کپتان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کون لٹکا رہا ہے؟


برسر اقتدار تحریک انصاف کے خلاف الیکشن کمیشن میں نومبر 2014 سے زیر التوا فارن فنڈنگ کیس شیطان کی آنت کی طرح لمبا ہوتا چلا جا رہا ہے اور چھ برس گزرنے کے بعد بھی وزیراعظم عمران خان اور انکی جماعت کیخلاف کسی قسم کی قانونی کاروائی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کے وکلا کی طرف سے کیس کو لٹکانے کے مختلف حربے استعمال کرنے کے بعد اب پی ٹی آئی کے غیر ملکی اور خفیہ اکاؤنٹس کی تحقیقات کرنے والی الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی نے حکومتی پارٹی کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات کیس کے مدعی اکبر ایس بابر کو دینے سے انکار کر دیا ہے۔ چنانچہ تحریک انصاف کے بانی رکن نے ردعمل کے طور پر سکروٹنی کمیٹی کی جانب سے تحقیقات کے عمل پر ہی سوالات اٹھا دئیے ہیں۔
الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی نے تحریک انصاف کے 23 بینک کھاتوں کی تفصیلات پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر کے ساتھ شیئر کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانونی طور پر پر اکبر ایس بابر کا استحقاق نہیں بنتا کہ ان کو پی ٹی آئی کی فنڈنگ اور اکاونٹس کی تفصیلات دی جائیں۔ یاد رہے کہ ان اکاؤنٹس میں کئی غیر اعلانیہ اکاؤنٹس بھی شامل ہیں، جن کا انکشاف اس وقت ہوا تھا جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایت پر کچھ بینکوں نے جولائی 2018 میں پی ٹی آئی کے زیر انتظام اکاؤنٹس کی تفصیلات ای سی پی کو فراہم کی تھیں۔ ذرائع نے بتایا تھا کہ ای سی پی کی اسکروٹنی کمیٹی نے 5 اور 6 اگست 2020 کو لگاتار دو دن اجلاس کئے جہاں درخواست گزار کے وکیل سید احمد حسن شاہ نے جانچ پڑتال کے عمل کی ساکھ پر سنگین سوالات اٹھائے۔ تاہم ای سی پی کمیٹی نے درخواست گزار کے ساتھ پی ٹی آئی کے بینک کھاتوں کی تفصیلات شیئر کرنے سے انکار کردیا۔
واضح رہے کہ درخواست گزار اکبر ایس بابر نے پی ٹی آئی کے 23 بینک اکاؤنٹس تک رسائی کا مطالبہ کر رکھا ہے تاکہ پی ٹی آئی کی جانب سے جمع کرائے گئے اکاؤنٹس کی تصدیق کی جا سکے۔ درخواست گزار کا الزام ہے کہ پی ٹی آئی کے یہ 23 بینک اکاؤنٹس جعلی ہیں اور ان کی جانچ پڑتال کی کوئی ساکھ نہیں ہوگی۔ اکبر ایس بابر کے وکیل نے جانچ پڑتال کے عمل سے متعلق تحفظات کا کھل کر اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اسٹیٹ بینک کی توثیق شدہ دستاویزات کی جانچ کے بغیر غیر تصدیق شدہ اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال محض دھوکا ہے۔اکبر ایس بابر کے وکلاء نے واضح کیا کہ بنک اکاؤنٹس کی جانچ کی کارروائی ٹی او آر کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتی اور درخواست گزار سے توقع نہیں کی جاسکتی ہے کہ وہ مبینہ جعلی دستاویزات پر مہر لگا دے گا۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے کھاتوں کی جانچ پڑتال مکمل کرنے کے لیے الیکشن کی جانب سے کمیٹی کے لیے آخری تاریخ 17 اگست مقرر کی گئی ہے تاہم ڈیڈ لائن تک بہت کم پیشرفت کی توقع کی جارہی ہے۔ سکروٹنی کمیٹی کی تحقیقات بارے درخواست گزار اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ نومبر 2015 سے تحریک انصاف اپنے تمام اکاؤنٹ ای سی پی کے سامنے جمع کروانے سے انکاری ہے، اکاؤنٹس کے ایک سادہ آڈٹ میں دو سال کا عرصہ کیسے لگ سکتا ہے اور اس کے باوجود اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا اور یہ بات عقل سے بالاتر ہے، انہوں نے کہا کہ وہ اس مقدمے کو اختتام تک آگے بڑھانا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستانی عوام حقائق جاننے کے مستحق ہیں۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے زیر التوا ہے جو اس پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے دائر کیا تھا۔کیس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے ‘ہنڈی’ کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔بعد ازاں ایک سال سے زائد عرصے تک اس کیس کی سماعت ای سی پی میں تاخیر کا شکار رہی تھی کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اکتوبر 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی کہ اس کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال سے ای سی پی کو روکا جائے۔
جس کے بعد فروری 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار پر جائزہ لینے کے لیے کیس کو دوبارہ ای سی پی کو بھیج دیا تھا، علاوہ ازیں مارچ 2018 میں پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی تھی جو اب تک فارن فنڈنگ کی تحقیقات کررہی ہے۔
فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ 2002 کے مطابق شق 15 کا استعمال کرتے تحریک انصاف کو بطور جماعت کالعدم قرار دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آرٹیکل 61 اور 62 بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تحریک انصاف اگر اس کیس میں خود کو کلیئر نہ کروا سکی تو نہ صرف بطور جماعت اس کا وجود ختم ہو جائے گا بلکہ اس جماعت سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی، قومی اور سینیٹ بھی اپنے عہدوں سے فارغ ہوجائیں گے اور یوں تحریک انصاف کی حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا۔
واضح رہے کہ سیاسی جماعتوں کو پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کے آرٹیکل 13 کے تحت مالی سال کے اختتام سے 60 روز کے اندر الیکشن کمیشن میں بینک اکاؤنٹس کی آڈٹ رپورٹ جمع کروانا ہوتی ہے جس میں سالانہ آمدن اور اخراجات، حاصل ہونے والے فنڈز کے ذرائع، اثاثے اور واجبات شامل ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ پارٹی کا سربراہ الیکشن کمیشن میں ایک سرٹیفکیٹ بھی جمع کروانے کا مجاز ہوتا ہے جس میں یہ اقرار کیا جاتا ہے کہ تمام مالی تفصیلات درست فراہم کی گئی ہیں اور کوئی بھی فنڈ کسی ممنوعہ ذرائع سے حاصل شدہ نہیں ہے
واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے جو سرٹیفکیٹ جمع کروایا گیا اس میں اس بات کو چھپایا گیا ہے تحریک انصاف کو کس کس ذرائع سے پارٹی فنڈز ملے گی۔ پارٹی کے فنڈز کے ذرائع ظاہر نہ کرنے پر آرٹیکل 61 اور 62 کوئی بھی اتھارٹی استعمال کر سکتی ہے چاہے وہ الیکشن کمیشن ہو یا سپریم کورٹ.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button