کپتان کی حکومت میں صحافیوں کے قتل اور اغوا کے نئے ریکارڈ


وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ملک میں آزادی صحافت اور صحافیوں کے تحفظ کے دعوؤں کے برعکس گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران پاکستان میں سات صحافی قتل اور چھ اغوا ہوئے جبکہ 16 کے خلاف مقدمات درج ہوئے اور ہزاروں بے روزگار ہو چکے ہیں۔
صحافیوں کے تحفظ کے لیے سرگرم ایک غیر سرکاری تنظیم فریڈم نیٹ ورک نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں پاکستان میں آزادی اظہار رائے اور صحافیوں کے تحفظ کے حکومتی دعوؤں کو بے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ستمبر 2018 سے جنوری 2020 کے درمیان یعنی 17 ماہ میں سات صحافی قتل ، چھ اغوا جبکہ 15 کے خلاف مقدمات درج ہوئے۔ لیکن اس مدت کے دوران ہونے والے وفاقی کابینہ کے 62 اجلاسوں میں صحافیوں کو درپیش خطرات پر کبھی کوئی بات نہیں کی گئی۔
پاکستانی میڈیا کی آزادی کے حوالے سے کپتان سرکار کا دور اقتدارحکومتی اور ریاستی ہتھکنڈوں کے بے جا استعمال کی وجہ سے ہولناک سال ثابت ہوا جس میں آزاد میڈیا کو غلام بنانے کیلئے تمام اوچھے ہتھکنڈے استعال کئے گئے۔ کپتان کی زیر قیادت میڈیا پر جبری سینسر شپ کے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے گے۔ صحافیوں پر قاتلانہ حملے کروائے گئے، بے بنیاد کیسز بنا کر حراست میں رکھا گیا اور انہیں ریاست کا تابع فرماں بنانے کے لیے پیمرا کے ساتھ ساتھ دیگر ریاستی اداروں کو بے دریغ استعمال کیا گیا۔ موجودہ حکومتی روش کے پیش نظر ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے دن صحافت کے لئے مزید مہلک ثابت ہوسکتے ہیں۔
تاہم اب غیر سرکاری تنظیم فریڈم نیٹ ورک نے دعویٰ کیا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ صحافیوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔ صحافیوں پر عائد اظہار رائے کی پابندیوں کے علاوہ ان کے خلاف مقدمات درج کر کر انھیں روکا جا رہا ہے جبکہ بعض صحافی ناکردہ جرم کی سزا میں موت کی وادی میں بھی پہنچا دئیے گئے ہیں لیکن مقام افسوس یہ ہے کہ حکومت نہ صرف صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے بلکہ صحافیوں کے حقوق اور جان و مال کا تحفظ ان کی ترجیحات میں ہی شامل نہیں، روپرٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں یکم ستمبر، 2018 سے لے کر 30 جنوری، 2020 تک منعقد ہونے والے وفاقی کابینہ کے 62 اجلاسوں میں کسی ایک میں بھی صحافیوں کے تحفظ کے مسئلے پر بات نہیں ہوئی۔ فریڈم نیٹ ورک کے مطابق انھوں نے فروری 2020 میں آئین کے آرٹیکل 19-اے کے معلومات تک رسائی کے ایکٹ 2017 کے تحت معلوم کرنے کی کوشش کی تھی کہ کابینہ نے کتنی مرتبہ صحافیوں کے تحفظ سے منسلک معاملات کو دیکھا۔تنظیم کو حاصل معلومات کے مطابق وفاقی کابینہ کے 62 اجلاسوں میں ایک دفعہ بھی صحافیوں کے تحفظ یا میڈیا کے خلاف پروپیگنڈا پر بات نہیں کی گئی جبکہ اس دوران سات صحافیوں کا قتل، چھ صحافیوں کو اغوا، 15 کے خلاف مقدمے درج ہوئے اور کل ملا کر 135 خلاف ورزیاں درج ہوئیں۔
فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اقبال خٹک کے مطابق وفاقی کابینہ کی طرف سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق وزیر اعظم صحافیوں کے بارے میں رونما ہونے والے واقعات سے بے خبر تھے اور افسوس کی بات ہے کہ اتنے واقعات ہو جانے کے باوجود حکومت صحافیوں کے تحفظ کے لیے کوئی بھی ایکشن نہیں لے سکی ہے اور صحافیوں کے خلاف جرائم کرنے والے قصور وار ابھی بھی آزاد پھر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک پاکستان صحافیوں کے حقوق اور انہیں تحفظ نہیں پہنچا سکتا اس وقت تک وہ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف نمبر 10۔16 پر پورا نہیں اتر سکے گا، جو کہتا ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ ’پاکستان کو پوری کوشش کرنی چاہیے کہ وہ ایس جی ڈی نمبر 10۔16 پر پورا اترے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کو فوری طور پر صحافیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کرنی چاہیے تاکہ قصور واروں کو عدالت کے کٹہرے تک پہنچایا جا سکے۔
صحافیوں کی درپیش مشکلات کا سلسلہ تاحال تھما نہیں۔ حالیہ دنوں میں چئیرمین سی پیک اتھارٹی جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کے خاندان کے اثاثوں کا سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد ریاستی اداروں کی جانب سے صحافیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں میں تیزی آ گئی ہے اور کم و بیش تین سینئیر صحافیوں کیخلاف غداری کے مقدمات درج کئے گئے ہیں جن میں ابصار عالم، بلال فاروقی اور اسد علی شامل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب سے کپتان سرکار نے اقتدار سنبھالا ہے پاکستانی میڈیا شدید جبر اور پابندیوں کا شکار ہے۔ پہلے پہل تو ٹی وی چینلز پر صحافیوں کی زبان بندی کی گئی، بعد ازاں ان کو دن دیہاڑے اغواء کرنے کے واقعات رونما ہوئے جبکہ اب سوشل میڈیا پر اپنی آزادانہ رائے کا اظہار کرنے والے صحافیوں کے خلاف غداری کی ایف آئی آرز درج کروائی جا رہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button