کپتان کے اعلان کے باوجود پروٹوکول کے لمبے قافلے برقرار


وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپنے اور وفاقی وزرا کے سیکیورٹی پروٹوکول میں نمایاں کمی کرنے کے اعلان کے باوجود ابھی تک نہ تو وزیراعظم کی سکیورٹی میں کوئی کمی لائی گئی ہے اور نہ ہی وفاقی وزراء کے اور یہ تمام لوگ اب بھی قیمتی سرکاری گاڑیوں کے بڑے بڑے قافلے لیکر سفر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح وزیراعظم کی جانب سے اپنے کیمپ آفس ختم کرنے کے اعلان کے باوجود ان کی بنی گالہ رہائش گاہ کو اب بھی کیمپ آفس کی حیثیت حاصل ہے جہاں اس وقت 500 سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔
اس حوالے سے یہاں ایک تاریخی واقعی بیان کرنا ضروری ہے۔ سابق فوجی آمر ضیا الحق کی طرف سے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضے کے بعد اسکی دانت نکالتی ایک تصویر اخباروں میں شائع ہوئی جس میں وہ ایک سائیکل پر سوار ہو کر دفتر جا رہا تھا۔ اس تصویر کا مقصد سرکاری خزانے پر بوجھ کم کرنے کے عزم کا اظہار کرنے کے علاوہ نمود و نمائش کو روکنا تھا۔ تاہم سچ تو یہ ہے کہ ضیا کی اس سائیکل کی حفاظت کے لیے سکیورٹی کاروں کا ایک بڑا قافلہ بھی ساتھ چلا کرتا تھا۔ یوں فوجی ڈکٹیٹر کی یہ حرکت عوام میں ایک مذاق بن گئی اور پھر ‘سائیکل ای اوئے’ کی طنزیہ اصطلاح وجود میں آ گئی۔ رفتہ رفتہ ضیاء بھی سائیکل سے اتر کر واپس کاروں اور پروٹوکول میں سفر کرنے لگا۔ ضیا کی طرح عمران خان نے بھی اقتدار میں آنے کے فوری بعد پروٹوکول لینے اور اپنی وجہ سے سڑکیں بند کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔ تاہم پاکستانی عوام کی پریشانی کم کرنے کے لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ گھر سے دفتر جانے کے لیے سڑک کی بجائے ہیلی کاپٹر پر سفر کریں گے۔ انکے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے بقول اس سے نہ تو لوگوں کو پرشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور نہ ہی سرکاری خزانے پر کعئی بوجھ پڑتا ہے۔ فواد کے بقول ہیلی کاپٹر پر وزیر اعظم کا سفر 50 سے 55 روپے فی کلومیٹر میں ہوتا ہے جو کہ گاڑیوں کے قافلے پر لگنے والے پٹرول کی قیمت سے بہت سستا پڑتا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ عمران خان بنی گالہ سے وزیراعظم کے دفتر تک کا سفر تو ہیلی کاپٹر میں کرتے ہیں لیکن اس کے علاوہ دوسرے شہروں کا سفر کرتے ہوئے وہ درجنوں گاڑیوں کے پروٹوکول قافلے میں گھرے دکھائی دیتے ہیں جس پر انہیں عوامی تنقید کا سامنا تھا۔
چنانچہ اب عمران خان نے ایک بار پھر حکومت میں شامل افراد کے سکیورٹی اور پروٹوکول کے معاملے پر اعلان کیا ہے کہ وہ خود نجی تقریبات میں بغیر سکیورٹی اور پروٹوکول کے جائیں گے جبکہ صرف وفاقی وزرا کو ہی اپنی گاڑی پر جھنڈا لگانے کی اجازت ہوگی۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کی جانب سے ایسا کوئی اعلان سامنے آیا ہے۔ اس سے پہلے فروری 2021 میں بھی وزیراعظم وزرا سے اضافی سکیورٹی واپس کرنے کا کہہ چکے ہیں۔ تاہم کابینہ ڈویژن حکام کے مطابق وزیراعظم کی سکیورٹی کا فیصلہ وہ خود نہیں کرتے بلکہ متعلقہ ادارے صورت حال کا جائزہ لے کر کرتے ہیں اور اگر ظاہری سکیورٹی نہ بھی ہو تب بھی ان کے ساتھ نظر نہ آنے والی سکیورٹی موجود ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان نے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ وہ خود وزیر اعظم ہاؤس کے بجائے بنی گالہ میں ہی رہائش رکھیں گے اور انتہائی ضروری سکیورٹی رکھنے کے علاوہ گھر پر دو تین ملازمین سے ہی گزارا کریں گے۔ تاہم کچھ ہی عرصے بعد انہیں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر وزیراعظم ہاؤس میں شفٹ ہونا پڑا۔ اس کے باوجود وہ روزانی بنی گالہ بھی جاتے ہیں اور وہاں آنے جانے کے لیے انکا سکیورٹی روٹ بھی لگتا ہے۔ ذیادہ تر وہ ہیلی کاپٹر پر بنی گالہ سے وزیراعظم ہاؤس آتے جاتے ہیں۔ لیکن بذریعہ سڑک پر سفر کرتے ہوئے وزیر اعظم کے سکیورٹی پروٹوکول میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں آئی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ وزیر اعظم کے سکیورٹی انتظامات کم کرکے ان کی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔
اسی لیے وزیراعظم کے حالیہ دورہ کوئٹہ میں 30 سے زائد سکیورٹی اور پروٹوکول کی گاڑیوں کے قافلے کی ویڈیو سامنے آنے پر بھی تنقید ہوتی رہی ہے۔صرف وزیراعظم عمران خان ہی نہیں بلکہ گورنر اور وزیراعلیٰ پنجاب کا سکیورٹی پروٹوکول اور ہیلی کاپٹر بھی اکثر و بیشتر خبروں کی زینت بنتا رہتا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے نئے احکامات کا پس منظر بھی وزیراعلیٰ پنجاب کے ہیلی کاپٹر کا ان کے پرنسپل سیکریٹری کے دوستوں کے زیر استعمال آنے اور وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب کی اپنے حلقے میں پورے سکیورٹی کانوائے کے ساتھ جانے کے حوالے سے آنے والی ویڈیو کی روشنی میں ہے۔ وزیراعظم اور وفاقی وزرا کی جانب سے سابق حکمرانوں کو سکیورٹی اور پروٹوکول کی مد میں نہ صرف تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے بلکہ جولائی 2019 میں کابینہ نے سابق حکمرانوں سے سکیورٹی اخراجات وصول کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
وزیر مواصلات مراد سعید نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف نے کیمپ آفس اور میڈیکل اخراجات کی مد میں چار ارب 31 کروڑ 83 لاکھ روپے سرکاری خزانے سے خرچ کیے، جبکہ سابق صدر آصف زرداری نے تین ارب 16 کروڑ 41 لاکھ خرچ کیے۔نواز شریف کی سکیورٹی پر چار ارب31 کروڑ سے زائد، آصف زرداری کی سیکیورٹی پر 316 کروڑ 41 لاکھ 18 ہزار روپے سے زائد، شہباز شریف پر 872 کروڑ 79 لاکھ 59 ہزار روپے جب کہ یوسف رضا گیلانی نے 24 کروڑ سے زائد خرچ کیے گئے۔ شاہد خاقان عباسی نے اپنے دور حکومت میں 35 کروڑ، راجہ پرویز اشرف نے بطور وزیراعظم 32 کروڑ اور سابق صدر ممنون حسین نے 30 کروڑ روپے سرکاری خزانے سے سکیورٹی اور پروٹوکول خرچ کیے۔
