کپتان کی چیئرمین نیب کو جنسی ہراسانی کیس میں کلین چٹ

چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال پر جنسی ہراسانی کا الزام لگاتے ہوئے انکی اخلاق باختہ ویڈیوز اور آڈیوز بطور ثبوت فراہم کرنے والی خاتون طیبہ گل کی داد رسی کی اپیل وزیر اعظم عمران خان نے کمال چالاکی سے خارج کر دی جس پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ ہو گیا۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم آفس کی جانب سے چیئرمین نیب کے خلاف ثبوتوں پر مبنی درخواست خارج کرنے سے ان الزامات کو تقویت ملتی ہے کہ کپتان اینڈ کمپنی جسٹس جاوید اقبال کو طیبہ گل کی فراہم کردہ متنازعہ ویڈیوز اور آڈیوز کی بنیاد پر بلیک میل کرکے حزب اختلاف کی قیادت کا رگڑا نکال رہے ہیں لہذا چیئرمین نیب کو جنسی ہراسانی کے الزامات پر وزیر اعظم کی جانب سے کلین چٹ مل جانا لازمی تھا۔ طیبہ گل کی جانب سے وزیراعظم شکایات سیل میں جمع کروائی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ نیب چیئرمین جسٹس جاوید اقبال میرے اور میرے شوہر کے خلاف جھوٹے مقدمات صرف اس لیے بنوا رہے ہیں کہ میں نے ان کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرنے سے انکار کیا۔
واضح رہے طیبہ گل نامی خاتون کا نام 17 مئی 2019 کو میڈیا میں اس وقت سامنے آیا تھا جب چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے خلاف ایک مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ یہ نازیبا ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد چیئرمین نیب کے استعفے کا مطالبہ بھی زور پکڑ گیا تھا تاہم انھوں نے تمام الزامات مسترد کیے اور اسے اپنے خلاف پراپیگنڈہ قرار دیا۔ لیکن جسٹس جاوید اقبال نے ویڈیو اور آڈیو میں خاتون کے ساتھ کی جانے والی نہایت نازیبا اور گندی گفتگو کے حوالے سے کوئی وضاحت نہیں دی جس میں وہ دعوت گناہ دیتے بھی سنائی دیے۔
یہ جنسی سکینڈل سامنے آنے کے بعد طیبہ گل نے میڈیا کو بتایا تھا کہ اس کی جسٹس جاوید اقبال سے پہلی ملاقات لاپتہ افراد کمیشن میں اپنے شوہر کے ساتھ ہوئی۔ طیبہ فاروق کے مطابق ان کے شوہر بزنس مین ہیں اور وہ خود قانون کی طالبہ ہیں۔ ان کے شوہر کی چچی گم شدہ افراد میں شامل ہیں۔ طیبہ کا موقف ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ہمراہ ان کی چچی کی بازیابی کے لئے مسنگ پرسن کمیشن کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال سے ملنے گئی تھیں۔ طیبہ نے الزام لگایا کہ اس ملاقات کے دوران جسٹس (ر) جاوید اقبال نے ان کے شوہر کی موجودگی میرا فون نمبر لے لیا۔ اس کے بعد جاوید اقبال مجھے ہراساں کرتے رہے اور اپنے گھر اور اسلام آباد کلب میں ملنے کا کہتے رہے۔
انکا کہنا تھا کہ میں نے چیئرمین نیب کے غیر اخلاقی مطالبات نہیں مانے تو مجھ پر اور میرے شوہر پر مقدمات قائم کیے گئے حالانکہ میں نے یا میرے شوہر نے نہ تو کبھی کوئی کرپشن کی اور نہ کسی کو دھوکہ دیا۔ مجھے شوہر سمیت بلاوجہ طور پر گرفتار کیا گیا۔ طیبہ کا کہنا تھا کہ پندرہ جنوری 2019 کی صبح میرے شوہر کو نیب نے اسلام آباد سے اٹھا لیا۔ اسی رات نیب نے رات ساڑھے 12 بجے مجھے بھی اٹھا لیا۔ ہمیں موٹر وے کے ذریعے نیب لاہور لے جایا گیا جہاں میرے کپڑے اتار کر اور برہنہ کر کے تلاشی لی گئی۔ اگلے دن سہ پہر چار بجے ہمیں عدالت میں پیش کیا گیا جسکے بعد مجھے نیب عدالت نے جیل بھجوا دیا۔ طیبہ کے مطابق 2 مئی 2019 کو ضمانت پر میری رہائی ہوئی لیکن میرا شوہر جیل میں تھا۔ چیئرمین نیب کے ایما پر ہمارے خلاف 56 جھوٹی درخواستیں فائل کروائی گئیں۔ میرے بینک اکاونٹ میں صرف پانچ لاکھ روپے تھے جبکہ میرے شوہر کے اکاونٹ میں ایک کروڑ 30 لاکھ روپے کی رقم تھی۔طیبہ فاروق کا کہناتھا کہ میرا شوہر بزنس مین ہے جسکی رہائی کے لیے تنگ آ کر میں نے زبان کھولی جس کی پاداش میں میرے خلاف بے بنیاد مقدمات درج کرا دیے گئے۔