کپتان کے نئے پاکستان میں صحافیوں کو دھمکیوں کا سامنا ہے


سنیئر صحافی اور اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے الزام لگایا ہے کہ کپتان کے نئے پاکستان میں حکومتی سوشل میڈیا بریگیڈ کے ہاتھوں سچ لکھنے اور بولنے والے صحافیوں کو الزام تراشی، دھمکیوں اور تحقیر کا سامنا اور ریاست کی کوشش ہے کہ صحافی سچ کہنا اور لکھنا چھوڑ دیں۔ وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو میں عاصمہ نے کہا ہے کہ حکومتی اور ریاستی سوشل میڈیا بریگیڈ اوچھے ہتھکنڈوں سے حق اور سچ پر مبنی صحافتی آوازوں کو دبانے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ ہم یہ سب کرتے رہیں گے کیونکہ ہمارا کام ہے سچ کے لیے آواز اٹھانا اور ہم اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ عاصمہ کا کہنا ہے کہ ہمیں تاریخ کے درست جانب کھڑے ہونا ہے، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال نہ کریں کہ جب ملک میں یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو ہم صحافی لوگ کیا کر رہے تھے۔
وائس آف امریکہ کو دیئے گئے انٹرویو میں عاصمہ شیرازی نے جنرل مشرف اور موجودہ دور حکومت میں موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ مشرف ایک آمر تھا جسے ایک آئین شکن کے طور پر ہی جانا جائے گا۔ موجودہ دور حکومت کے بارے میں عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ایک ‘ہائبرڈ ریجیم’ ہے جس میں بہت سے لوگ بے نقاب ہوئے ہیں کیونکہ بظاہر یہاں آمریت نہیں بلکہ جمہوریت ہے۔ عاصمہ کے مطابق موجودہ ہائبرڈ نظام کا ایک منفی پہلو یہ ہے کہ یہاں ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے جس سے سیلف سینسرشپ کو فروغ مل رہا ہے۔ گھناؤنے الزامات اور دھمکیوں کی وجہ سے صحافی کچھ کہنے سے کترانے لگے ہیں جبکہ میڈیا ہاؤسز بھی انتقامی کارروائیوں کے ڈر سے حکومت پر تنقید سے گریز کرنے لگے ہیں۔
عاصمہ شیرازی نے ضیا دور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ تب بھی صحافی آئین کی پاسداری کی جنگ لڑ رہے تھے نہ کہ پیپلز پارٹی کے لئے ضیا سے مخالفت مول لے رہے تھے۔ صحافیوں پر مستقل تنقید کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تنقید تو سقراط پر بھی ہوئی، تو کیا اس کے خوف سے سچ کہنا چھوڑ دیں؟ انکا کہنا تھا کہ ہمیں تاریخ کے صحیح جانب کھڑے ہونا ہے، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں آگے جا کر ہم سے یہ سوال نہ کریں کہ جب ملک میں یہ سب ہو رہا تھا تو ہم صحافی کیا کر رہے تھے۔
عاصمہ کے بقول موجودہ دور میں ایک باقاعدہ پروپیگنڈا مشینری کام کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر صحافیوں کو الزام تراشی، دشنام، دھمکیوں اور تحقیر کا سامنا رہتا ہے۔ شروع میں ایسا ہونے پر ہمیں پریشانی ہوتی تھی، لیکن بے چہرہ لوگوں سے کیا ڈرنا۔ آپ کتنوں کو رپورٹ کریں گے اور کوئی ان کا کیا بگاڑ لے گا؟ انکا کہنا تھا کہ دوسرے حربوں سے صحافیوں کو چپ کرانے میں ناکامی پر انہیں بدنام کرنے کا ایک نیا نظام وضع کیا گیا تاکہ صحافی رسوا ہوں۔ ان کی بات پر لوگ اعتبار نہ کریں۔ اب جو صحافی حکومت پر تنقید کرے اسے دوسری سیاسی جماعتوں کا آلہ کار قرار دے دیا جاتا ہے حالانکہ صحافیوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ماضی میں بھی نواز دور حکومت ہو یا پیپلز پارٹی ہر حکمراں جماعت پر تنقید کی۔ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو صرف آن لائن ہی ہراسان کیے جانے کا سامنا نہیں ہے، ہمارا وفاقی دارالحکومت صحافیوں کے لئے دنیا کے خطرناک ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ لیکن اصل صحافی اب بھی بے خوفی سے اپنا کام کر رہے ہیں۔
عاصمہ شیرازی نے یاد دلایا کہ بقول وزیراعظم عمران خان پاکستانی پریس برطانوی پریس سے بھی زیادہ آزادی حاصل ہے مگر حقیقت اسکے برعکس ہے اور اسی لیے چند روز قبل صحافیوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے صحافتی آزادی کے حوالے سے دنیا کے 37 ‘بدترین حکمرانوں’ کی فہرست میں عمران خان کا نام بھی شامل کیا ہے۔ تنظیم نے اس فہرست کی تفصیل میں ان کی حکومت پر اخبارات کی مبینہ ترسیل میں رکاوٹ بننے، میڈیا اداروں کو اشتہارات روکنے کی دھمکیاں دینے، کڑی تنقید کرنے والے صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے اور ان کے اغوا و تشدد میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صحافیوں کے لئے کام کرنے والے ایک اور بین الاقوامی ادارے ‘کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس’ نے اپنے ‘گلوبل امپیونٹی انڈکس’ میں پاکستان کا نام شامل کیا ہے۔ اس فہرست میں صومالیہ، عراق، شام، جنوبی سوڈان اور افغانستان جیسے شورش زدہ ملکوں کے نام ہیں۔ امپیونٹی انڈکس’ ان ممالک کی نشاندہی کرتا ہے جہاں مقتدر طبقوں کو صحافیوں کو قتل کرنے کے بعد چھوٹ حاصل ہوتی ہے اور حکومت جرم کا ارتکاب کر نے والوں کو سزا دلوانے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان میں صحافیوں پر حملے، اغوا اور تشدد کی وارداتوں پر ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے لہازا یہ کہنا کہ پاکستان میں میڈیا آزاد ہے ایک مذاق کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

Back to top button