کپتان کی حکومت کون سے ریٹائرڈ فوجی افسران چلا رہے ہیں؟


وزیراعظم عمران خان کی وفاقی اور پنجاب کابینہ سے لیکر اہم ترین سرکاری عہدوں پر فائض درجنوں لوگ ریٹائیرڈ فوجی افسران ہیں جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ کپتان حکومت کی فیصلہ سازی میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کا اہم ترین کردار ہے۔ اس صورتحال میں اگر اپوزیشن یہ الزام لگائے کہ عمران خان فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر بیٹھ کر اقتدار میں آئے ہیں تو یہ کوئی اتنا غلط نہ ہو گا۔
سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے دور سے فوج سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ افسران کو سویلین اداروں میں کھپانے کا جو کلچر شروع ہوا وہ آج تک ختم نہیں ہو سکا۔ جب 1999 میں جنرل مشرف نے مسلم لیگ ن کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تو اس وقت صرف صوبہ پنجاب میں ہی صوبائی حکومت کے 28 میں سے 23 محکموں میں اعلیٰ سول عہدوں پر 70 سے زیادہ فوج کے ریٹائرڈ افسران کو تعینات کیا گیا تھا۔ آج اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے تحریک انصاف حکومت نے کئی اہم محکموں میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران کو سربراہ لگا رکھا ہے۔ ان افسران میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل سے لیکر کیپٹن تک کے عہدے کے افسران شامل ہیں۔ بعض عہدوں پر سابق ایئر مارشل اور سکوارڈرن لیڈر بھی اہم ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
آئی ایس آئی پنجاب کے سابق سربراہ اور پھر انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ کے فرائض سرانجام دینے والے موجودہ وفاقی ‏وزیر داخلہ بریگیڈیئر اعجاز شاہ اب تحریک انصاف کے ٹکٹ پر اسمبلی میں پہنچے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کئی مہینے وزارت داخلہ کا قلمدان اپنے پاس رکھا اور پھر نہ جانے کس کی فرمائش پر یہ اہم وزارت بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کے حوالے کردیا، اعجاز شاہ ان دنوں انسدادِ منشیات کی وزارت چلا رہے ہیں۔
سابق وفاقی ‏سیکریٹری داخلہ میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان کو پہلے پنجاب کے چیف سیکرٹری لگایا گیا ریٹائرمنٹ کے بعد محستب پنجاب لگا دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اعظم سلیمان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بیچ میٹ ہیں اور جنرل باجوہ کی سفارش پر ہی انہیں پنجاب کا چیف سیکریٹری بلکہ ڈی فیکٹو وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا۔
‏عمران خان کی جانب سے لگائے جانے والےسابق اٹارنی جنرل پاکستان انور منصورخان کا تعلق بھی پاک آرمی سے رہا ۔ بطور کیپٹن ریٹائرمنٹ لے کر انہوں نے قانون کی موشگافیوں میں مہارت حاصل کی اور پھر تحریک انصاف حکومت کا حصہ بن کر عمران خان اینڈ کمپنی کو اپنے قیمتی قانونی مشوروں سے نوازا۔ سابق صدر مشرف کو بچانے کے لئے اٹارنی جنرل انور منصور خان اور وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کی جوڑی بڑی مہارت سے قانونی چالیں چلیں لیکن مشرف کو غداری کے جرم میں تین بار سزائے موت سنانے والی خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ پر تنقید کے بعد حکومت نے انہیں گھر بھجوادیا تھا۔
افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کے نئے ڈی جی میجر جنرل بابر افتخار سرکاری ٹی وی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا بھی حصہ ہیں۔ اسی طرح آئی ایس پی آر کے سابق سربراہ اور سابق کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کو چیئرمین سی پیک اتھارٹی لگایا گیا اور ساتھ ہی وزیراعظم کے معاون خصوصی کا عہدہ بھی دے دیا گیا تاہم فیکٹ فوکس کی جانب سے ان کے اور کی فیملی کے بیرون ملک اثاثوں اور بزنس ایمپائر کا بھانڈہ پھوڑنے کے بعد عاصم باجوہ نے معاون خصوصی کی حیثیت سے استعفی دے دیا تاہم غیر قانونی طور پر بدستور سی پیک کی سربراہی کرر ہے ہیں۔ خیلار رہے کہ جنرل ر عاصم سلیم کا شمار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔
بہت سے اعلیٰ فوجی افسران کو ریٹائرمنٹ کے بعد مختلف ممالک میں سفرا کے طور پر تعینات کیا ہے۔ وائس ایڈمرل ریٹائرڈ اطہر مختار مالدیپ میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ حال ہی میں سابق لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر کو سفیر سعودی عرب کے لئے سفیر نامز د کیا گیا ہے۔میجر جنرل ریٹائرڈ عمر فاروق برکی ،اردن میں میجر جنرل ریٹائرڈ عبدالعزیز طارق ،برونائی میں جبکہ میجر جنرل ریٹائرڈ محمد خالد راو بوسنیا میں سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔تعلیمی اداروں میں بھی کئی سابق جرنیل خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جامعہ کشمیر کی وائس چانسلرشپ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) محسن کمال کے پاس ہے۔ریکٹر لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ جاوید محمود بخاری نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وی سی ہیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی جیسے اہم ادارے کا چیئرمین بھی ایک ریٹائرڈ فوجی جرنیل ہے۔ اس وقت میجر جنرل ریٹائرڈ عامر عظیم پی ٹی اے کے چیئرمین کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔‏ چیئرمین پی آئی اے کا عہدہ پاک فضائیہ کے ریٹائرڈ ایئر مارشل ارشد محمود ملک کے پاس ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں قومی ایئرلائن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ ڈائیریکٹر سول ایوی ایشن اتھارٹی کا عہدہ بھی پاک فضائیہ کے ریٹائرڈ سکوڈرن لیڈر شاہ رخ نصرت کے پاس ہے۔ اسی ادارے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل تنویر اشرف بھٹی پاک فضائیہ میں بطور ایئر وائس مارشل خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ایئر کموڈور سید ناصر رضا ہمدانی ہیں۔فلائٹ لیفٹننٹ ریٹائرڈ خاقان مرتضی، ڈائیریکٹر سول ایوی ایشن اتھارٹی کے عہدے پر پراجمان ہیں۔چئیرمین ہیوی انڈسٹری کمپلیکس ٹیکسلا کا عہدہ میجر جنرل سید عامر رضا کے پاس ہے جبکہ کرنل عقیل احمد بطورسیکریٹری بورڈ کام کر ر ہے ہیں۔ اسی طرح لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ آصف ممتاز کے پاس چئیرمین پاکستان میڈیکل کمیشن کا عہدہ ہے۔
سابق تھری سٹار جنرل لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین اس وقت واپڈا کے چیئرمین ہیں۔ملک میں منشیات کی روک تھام کے لیے کام کرنے والے ادارے اینٹی نارکوٹکس فورس کے ڈائریکٹر جنرل کا ‏عہدہ ایک حاضر سروس آرمی آفیسر میجر جنرل عارف ملک کے پاس ہے۔ اسی طرح ائیر پورٹ سیکیورٹی فورس کی کمان بھی حاضر سروس ٹوسٹار آرمی آفیسر میجر جنرل ظفر الحق کے پاس ہے۔میجر جنرل قیصر انیس خرم، ڈائیریکٹر سپارکو جبکہ لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) محمد اعجاز چوہدری وزارت دفاعی پیداوار کے سیکرٹری ہیں۔ وفاق کی سطح پر سویلین آسامیاں پر کرنے کے سب سے بڑے ادارے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین کیپٹن ریٹائرڈ زاہد سعیدکا تعلق بھی فوج سے رہا ہے۔ ‏اس کے علاوہ میجر جنرل ر سید عابد حسن اس کمیشن کے اراکین میں شامل ہیں۔