کپتان کی جانب سے بزدار کو آخری وارننگ مل گئی


معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو اپنی گورننس بہتر بنانے کے لئے آخری وارننگ دے دی ہے اور انہیں واضح طور پر بتادیا ہے کہ اگر وہ اپنی پرفارمنس بہتر کرنے میں ناکام رہے تو وزارت اعلی کسی اور کو سونپنا ہو گی۔
وزیراعظم عمران خان کے قریب ترین سمجھے جانے والے ایک بڑبولے وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا ہے کہ بزدار کو آخری وارننگ دیدی گئی ہے کہ کارکردگی دکھائیں ورنہ نتائج بھگتنے کو تیار ہوجائیں۔ وزیر نے بتایا کہ اب اسی لیے حالیہ ہفتوں کے دوران، وزیراعلیٰ پنجاب پریس کانفرنسز کرنے اور سیاسی بیانات جاری کرنے میں خاصے فعال نظر آ رہے ہیں۔ تاہم، کابینہ کے وزیر نے کہا کہ اصل مسئلہ صلاحیت کا یے، گدھے اور گھوڑے کا فرق کیسے مٹایا جا سکتا یے۔ اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت اور پی ٹی آئی میں ہر شخص ماسوائے وزیراعظم یہ سمجھتا ہے کہ بزدار غریب کو ایک ایسی ذمہ داری دیدی گئی ہے جو اس کی صلاحیت و استعداد سے بہت بڑھ کر ہے کیونکہ اگر آپ وزیراعظم کے چپڑاسی سے بھی پوچھیں گے تو وہ آپ کو بتائے گا کہ بزدار بطور وزیر اعلی نہایت نکمے ہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بزدار کو تب سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ وزیراعظم سے ملاقات کرتے ہیں کیونکہ وہی ان کے اکیلے حامی ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ انکا وسیم اکرم پلس اصل میں کیا یے۔ جب پوچھا گیا کہ اگر خان صاحب جانتے ہیں کہ بزدار کتنا نکما ہے تو پھر اس کو ہٹاتے کیوں نہیں، تو وفاقی وزیر نے کہا کہ اصل مسئلہ "ہوم ڈیپارٹمنٹ” کا ہے جہاں سے وزیر اعظم ہدایات لیکر چلنے ہیں اور ابھی تک انکو ایسا کرنے کی اجازت نہیں مل رہی۔ وجہ یہ ہے کہ جب تک بزدار وزیراعلی ہے، پنجاب کی چودھراہٹ مانیکا خاندان کے ہاتھ میں رہے گی ورنہ خاور اور گجر صفر ہو جائیں گے۔
دوسری جانب معلوم ہوا یے کہ نون لیگ کی اعلیٰ قیادت نے پارٹی کارکنوں کو عثمان بزدار پر تنقید کرنے سے روک دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نون لیگی قیادت جانتی ہے کہ جب تک پنجاب میں بزدار کی حکمرانی ہے تب تک نون لیگ کو فائدہ ہوتا رہے گا اور پی ٹی آئی کو دھچکا لگتا رہے گا۔ یاد رہے کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کے معاملے میں اسٹیبلشمنٹ عمران خان کی پسند سے خوش نہیں۔ عمران کے سلیکٹرز نے انکو بار بار اپنے عدم اطمینان سے آگاہ کیا ہے لیکن اب عمران خان نے بزدار کو آخری وارننگ دیتے ہوئے سلیکٹرز سے کچھ اور وقت مانگا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا یے کہ وزیر اعظم اس عہدے پر نہ تو علیم خان کو لانا چاہتے ہیں اور نہ ہی میاں اسلم اقبال کو۔ دراصل عمران خان کو پنجاب کی وزارت اعلی پر عثمان بزدار جیسا ڈمی وزیر اعلی ہی سوٹ کرتا ہے جس کا اپنا کوئی سیاسی قد کاٹھ نہ ہو اور وہ مستقبل میں انکے لیے خطرہ نہ بنے۔ چنانچہ زیادہ امکان یہی ہے کہ بزدار کو ہٹانے کے بعد بھی کوئی بڑے سیاسی قد کاٹھ والا شخص وزیراعلی نہیں بنایا جائے گا۔
جب وفاقی وزیر سے سوال کیا گیا کہ ماضی میں بھی عثمان بزدار کی تبدیلی کی خبریں ہمیشہ غلط ثابت ہوئی ہیں اور ہر مرتبہ عمران خان عوام کے سامنے آ کر بزدار کی حمایت کرتے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ بزدار کو آخری وارننگ دی گئی ہے اور انکے پاس کارکردگی دکھانے کیلئے بجٹ تک کا وقت ہے۔ یاد رہے کہ بزدار حکومت پر اس کی خراب کارکردگی اور سرکاری افسران کے بار بار تبادلوں کی وجہ سے مسلسل تنقید کی جاتی رہی ہے۔ پنجاب میں بیوروکریسی کے امُور میں اس حد تک سیاسی مداخلت پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی اور بزدار حکومت میں یہ صورتحال معمول کا حصہ بن چکی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ معاملات وزیراعلیٰ کے کنٹرول میں نہیں۔ حال ہی میں جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ ختم کرنے کے حوالے سے جاری کردہ نوٹیفکیشن بزدار حکومت کیلئے ہزیمت کا باعث بن چکا ہے، انہوں نے پہلے یہ نوٹیفکیشن جاری کیا اور پھر پریشر آنے پر اسے منسوخ کر دیا اور کوئی وجہ بھی نہیں بتائی۔ اس معاملے پر اسب سے ذیادہ شور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے شاہ محمود قریشی نے ڈالا جو کہ پہلے دن سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہیں لیکن خان صاحب انکے سیاسی قد کاٹھ کی وجہ سے یہ عہدہ انکو نہیں دینا چاہتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button