کپور حویلی گرا کر میوزیم کی بجائے پلازہ بنانے کا منصوبہ

کپور خاندان کی خواہش اور خیبر پختونخواہ حکومت کے بلند بانگ دعوؤں کے برعکس بالی وڈ کے مشہور کپور خاندان کی پشاور کے قصہ خوانی بازار میں واقع جنم بھومی "کپور حویلی” کو ثقافتی میوزیم کا درجہ دینے کی خواہش پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔ پشاور کے مرکزی بازار میں واقع سو سالہ قدیم چھ منزلہ کپور حویلی کے موجودہ مالک نے عمارت کو گرا کر اس پر ایک کمرشل پلازہ کھڑا کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کپور حویلی کے مالک کا کہنا کہ حویلی کی حالت خراب ہے اور یہ کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔ اس نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اس تاریخی عمارت کو خرید کر اس کی مرمت اور تزئین و آرائش کرنے کے تمام وعدے جھوٹے نکلے ہیں لہذا اب اس کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ اس مخدوش عمارت کو گرا کر اس کی جگہ ایک کمرشل پلازہ تعمیر کیا جائے۔
واضح رہے کہ صوبائی حکومت نے 2018 میں اعلان کیا تھا کہ کپور حویلی کو خرید کر اس کی مرمت کر کے سیاحوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔ کچھ مہینے پہلے خیبرپختونخوا حکومت نے دوبارہ بھارتی اداکار رشی کپور کی خواہش پر کپور خاندان کی پشاور کے قصہ خوانی بازار میں واقع جنم بھومی "کپور حویلی” کو خریدنے اور اسے ایک ثقافتی میوزیم کا درجہ دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔ تاہم افسوس کے اس فیصلے پر عملدرآمد ہر گزرتے دن کے ساتھ ناممکن ہوتا نظر آ رہا ہے۔ یاد رہے کہ پشاور شہر نہ صرف بالی ووڈ انڈسٹری پر راج کرنے والے دلیپ کمار اور شاہ رخ خان کی جائے پیدائش ہے بلکہ کئی دہائیوں سے ہندوستان کی فلمی صنعت پر راج کرنے والے کپور خاندان کا تعلق بھی پشاور سے ہے جنکی مشہور زمانہ کپور حویلی آج بھی قصہ خوانی بازار میں موجود ہے۔
اپنے تابناک فلمی کیرئیر میں سپرہٹ فلمیں دینے والے بالی ووڈ کے انجہانی اداکاروں راج کپور اور انکے بیٹوں رشی کپور اور ششی کپور کا بھی اس حویلی سے قلبی تعلق تھا اور انکی یہ خواہش تھی کہ کپور حویلی کو ایک میوزیم میں تبدیل کر دیا جائے۔ ششی کپور اور رشی کپور جب 1990 میں پاکستان کے دورے پر آئے تھے تو دونوں بھائی قصہ خوانی بازار میں واقع اپنی حویلی بھی گئے تھے۔ تاہم اب لگتا ہے کہ کپور حویلی کو میوزیم میں تبدیل کرنے کی ان کی خواہش پوری نہیں ہوگی کیونکہ اس کے مالک نے طویل انتظار کے بعد حویلی کو گرا کر اس کی جگہ کمرشل پلازہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے ہندوستان کے معروف فلمی خاندان کپور کے دادا پر تھوی راج کپور 1926میں پشاور سے انڈیا منتقل ہوگئے تھےلیکن اُن کے خاندان کی پشاور کے ساتھ وابستگی آج بھی قائم ہے۔ڈھکی نعل بندی قصہ خوانی پشاور میں اُن کا آبائی گھر ”کپور حویلی“ اب بھی موجود ہے اور اسی نسبت سے کپور فیملی آج بھی پشاور کو اپنا دوسرا گھر سمجھتی یے۔ تاہم حکام کی عدم توجہی کی وجہ سے عظمت رفتہ کی یہ نشانی آج کل مخدوش حالت میں ہے ۔ کپور حویلی 1918 سے 1922 کے درمیان رشی کپور اور رندھیر کپور کے پردادا یعنی پرتھوی راج کپور کے والد بشیشور ناتھ کپور نے تعمیر کروائی تھی اور یہ اس دور کی ایک شاہکار عمارت تھی۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب پشاور میں ہندوؤں کی بہت بڑی آبادی تھی اور زیادہ تر بڑے کاروباروں کے مالک بھی ہندو تھے۔ تاہم تقسیم ہند کے بعد زیادہ تر ہندو پشاور سے کوچ کر گئے، انہیں میں سے ایک کپور خاندان بھی شامل تھا۔ کپور حویلی اپنے وقت کی ایک بہترین تعمیر ہے جو آج بھی اپنی پرانی شان شوکت سے نئے آنے والوں کو مرعوب کر دیتی ہے تاہم یہ بھی سچ ہے کہ اس کے درودیوار اب مزید موسموں کے وار سہنے کی سکت نہیں رکھتے۔ حویلی کی آخری دو منزلیں پہلے ہی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں جب کہ باقی دیواریں بھی یا تو گر چکی ہیں اور یا گرنے کے قریب ہیں۔
پشاور کلچرل ہیریٹیج کونسل کے سیکرٹری شکیل وحید اللہ کے مطابق رشی کپور کی دلی خواہش تھی کہ ان کے آبائی مکان میں پرتھوی راج اور راج کپور کے نام سے میوزیم بنایا جائے جس میں کپور خاندان کی فلمی زندگی سے متعلق یاداشتیں اور سامان رکھا جائے۔ کپور حویلی کی حالت زار کو مد نظر رکھتے ہوئے تحریک انصاف کی پچھلی حکومت نے اسے خرید کر قومی ورثہ قرار دینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم اس پر پیشرفت نہ ہو سکی۔ تاہم بعد ازاں وفاقی حکومت نے کپور حویلی کو میوزیم میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی شروع کی لیکن اس حوالے سے بھی عملی اقدامات کا فقدان نظر آیا۔ 28نومبر 2018 کو کرتارپور راہداری کی تقریب کے سلسلے میں آنے والے بھارتی صحافیوں سے گفتگو میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا تھا کہ اداکار رشی کپور نے اپنی آبائی حویلی کو میوزیم یا کسی انسٹیٹیوٹ میں تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے اور آپ رشی کپور کو بتا سکتے ہیں کہ ہم ان کا گھر میوزیم میں تبدیل کرنے جارہے ہیں لیکن دیگر وعدوں اور اعلانات کی طرح یہ وعدہ بھی پوارا کرنے میں تاحال کپتان سرکار ناکام ہے اور حویلی کے مالک کے عمارت کو گرا کر اس کی جگہ پلازہ تعمیر کرنے کے اعلان نے جہاں خیبر پختونخوا حکومت کو ایک مرتبہ پھر یاد دہانی کرانے کی کوشش کی ہے کہ اس عمارت سے متعلق جلد از جلد کوئی فیصلہ کرے، وہیں ان افراد میں بے چینی پھیل گئی ہے جو پرانی عمارتوں کے ساتھ لگاؤ رکھتے ہوئے انہیں تا ابد آباد دیکھنا چاہتے ہیں۔
