کپتان کے عمرانڈوز مونس اور گیلے تیتر کا ٹویٹر پر جھگڑا

مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الٰہی اور گیلا تیتر کہلانے والے یو ٹیوبر عمران ریاض خان کا ٹوئٹر پر جھگڑا جاری ہے لیکن دونوں کے قائد عمران خان نے ابھی تک اپنے عمرانڈوز کے مابین سیز فائر کروانے کی کوشش نہیں کی۔ یہ جھگڑا تب شروع ہوا جب مونس الٰہی نے کسی کا نام لئے بغیر  ٹویٹ کیا کہ انہوں نے سنا ہے کہ ‘مجرم عناصر کے ساتھ مضبوط روابط’ کی وجہ سے ‘کسی کا’ ویزا منسوخ ہو گیا ہے اور اس شخص کو ایئرپورٹ سے واپس آنا پڑا ہے۔ مونس الٰہی کی ٹوئٹ کے صرف دس منٹ بعد عمران ریاض خان کا سخت ردعمل سامنے آگیا جس نے ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ میرا نام لو نا مونس الٰہی کیوں کہ میرا ویزا کینسل ہوا ہے  اور ہاں جن کی وجہ سے کینسل ہوا ہے ان کا نام لینے کی بھی جرات پیدا کرو۔ گیلے تیتر نے  مزید لکھا کہ وہ ’پاکستان میں رہ کر خوش ہیں’۔ لیکن مونس الٰہی نے عمران ریاض پر جوابی وار کرتے ہوئے کہا، "عمران صاحب، میرا ٹویٹ آپ کے لیے نہیں تھا۔” انہوں نے لکھا کہ یہ "ہوا میں اڑنے والے تیر لینے’ یا اندھیرے میں گولی چلانے کی بہترین مثال ہے”۔

 

عمران ریاض نے مونس الٰہی کی ٹوئٹ کے جواب میں کہا، "میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کو ویزا کینسل ہونے کے بارے میں کس نے اطلاع دی۔” انہوں نے ہنستے ہوئے ایموجی کے ساتھ مزید کہا، "اب ڈپٹی چیف منسٹر صاحب دیکھتے رہیں۔” دونوں کے مابین ٹویٹر پر جنگ جاری ہے۔ اس سے پہلے گزشتہ ہفتے دونوں کے درمیان ٹوئیٹر پر جنگ کا آغاز تب ہوا جب مونس الٰہی نے اشارہ دیا کہ عمران ریاض تحریک انصاف سے اگلے الیکشن کے لیے پارٹی ٹکٹ مانگ رہے ہیں۔ عمران ریاض جنہیں عمرانڈو صحافی اور گیلا تیتر کے نام سے بھی پکارا جاسکتا ہے نے ردعمل میں اشارہ کیا کہ مونس الٰہی کو بھی مہنگی لگژری گھڑیاں تحفے میں دی گئی تھیں جو انہوں نے کھا لیں۔ اس دوران عمران ریاض نے مونس الٰہی کے ایک انٹرویو کے بعد بھی ان پر سخت تنقید کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کے ووٹ کے وقت مسلم لیگ قاف نے سابق  آرمی چیف قمر باجوہ  کے کہنے پر عمران کا ساتھ دیا تھا۔

 

مونس الٰہی نے جنرل باجوہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جب پنجاب میں پی ڈی ایم اور تحریک انصاف میں سے کسی ایک کا ساتھ دینے کی بات کی گئی تو قمر باجوہ نے انہیں پی ٹی آئی کے ساتھ جانے کا مشورہ دیا تھا۔ اس بیان کے ردعمل میں مونس الٰہی پر تنقید کرنے والوں میں عمران ریاض بھی شامل تھے۔ موصوف نے طنزیہ ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی والے سمجھتے تھے کہ پرویز الٰہی اور مونس الٰہی نے عمران کی محبت اور اپنے ضمیر کی آواز پر پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا منصب قبول کیا ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے مونس الٰہی نے کہا کہ آپ فکر نہ کریں آپ کا پارٹی ٹکٹ بھی پکا ہو گیا ہے پھر آپ ٹیک اوور کر لینا۔ اس کے بعد پی ٹی آئی والے بھی سمجھ جائیں گے۔ جواب میں عمران ریاض نے مونس الٰہی پر ایک اور الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہی کو پارٹی ٹکٹ مبارک ہو۔ ٹکٹوں کی فروخت آپ کا خاندانی کاروبار ہے۔ ویسے ”ریچرڈ میلی” کی گھڑی کیسی چل رہی ہے جو صرف 7 کروڑ50 لاکھ روپے کی ہے۔ مونس الٰہی نے جواب دیا کہ میرے پاس تو ”ریچرڈ میلی” کی گھڑی نہیں ہے لیکن اگر آپ اس گھڑی کے مداح ہیں تو میں ایک خرید کر آپ کو بھیج دوں؟ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب آپ باضابطہ طور پر سیاست میں آ جائیں تو پھر آپ کو بطور تحفہ دوں؟ لیکن عمران ریاض نے اپنی گھڑی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ مجھے اپنی گھڑی بہت پسند ہے، تحفہ لے کر مکرا نہیں کرتے۔ دینے والے کا دل ٹوٹ جاتا ہے، ویسے فرحان سے پوچھنا کونسی گھڑی کی بات ہو رہی ہے، اپ کو اچھی طرح یاد دلا دے گا۔ مونس اسکے بعد خاموش ہو گئے اور کچھ دیر بعد عمران خان کے خطاب کا وہ حصہ شیئر کر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسمبلیاں توڑنے کے معاملے پر مسلم لیگ ق ان کے ساتھ ہے اور اختلافات کی خبریں بے بنیاد ہیں۔

Back to top button