کپتان کی حکومت تو قائم ہے لیکن تحریک انصاف کا خاتمہ ہوگیا

پی ڈی ایم اپوزیشن اتحاد کی کمزور حکمت عملی کے باعث عمران خان کی حکومت تو قائم ہے لیکن عملی طور پر تحریک انصاف اب ماضی کا قصہ بن چکی ہے جس کی بنیادی وجہ عمران خان کی اپنی غلطیاں ہیں۔ لیکن اگر موجودہ سیاسی صورتحال میں عمران خان کے لئے سب اچھا نہیں ہے تو پی ڈی ایم اتحاد کے لئے بھی سب اچھا نہیں۔ سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر اپنے تازہ تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آئین کے اندر رہتے ہوئے ایسا بہت کچھ ہو سکتا جس سے عمران خان بہت کچھ کھو سکتے۔ دوسری طرف پی ڈی ایم بھی بکھر سکتی ہے، اور اگر ایسا ہو گیا تو پھر ہماری سیاسی تاریخ میں یہی لکھا جائے گا کہ ایک تھی پی ڈی ایم اور ایک تھی تحریک انصاف۔
حامد میر کے مطابق عمران خان کی حکومت اور اُن کی اپوزیشن دونوں ایک سراب ہیں۔ دراصل صحرائوں میں رہنے والے سراب سے دھوکہ نہیں کھاتے لیکن بڑے شہروں اور پہاڑی علاقوں میں رہنے والے سراب سے اکثر دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ دھوپ کی شدت میں جب صحرا کی ریت چمکتی ہے تو دور سے پانی کا تالاب نظر آتی ہے لیکن جب پیاسا بھاگتا ہوا پانی کے پاس پہنچتا ہے تو اُسے وہاں ریت کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ اسی کو سراب یا آنکھ کا دھوکا کہتے ہیں ۔ حامد میر کے مطابق عمران خان ایک نیا پاکستان بنانے کا نعرہ لگا کر حکومت میں آئے تھے۔ وہ ظلم و ناانصافی کے شکار بہت سے مظلوموں کے لئے اُمید کی ایک کرن تھے لیکن جس طریقے سے اُنہیں حکومت میں لایا گیا اور پھر جس طرح انہوں نے پرانے پاکستان کے پرانے چہروں کو اکٹھا کرکے حکومت بنائی تو پہلے چھ ماہ میں ہی پتا چل گیا کہ انکی حکومت ایک سراب سے ذیادہ کچھ نہیں ہے۔ اس دوران عمران کو ریاستی اداروں کا بھرپور تعاون حاصل تھا۔ لیکن اُنہوں نے اس تعاون کے ذریعے عوام کے مسائل حل کرنے پر زیادہ توجہ نہیں دی بلکہ ایک طرف اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع کیں تو دوسری طرف عدلیہ اور میڈیا پر دبائو ڈالنا شروع کر دیا۔ ابھی اُن کی حکومت کا ایک سال پورا نہیں ہوا تھا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے عمران خان کے خلاف مظاہرے شروع کر دیے۔
حامد میر یاد دلاتے ہیں کہ ستمبر 2020 میں پاکستان بار کونسل نے اسلام آباد میں ایک آل پارٹیز کانفرنس کا اہتمام کیا جس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمٰن اور بہت سے دیگر رہنما شریک ہوئے۔
کچھ دنوں بعد 20ستمبر 2020کو اسلام آباد میں ایک اور آل پارٹیز کانفرنس ہوئی جس میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے نیا سیاسی اتحاد معرضِ وجود میں آیا۔ اِس اتحاد کی 26نکاتی قرارداد میں کھل کر مطالبہ کیا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت بند کرے، عدلیہ پر دبائو ختم کیا جائے اور میڈیا پر عائد پابندیاں ہٹائی جائیں۔ پی ڈی ایم کا قیام اور اُس کی 26نکاتی قرارداد مقتدر حلقوں کے لئے غیرمتوقع تھی۔ حکومت کے وزراء نے پی ڈی ایم کو غیرملکی طاقتوں کا آلہ کار قرار دے کر بوکھلاہٹ کا ثبوت دیا اور کچھ ہی دنوں بعد 28 ستمبر 2020کو اپوزیشن لیڈر شہباز شریف گرفتار کر لئے گئے۔ اس گرفتاری نے مفاہمت کے بیانیے کا خاتمہ کر دیا اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت مریم نواز کے ہاتھ میں آ گئی۔ پھر 17 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں پی ڈی ایم کے پہلے جلسے میں نواز شریف نے وڈیو لنک سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ فوجی قیادت پر بھرپور تنقید کی۔ پی ڈی ایم کا اگلا جلسہ کراچی میں تھا۔ یہ بھی ایک بڑا جلسہ تھا جس کی میزبان پیپلز پارٹی تھی۔ لیکن اِس جلسے کے بعد پیپلز پارٹی کا لب و لہجہ بدلنے لگا۔ پیپلز پارٹی نے تحریک عدم اعتماد کی بات شروع کر دی اور مسلم لیگ (ن) اسمبلیوں سے استعفوں پر زور دینے لگی۔
