کپتان کی فراغت کے بعد کا سیاسی منظر نامہ کیسا ہوگا؟


اگرچہ اپوزیشن کی وزیر اعظم عمران خان کے خلاف دائر تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں، تاہم سیاسی مبصرین کے خیال میں کپتان کی چھٹی کے بعد بھی ملک میں سیاسی عدم استحکام برقرار رہے گا بلکہ اگر کپتان نے سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کیا تو کشیدگی میں اضافہ ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف میں دراڑیں پڑ جانے کے بعد پارٹی کے اندرونی خلفشار میں بھی اضافے کا امکان ہے۔ تاہم سب سے بڑا مسئلہ کپتان حکومت کی ناکامی سے جنم لینے والا معاشی بحران ہے جس پر قابو پانا اگلی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
خیال رہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک نواز شریف اور آصف زرداری کپتان حکومت ہٹا کر اقتدار کا پھندا اپنے گلے میں ڈالنے سے مکمل طور پر انکاری تھے کیونکہ معاشی بحران اتنا سنگین ہے کہ اس پر کوئی بھی حکومت فوری قابو نہیں پا سکتی۔ تاہم اب اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں اس بحران پر قابو پانے کے لیے پر عزم ہیں۔
سینیئر اینکر پرسن ماریہ میمن اپنی تازہ تحریر میں کہتی ہیں کہ آر یا پار کا وقت قریب ہے۔ سیاست سے بات اب حکومت تک آ چکی ہے۔ ایسے میں این ترین سوال یہ ہے کہ اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو کیا نقشہ ہوگا؟ اور اگر تحریک ناکام ہوئی تو کیا وزیر اعظم اسی جارحیت سے مخالفوں کا علاج کریں گے جس کا انہوں نے دعویٰ کیا ہے؟ کیا تحریک عدم اعتماد سے اپوزیشن مضبوط گی یا اپنی رہی سہی طاقت بھی کھو دے گی؟ ان سوالوں کے جواب اب ہفتوں نہیں بلکہ دنوں میں ملنے والے ہیں۔
اگر حالیہ صورتحال کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہے کہ تحریک عدم اعتماد کا آنا بقول پی ٹی آئی کی پسندیدہ مثال کہ ایک سونامی سے کم نہیں۔ سب سے پہلے پی ٹی آئی کے اتحادی کھل کر سامنے صف آرا نظر آتے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے تاحال حتمی فیصلہ نہیں کیا کہ وہ حکومت کے ساتھ ہیں یا نہیں بہرحال اسی تاخیر میں حکومت کی کمزوری عیاں ہے اور صاف نظر آتا ہے کہ اتحادی اب کپتان کے ساتھ مزید نہیں چلنا چاہتے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اتحادی جماعتیں عمران کا ساتھ چھوڑنے پر آمادہ ہو چکی ہیں اور اعلان کے لیے مناسب موقع کی تلاش میں ہیں۔ حکومت کے وزیر، ایم این اے اور ایم پی اے کھل کر اپوزیشن سے مل رہے ہیں اور حکومت کے پاس ان کی خوشامد کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ کوئی حکومتی وزیر ق لیگ قیادت کی کھلی دھمکیاں کا جواب نہیں دے رہا۔ دوسری طرف حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کا پیپلز پارٹی سے معاہدہ اب تحریری شکل اختیار کر رہا ہے۔ بلوچستان میں بھی سیاسی جوڑ توڑ عروج پر ہے اور باپ والے بھی اپوزیشن سے ہاتھ ملانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب بقول ماریہ میمن، پنجاب میں پی ٹی آئی ایم پی ایز کے گروپس کی تعداد اتحادی پارٹیوں سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ باغی اراکین کی جانب سے کھلے عام اپوزیشن سے ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ نواز شریف سے لندن پہنچ کر ملاقات کرنے والے لیڈر پر بھی کوئی تنقید نہیں ہو رہی۔ اس صورتحال کو اگر سنگین نہ کہا جائے تو یہ حقائق سے نظر چرانے کے مترادف ہو گا۔ لیکن دوسری جانب حکومت کو اب بھی اپنے اقتدار میں رہنے کا یقین ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق اپوزیشن کی تحریک نے ناراض ارکان کو بارگیننگ کا ایک موقع فراہم کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ بارگیننگ پنجاب کے سطح پر ہو جائے گی اور اس کے بعد سب کچھ نارمل ہو جائے گا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومت سپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے اپنے ان اراکین اسمبلی کو وزیر اعظم کے خلاف ووٹ ڈالنے سے روک لے گی اور اتحادی بھی اقتدار میں اپنا حصہ بڑھا کر حکومتی کیمپ میں ہی رہیں گے۔ ویسے بھی الیکشن قریب ہیں اس لیے حکومت کو ان کے صرف ووٹ چاہیں باقی وہ اپنی سیاست جیسے بھی کریں۔
ماریہ میمن کہتی ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اپوزیشن نے اب تک کا سب سے مضبوط چیلنج حکومت کو دیا ہے مگر آگے کا نقشہ ابھی تک واضح نہیں۔ حکومت مخالف تحریک میں سب شوق شوق سے اکٹھے چلتے ہیں مگر حکومت چلانے میں مفادات کا ٹکراؤ ہوتا ہے۔ اگر عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو اگلی حکومت ایک دوہری مخلوط حکومت ہو گی۔ اس میں اس حکومت کے اتحادی بھی شامل ہوں گے اور پی ڈی ایم کے اپنے اتحادی پہلے سے موجود ہوں گے۔ پھر اس کی مدت کے بارے میں بھی وضاحت ابھی تک نہیں ہوئی۔ کئی قیاس آرائیاں ہیں۔ فوری الیکشن سے لے کر مدت پوری کرنے تک کئی آپشنز ہیں۔ اسی غیریقینی صورتحال کے بارے میں تشویش تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اور اس تشویش کا احساس صرف پارلیمنٹ میں ہی نہیں بلکہ ایوان سے باہر بھی ہو گا۔ بقول ماریہ میمن بآر یا پار جو بھی ہو، سیاسی عدم استحکام برقرار رہے گا۔ پی ٹی آئی کا اندرونی خلفشار بھی برقرار رہے گا اور ن لیگ کی دہری سیاسی حکمت عملی بھی۔ معاشی اور گورننس کے مسائل اپنی جگہ جن کی کوئی اونر شپ نہیں لینا چاہتا۔ اس لیے مصدقہ خبروں کی عدم موجودگی میں قیاس آرائیاں ہی جاری ہیں مگر اب آر یا پار میں تھوڑے ہی دن ہیں۔

Back to top button