیں دی جائے گی اور پاکستان کشمیری شہریوں کو ایل او سی کی جانب جانے سے ہر صورت روکے گا۔‘ ان کے بقول ’یہ شملہ معاہدے کی زنجیر ہے جسے پاکستان نے غیر ضرور طور پر پہن رکھا ہے۔‘ امریکہ میں مقیم جے کے ایل ایف کے بانی رہنما راجہ مظفر نے وزیراعظم کی ٹویٹ کے جواب میں لکھا: ’بھارت نے پانچ اگست کو ایل او سی سمیت ان سب معاہدوں سے منہ موڑ لیا جو کشمیریوں کی مدد میں آپ کے پاؤں کی زنجیر تھے۔ مظاہرین بھارت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور آپ کی اس ٹویٹ نے کشمیریوں کو سخت مایوس کردیا ہے۔‘
انسانی کرفیو میں گھرے کشمیریوں کے حوالے سے آزاد کشمیر کے لوگوں میں پایا جانے والا کرب سمجھ سکتا ہوں۔لیکن اہل کشمیر کی مدد یا جدوجہد میں انکی کی حمایت کی غرض سے جو بھی آزادکشمیر سے ایل او سی پار کرے گا وہ بھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلےگا۔ وہ کیسے؟ بھارت نے ۵ اگست کو ایل آؤ سی سمیت ان سب معاہدوں سے منہ موڑ لیا جو کشمیریوں کی مدد میں آپ کے پاؤں کی زنجیر تھے۔ عمران صاحب مظاہرین بھارت کے خلاف سراپا احتجاج اور آپ کی اس ٹویٹ نے کشمیریوں کو سخت مایوس کردیا ہے ۔
’پر امن عوامی آزادی مارچ‘ کے نام سے اس احتجاجی مارچ کی کال بھارت کی تہاڑ جیل میں قید حریت رہنما یاسین ملک کی جماعت جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے دی ہے اور منتظمین کے بقول اس میں دیگر جماعتوں کے سیاسی کارکنوں کے علاوہ ایک بڑی تعداد اُن عام لوگوں کی ہے جو کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں۔ یہ مارچ جس میں سرکاری ذرائع کے مطابق تین سے چار ہزار افراد موجود ہیں۔ اگرچہ حکام نے مارچ کو گڑھی دوپٹہ سے کچھ فاصلے پر روک رکھا ہے تاہم حکام نے اشارہ دیا ہے کہ اگر مظاہرین پر امن رہے تو انہیں چناری تک جانے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ مارچ کے منتظمین میں شامل جے کے ایل ایف کے رہنماؤں کہا کہ ’بھارت اس کو پاکستان کے ساتھ منسوب کر رہا ہے اور پاکستان اس کو بھارت کے ساتھ جوڑ رہا ہے۔ ہمیں سمجھ نہیں پا رہے کہ ہمارے پر امن مارچ سے دونوں ملکوں کا خطرہ کیوں ہے؟‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button