حامد میر کے مطابق اس کے بعد اپوزیشن اتحاد کے اندر مولانا فضل الرحمٰن اور مسلم لیگ ن نے ایک خفیہ اتحاد بنا لیا۔ پی ڈی ایم نے یکم فروری کو لانگ مارچ کا اعلان کرنا تھا لیکن یہ اعلان چار فروری تک ملتوی ہو گیا لہٰذا میڈیا کے ایک حصے سمیت وفاقی وزراء اور ترجمانوں کی فوج نے پی ڈی ایم کو ناکام قرار دے دیا۔
یقیناً پی ڈی ایم کی حکمتِ عملی میں بہت سے نقائص تھے اور پی ڈی ایم بھی فی الحال ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں لیکن عمران خان کی حکومت اس سراب سے بھی اتنی خوفزدہ تھی کہ 13؍دسمبر کو لاہور میں پی ڈی ایم کے جلسے سے ایک دن قبل شیخ رشید احمد کو وزیر داخلہ بنا دیا گیا۔ شیخ صاحب مانیں نہ مانیں لیکن اُنہیں وزیر داخلہ عمران خان نے نہیں پی ڈی ایم نے بنایا ہے۔ حامد میر کہتے ہیں کہ اب بھی غالب امکان یہ ہے کہ پی ڈی ایم سینیٹ الیکشن کے بعد لانگ مارچ بھی کرے گی اور استعفوں کا آپشن بھی ختم نہیں ہوگا لیکن جیسے ہی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے سینیٹ کے الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا تو عمران خان نے سینیٹ الیکشن سیکرٹ بیلٹ کی بجائے اوپن بیلٹ سے کرانے کے لئے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کر دیا۔ دراصل یہ ریفرنس کسی انجانے خوف کا اظہار تھا۔ پھر سیکرٹ بیلٹ ختم کرنے کے لئے آئین میں ترمیم کا اعلان ہوا۔ اس سلسلے میں مقتدر حلقوں سے مدد مانگی گئی لیکن انہوں نے معذرت کر لی تو عمران خان نے کسی بڑے اَپ سیٹ سے بچنے کے لئے پنجاب میں چوہدری پرویز الٰہی کے سامنے سرنڈر کر دیا۔ یوں چوہدری برادران اپنے پرانے ساتھی کامل علی آغا کو تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کا مشترکہ امیدوار بنوانے میں کامیاب رہے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ کامل علی آغا کو سینیٹ کا ٹکٹ عمران خان کی مہربانی سے نہیں مجبوری سے ملا ہے اور مجبوری کا نام پی ڈی ایم ہے۔ وہ عمران خان جو حکومت میں آنے سے پہلے کہتے تھے کہ اراکینِ اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے سے کرپشن بڑھتی ہے، اب اپنی مجبوریوں کی وجہ سے اراکینِ اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز بھی دے رہے ہیں۔ انکا کہنا یے کہ عمران خان نے کبھی فارن فنڈنگ کیس کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا لیکن پی ڈی ایم کے دبائو پر یہ کہتے دکھائی دیے کہ اِس کیس کی سماعت ٹی وی کیمروں کے سامنے کر لی جائے۔ لیکن اب الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کے وکیل نے تحریری طور پر عمران کی اس پیشکش سے اعلانِ لاتعلقی کر دیا ہے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ عمران خان کے ترجمان پی ڈی ایم کو کچھ بھی کہیں لیکن اگر وہ اپوزیشن اتحاد کی 26نکاتی قرار داد کو پڑھیں تو اُنہیں پتہ چلے گا کہ اِدھر عاصم سلیم باجوہ کا نام اس قرارداد میں آیا تو اُدھر انہوں نے مشیر اطلاعات کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اِدھر فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردسر کا ذکر قرارداد میں آیا تو اُدھر عمران خان سے کہا گیا کہ اب وہ چوہدری پرویز الٰہی سے اپنے معاملات خود طے کریں اور پھر خان کو چوہدریوں کے سامنے سرنڈر کرنا پڑا۔ حامد میر کہتے ہیں کہ آج کل خان صاحب بار بار پرویز مشرف پر تنقید کر رہے ہیں۔ نجانے وہ کس خوف کا شکار ہیں۔ پی ڈی ایم کی کمزور حکمت عملی کے باعث عمران خان کی حکومت تو قائم ہے لیکن عمران خان کی اپنی غلطیوں کے باعث تحریک انصاف ماضی کا قصہ بن چکی۔
آئین کے اندر ایسا بہت کچھ ہو سکتا ہے کہ عمران خان سے بہت کچھ چھن جائے۔ پھر تاریخ میں یہی لکھا جائے گا کہ ایک تھی تحریک انصاف۔