پنجاب پبلک سروس کمیشن کی سربراہی ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مقصود احمد کے سپرد کی گئی ہے جبکہ میجر جنرل ریٹائرڈ مسرت نواز ملک اس وقت پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ممبران ہیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کی سربراہی تھری سٹار حاضر سروس جرنیل لیفٹینٹ جنرل اختر نواز کررہے ہیں۔بریگیڈئیر وسیم الدین اس ادارے کے ممبر آپریشنز،کرنل عبدالشکور، ڈائریکٹر ایڈمن جبکہ میجر نعمان الحق ڈائریکٹر ریسپانس ہیں۔ڈائریکٹر امپلیمنٹیشن کا عہدہ لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ رضا اقبال، ڈپٹی ڈائریکٹر ریسپانس لیفٹننٹ کموڈور محمد سلیمان، ڈائریکٹر پروکیورمنٹ، سکوارڈن لیڈر محمد قاسم اور ڈپٹی ڈائریکٹر ریکوری میجر ذیشان حیدر ہیں۔ یہی نہیں بلکہ تحریک انصاف کے انتخابی منشور میں شامل بڑے وعدے یعنی 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبے نیا پاکستان ھاؤسنگ پراجیکٹ کی نگرانی ایک سابق آرمی آفیسر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سید انورعلی حیدر کے سپرد کی گئی ہے۔اس ادارے کے ڈپٹی چئیرمین، میجر جنرل عامر اسلم خان، ڈائریکٹر ایڈمن بریگیڈئیر ناصر منظور ملک اور ڈائریکٹر کوارڈینیشن لیفٹیننٹ کرنل حافظ محمود سلطان ہیں۔
خلائی تحقیق کے لیے کام کرنے والے ادارے سپارکو کے انتظامی معاملات دیکھنے کی ذمہ داری حاضر سروس ٹو سٹار جنرل میجر جنرل عامر ندیم کو سونپی گئی ہے۔ ‏2005 کے زلزلے سے متاثر ہونے والوں کی بحالی کے لیے قائم کیے گئے ایرا اتھارٹی کے انتظامی سربراہ حاضر سروس تھری سٹار لیفٹیننٹ جنرل عمر محمود حیات ہیں جبکہ سٹیل ملز کےچئیرمین ایک سابق بریگیڈئیر شجاع حسن ہیں۔
‏آئی جی ریلویز پنجاب عارف نواز نے بھی فوج سے پروفیشنل کیرئیر کا آغاز کیا اور بطور کیپٹن ریٹائرمنٹ لے کر پولیس سروس پاکستان کا حصہ بنے ہیں جبکہ بریگیڈئیر امجد علی ڈائریکٹر جنرل ویجیلینس پاکستان ریلوے کے طور پر کام کررہے ہیں۔ جعلی ڈگری سکینڈل میں ملوث نیب لاہور کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل ریٹائیرڈ شہزاد سلیم کا تعلق بھی آرمی سے ہے۔اسی طرح وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی کابینہ میں دو سابق کرنل بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔صوبائی وزیر برائے پاپولیشن ویلفیئر کرنل ریٹائرڈ ہاشم ڈوگر اور صوبائی وزیر برائے ریونیو کرنل ریٹائرڈ ملک محمد انور کا بھی فوجی بیک گراؤنڈ ہے۔
کھیلوں کے سرکاری اداروں میں بھی بڑی تعداد میں ریٹائرڈ اور حاضر سروس جرنیل اور دیگر اعلیٰ عہدیدار کام کرر ہے ہیں۔ تیراندازی ٹیم کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سید عارف حسن جبکہ ایتھلیٹکس کمیٹی کے سربراہ میجر جنرل ریٹائرڈ اکرم ساہی ہیں۔ باسکٹ بال کے معاملات بریگیڈیئر ریٹائرڈ افتخار منصور کے سپرد کئے گئے ہیں۔ گالف کے کھیل سے متعلق معاملات لیفٹیننٹ جنرل میاں محمد ہلالہ دیکھ رہے ہیں۔ اسی طرح بریگیڈیئر ریٹائرڈ خالد سجاد کھوکھر قومی کھیل ہاکی،ایڈمرل ظفر محمود عباسی شوٹنگ، ایڈمرل محمد امجد خان نیازی کشتی رانی اور ایئر مارشل عاصم ظہیر سکیئنگ سے متعلقہ اداروں کے سربراہان ہیں۔ اسی طرح ایئرچیف مارشل مجاہد انور خان سکواش، میجر ریٹائرڈ ماجد وسیم سوئمنگ،لیفٹیننٹ کرنل وسیم احمد تائیکوانڈو اور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین واپڈا کے علاوہ باکسنگ فیڈریشن کے معاملات بھی دیکھ رہے ہیں۔
ایک سویلین حکومت میں اتنے ڈھیر سارے فوجی افسران کو اہم عہدوں ہر فائز دیکھ کر تو یہی تاثر ملتا ہے کہ یہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کی حکومت ہے، لوگوں کی نمائندہ حکومت نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button