چنانچہ عمران خان کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں وزیراعظم کے کیمپ آفس بنانے کا کلچر ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا کیونکہ اس کے ذریعے سرکاری وسائل نجی رہائش گاہوں پر خرچ ہو رہے تھے۔ تاہم دوسری جانب وزارت داخلہ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی بنی گالہ رہائش پر 500 سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں اور اسے اب بھی کیمپ آفس کا درجہ حاصل ہے۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی ذاتی رہائش گاہ کی سکیورٹی کے لیے ایف سی، پولیس اور سپیشل برانچ کے مجموعی طور پر 215 اہلکار تعینات ہیں۔ جن میں سے وزیراعظم کی ذاتی رہائش گاہ پر 129 سکیورٹی ڈویژن کے اہلکار، بیرونی حصار پر 75 پولیس اہلکار تعینات ہیں، رہائش گاہ کی چھت اور قریبی پہاڑ کی چوٹی پر 11 پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ وزیراعظم کی رہائش گاہ پر برانچ کے 11، کوئیک رسپانس فورس کے 32 اہلکار، ایف سی کے 63 اہلکار گشت پر اور 12 پہاڑ کی چوٹی پر ہیں جب کہ بنی گالہ رہائش گاہ کے لیے پولیس کی چار پک اپ اور ایک موٹر سائیکل بھی موجود ہے۔
صرف وزیراعظم ہی نہیں بلکہ وفاقی کابینہ کے ارکان کی سکیورٹی اور پروٹوکول پر بھی سالانہ کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ کابینہ ڈویژن کے مطابق سکیورٹی اور پروٹوکول مقاصد کے لیے گذشتہ تین سال میں 43 نئی گاڑیاں بھی خریدی گئی ہیں۔ کابینہ ڈویژن کے مطابق وزرا اور مشیران کی گاڑیوں پر گذشتہ تین سال میں ایندھن پر چار کروڑ 68 لاکھ روپے اخراجات آئے۔ گذشتہ تین سال میں وزرا اور مشیران کی گاڑیوں کی مرمت پر تین کروڑ 88 لاکھ روپے اخراجات آئے۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کے زیر استعمال 2017 ماڈل کی 4600 سی سی کی ایک ایک بلٹ پروف گاڑی ہے۔ مشیر داخلہ مرزا شہزاد اکبر کو دو دو گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں جن میں ایک 1800 سی سی اور ایک بلٹ پروف 4608 سی سی گاڑی ہے۔
وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کے زیر استعمال بھی دو گاڑیاں ہیں جن میں ایک 1800 سی سی اور ایک 4600 سی سی بلٹ پروف گاڑی ہے۔ وفاقی وزیر علی زیدی اور سیکریٹری داخلہ کے پاس بھی 4600 سی سی بلٹ پروف گاڑی ہے۔ محمد میاں سومرو، شبیر علی اور علی محمد خان کے پاس 1800 سی سی کی ایک ایک اور ایک ایک ڈبل کیبن گاڑیاں ہیں۔
سکیورٹی ڈویژن میں تعینات ایک سینئر اہلکار کے مطابق وزیر اعظم نے پروٹوکول میں جو کمی کا اعلان کیا ہے وہ صرف کہہ دینے سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے ایک اجلاس طلب کرنا پڑتا ہے اور ماضی میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایسے اجلاسوں میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹری، اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں کے آئی جی اور فوج اور سویلین خفیہ اداروں کے نمائندے شریک ہوتے ہیں جو کہ امن و امان کی صورت حال کو دیکھ کر تجاویز دیتے ہیں۔ اس کے بعد بلیو بک میں ممکنہ تبدیلی کے لیے سفارشات دی جاتی ہیں اور اس کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ وفاق میں بلیو بک پر عمل درآمد کی ذمہ داری وزارت داخلہ جبکہ صوبوں میں اس پر عمل درآمد کی ذمہ داری محکمہ داخلہ کی ہوتی ہے۔ لیکن ابھی تک حکومتی سطح پر ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔

Back to top button