چھ اپریل 2021 کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کی جانب سے ایک سوال کے جواب پر ایوان کو بتایا گیا کہ وزیر اعظم ہاؤس نے نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی طرف سے طیبہ گل اور ان کے اہلخانہ کو ہراساں کرنے کی شکایت کو خارج کردیا ہے۔ اپوزیشن اراکین نے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کے بیان پر سخت تنقید کی، جنہوں نے معاملے کو پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کرنے کے مطالبے کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ یہ بھی الزام لگایا کہ اپوزیشن ارکان اس معاملے کو صرف نیب پر دباؤ ڈالنے کے لیے اٹھا رہے ہیں جو ان کی قیادت کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کی سماعت کررہا ہے۔
واضح رہے کہ چیئرمین سے متعلق شکایت پر کارروائی کا معاملہ قومی اسمبلی میں اس وقت ایک بار پھر زیر بحث آیا جب پیپلزپارٹی کے ایم این اے عبدالقادر پٹیل نے نیب کے چیئرمین کے خلاف طیبہ نامی خاتون کی وزیر اعظم آفس کے پاکستان سٹیزن پورٹل یا پی سی پی پر مئی 2019 میں پوسٹ کی گئی شکایت کے بارے میں سوال کیا۔ قادر پٹیل نے الزام لگایا کہ حکومت شکایت کنندہ کو غلط جواب دے رہی ہے کیونکہ خاتون کو بتایا گیا تھا کہ اس کی شکایت وزارت انسانی حقوق کو بھیج دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاتون کی جانب سے 10 مئی 2019 کو پی سی پی پر شکایت درج کی گئی تھی اور نیب کے چیئرمین کی متنازع آڈیوز جسکے بعد ویڈیوز 17 مئی کو مین اسٹریم اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھیں۔ پپٹیل نے کہا کہ نیب کے چیئرمین نے ایک نیوز کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ انہیں خاتون اور اس کے شوہر کے ذریعے بلیک میل کیا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘میرے تین سوالات ہیں، پی سی پی اس ویڈیو کو کیسے لیک کرسکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہاں کیوں غلط جواب داخل کیا گیا اور اب خاتون کو انصاف کے حصول کے لیے کہاں جانا چاہیے؟
وزیرمملکت علی محمد خان کی جانب سے قادر پٹیل کو تحریری جواب میں بتایا گیا چونکہ پی سی پی شکایت پر کارروائی کی اہلیت نہیں رکھتا لہذا اسے 2 جولائی 2019 کو سسٹم سے خارج کردیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ تقریباً دو سال قبل 10 مئی 2019 کوطیبہ گل نامی خاتون کی جانب سے وزیراعظم شکایت سیل میں درخواست جمع کروائی گئی تھی کہ چیئرمین نیب مجھے اور میرے اہل خانہ کو پریشان کررہے ہیں۔ شکایت میں کہا گیا کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال میرے اور میرے شوہر کے خلاف جعلی مقدمات صرف اس لیے بنا رہے ہیں کہ میں نے چیئرمین نیب کے ساتھ جسمانی تعلق نہیں بنایا۔ خاتون نے اپنی شکایت میں کہا تھا کہ نیب مجھے دھمکیاں دے رہا ہے، میں قانون کی طالبہ ہوں اور وہ اس طرح عورت کی بے عزتی کیسے کرسکتے ہیں؟شکایت کنندہ نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ جسٹس جاوید اقبال اخلاقی طور پر بیمار شخص ہیں، میرے پاس ان کے خلاف تمام ویڈیوز اور آڈیو ریکارڈنگز موجود ہیں، میں ویڈیوز کے کچھ اسکرین شاٹس منسلک کررہی ہوں۔
پھر جون 2020 میں طیبہ گل کے شوہر فاروق نول نے الزام عائد کیا کہ جھنگ شہر میں ان کے بچوں پر قاتلانہ حملہ کرنے کی غرض سے ان پر فائرنگ کی گئی ہے۔ طیبہ کے شوہر کا موقف تھا کہ کہ ملزمان نے یہ سمجھ کر ان کی گاڑی پر فائرنگ کی کہ اس گاڑی میں فاروق نول اور طیبہ گل سوار ہوں گی۔ اس واقعے کی تحقیقات کے حوالے سے آج تک کوئی پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔ واضح رہے کہ رواں برس فروری میں احتساب عدالت طیبہ گل اور فاروق نول کو نیب کی جانب سے عائد کردہ کرپشن کے الزامات پر با عزت بری کرچکی ہے جس سے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت ہوا کہ طیبہ گل اور ان کے شوہر کے خلاف مقدمات جھوٹے تھے اور چیئرمین نیب کے کہنے پر بنائے گئے تھے۔
