کپتان کے سپورٹرز کے سپنے بکھرنے اور مایوسی کی کہانی


پچھلے دو برس کے دوران بطور حکمران وزیراعظم عمران خان کی پے در ہے ناکامیوں کے بعد اب تبدیلی کے نعرے پر کپتان کی حمایت کا فیصلہ کرنے والوں کا رومانس شرمندگی اور غصے میں ڈھلتا نظر آتا ہے اور ووٹر جھولیاں اٹھا کر حکومت کے خاتمے کی دعائیں مانگتا نظر آتا ہے۔ عام آدمی تو دور کی بات، میڈیا میں موجود حسن نثار اور ارشاد بھٹی جیسے کپتان کے دیرینہ حمایتی بھی اب روزانہ ٹی وی پر بیٹھ کر ان کی ناکامیوں کا رونا روتے دکھائی دیتے ہیں۔ حسن نثار نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ میں نے کپتان کی حمایت کر کے خود کو الو کا پٹھا ثابت کیا۔
تاریخی مہنگائی کے باعث اپنی معاشی تباہی کے بعد عوام احتساب کا نعرہ بھول چکے۔ دال، سبزی، گھی، چینی کی قیمتوں سے شروع ہونے والے گلے شکوے اب پٹرول، بجلی، گیس، پانی کی قیمتیں بڑھانے پر لعنت ملامت تک جا پہنچے ہیں۔ عوام کی حالت ان سپورٹرز کی طرح ہو گئی ہے، جو اپنی ٹیم کو پوجتے پوجتے اس حد تک آگئے ہیں کہ اب ان بے سمت لیڈرز نما کھلاڑیوں کو دیکھ کر خالی بوتلیں اچھالنے پر تیار ہیں۔ انڈے ٹماٹر مہنگے بڑے ہیں، سو وہ پھینکنے سے رہے۔
بہت سے ایسے سوشل میڈیا اسٹارز جو کبھی کپتان کی کپتانی کے دم بھرتے نہیں تھکتے تھے اب تحریک انصاف کی شاندارٹیم کی پرفارمنس دیکھ کر بغلیں جھانک رہے ہیں۔ ادھر عوام زخم کھائے بیٹھی ہے۔ ادھر پی ٹی آئی میں یہاں وہاں سے الیکٹیبلز کے نام پر جمع کیے گئے ممبران اسمبلی ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔
الیکشن جیتنے کے لیے تحریک انصاف نے ایسے افراد کو بھی پی ٹی آئی میں ویلکم کیا تھا، جو جدی پشتی سیاست میں کامیاب اور پارٹی میں دھڑے بندی کرنے کے فن میں طاق تھے۔ آج پی ٹی آئی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ہی ایسے سیاستدانوں کو نتھ ڈال کر رکھنا ہے، جن کی سیاست ان کے حلقے کے گاؤں اور تحصیلوں کی ذات برادریوں کے گرد گھومتی ہے۔ یہ پی ٹی آئی اچھی طرح جانتی ہے کہ ان ممبران اسمبلی کی سیاست خان صاحب کی کرشماتی شخصیت کے بل بوتے پر نہیں کھڑی۔ اس لیے آئے دن آپ یہ چہ مگوئیاں سنتے رہتے ہیں کہ فواد چودھری تحریک انصاف چھوڑ گئے، کبھی مارکیٹ میں اڑائی جاتی ہے کہ ندیم افضل چن پارٹی کو ٹاٹا بائے بائے کر گئے۔ باوجود یہ کہ شاہ محمود قریشی وزیراعظم کے بیانات پر واہ واہ کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے مگر آج بھی پارٹی کے معمولی کارکن سے لے کر انصافی سوشل میڈیا ایکٹویسٹ تک بہت سوں کو شاہ صاحب کی نیت کھوٹی نظر آتی ہے۔
پی ٹی آئی کا دوسرا سر درد وہ کلف زدہ کپڑوں میں ملبوس آزاد سیاستدان ہیں، جو بڑے کام کے سہی، بڑے نام کے نہیں۔ جب جہانگیر ترین عمران خان کی حکومت کو کھڑا کرنے کے لیے ان کمزور سہاروں کو جہاز میں بٹھا بٹھا کر لارہے تھے، اس وقت فضاء میں دو فریقین کی خواہشیں پنپ رہی تھیں۔ ایک طرف عمران خان، جو ان اتحادیوں کو حکومت بنانے کا نمبر سمجھ رہے تھے، تو دوسری طرف وہ اتحادی جو اپنی اور اپنے حلقے کی خواہشات کی لمبی فہرست بنا کر لائے تھے۔ اگرحکومت نے وش لسٹ مسل کر کوڑے دان میں ڈالی تو یہ آزاد ممبران کے نمبر بھی ایک ایک کرکے گرتے رہیں گے۔
پی ٹی آئی سے ہاتھ ملا کر پچھتانے والوں میں تیسری قسم ہے ان اتحادی جماعتوں کی ہے، جو حکومت بنتے ہی روٹھنے منانے کے موڈ میں آ جاتی ہیں۔ ایم کیو ایم نے اس شدید مقابلے بازی میں نمایاں مقام یوں حاصل کیا کہ یہ آئے دن روٹھنے اور پھر اک ملاقات اور اک وزارت ملنے کے بعد خود ہی مان جانے کی پرانی روش پر چل رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کا حال مست ہے، اس کی ڈیمانڈز کے کیا کہنے۔ ق لیگ پچھلے ایک سال سے کبھی مان جاتی ہے اور کبھی ناراض ہو جاتی ہے لیکن جب سے اسکی قیادت کے خلاف نیب نے پرانے کیسز کھولنے کا عندیہ دیا ہے چوہدری برادران بھی حکومت سے ناراض نظر آتے ہیں۔
لیکن بلوچستان سے اتحادیوں کا موڈ سب سے زیادہ ہی آف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نہ تو کپتان نے ان کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر عمل کیا اور نہ ہی ہیں ان کو روٹھنے کے بعد منانے کی کوئی ذاتی کوشش کی۔ وہ کہتے ہیں انہیں عزت بھی نہیں ملی، کئی کئی مہینے انتظار کر کے بھی خان صاحب سے ملاقات نہیں ہو پاتی۔
اتنے ڈھیر سارے مانگے تانگے کے اتحادی، تیرے میرے سے کہہ کر لائے گئے آزاد ممبران، کہیں مطلب کے یار اور کہیں غرض کی دوستی۔کچی بنیادوں پر کھڑی حکومت کی کرسی کو کپتان کی حکومت بنوانے والوں نے غیر منتخب افراد کی نااہلیوں سے لاد دیا ہے۔ ان حالات میں خدشہ ہے کہ تبدیلی لانے میں مکمل طور پر ناکام ہونے والوں کی تبدیلی کے لیے ہلکی سی بھی ہوا چلی تو کہیں یہ کاغذی حکومت دھڑام سے منہ کے بل نہ آ گرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button