کپور خاندان کی پشاور حویلی کو میوزیم بنانے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا حکومت نے آنجہانی بھارتی اداکار رشی کپور کی خواہش پر بالی وڈ کے مشہور کپور خاندان کی پشاور کے قصہ خوانی بازار میں واقع جنم بھومی "کپور حویلی” کو خریدنے اور اسے ایک ثقافتی میوزیم کا درجہ دینے کا حتمی فیصلہ کر لیا تھا۔ تاہم افسوس کے اس فیصلے پر عملدرآمد رشی کپور کی زندگی میں نہ ہوسکا۔
یاد رہے کہ پشاور شہر نہ صرف بالی ووڈ انڈسٹری پر راج کرنے والے شاہ رخ خان کی جائے پیدائش ہے بلکہ کئی دہائیوں سے ہندوستان کی فلمی صنعت پر راج کرنے والے کپور خاندان کا تعلق بھی پشاور سے ہے جنکی مشہور زمانہ کپور حویلی آج بھی قصہ خوانی بازار میں موجود ہے۔
اپنے تابناک فلمی کیرئیر میں سپرہٹ فلمیں دینے والے بالی ووڈ کے انجہانی اداکار رشی کپور کا تعلق بھی بھارت کے مشہور کپور خاندان سے تھا۔ وہ بھی آنجہانی ششی کپور کی طرح لیجنڈری اداکار راج کپور کے بیٹے تھے جن کی یہ خواہش تھی کہ وہ اپنی زندگی میں ہی پشاور میں واقع اپنے خاندان کی کپور حویلی کو ایک میوزیم میں تبدیل کروا لیں ۔ تاہم افسوس کہ ششی کپور کی طرح رشی کپور کی بھی یہ خواہش پوری نہ ہو پائی۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے ہندوستان کے معروف فلمی خاندان کپور کے دادا پر تھوی راج کپور 1926میں پشاور سے انڈیا منتقل ہوگئے تھےلیکن اُن کے خاندان کی پشاور کے ساتھ وابستگی آج بھی قائم ہے ۔ ڈھکی نعل بندی قصہ خوانی پشاور میں اُن کا آبائی گھر ”کپور حویلی“ اب بھی موجود ہے اور اسی نسبت سے کپور فیملی آج بھی پشاور کو اپنا دوسرا گھر سمجھتی یے۔ تاہم حکام کی عدم توجہی کی وجہ سے عظمت رفتہ کی یہ نشانی آج کل مخدوش حالت میں ہے ۔ کپور حویلی 1918 سے 1922 کے درمیان رشی کپور کے پردادا یعنی پرتھوی راج کپور کے والد بشیشور ناتھ کپور نے تعمیر کروائی تھی اور یہ اس دور کی ایک شاہکار عمارت تھی۔
رشی کپور کی اپنے آباواجداد کے شہر سے لگاؤ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1990 میں جب وہ پہلی اور آخری مرتبہ پاکستان آئے تو پشاور بھی گے اور واپسی پر اپنے گھر کی مٹی ساتھ لے گئے تھے۔ 1990 میں کپور خاندان کے دو بڑے ناموں ششی کپور اور رشی کپور کے پاکستان آنے کا مقصد بنیادی طور پر فلم ’حنا‘ کے لیے پاکستانی اداکارہ زیبا بختیار کا انٹرویو کرنا تھا۔پشاور کے دورے کے لیے کپور برادران نے باقاعدہ طور پر حکومتِ پاکستان سے اجازت لی تھی اور جب وہ پشاور گئے تو وہاں مقامی لوگوں نے ان کا شاندار استقبال کیا تھا۔
پشاور کے معروف اداکار ناجی خان اور رشید ناز کو کپور برادران کے استقبال کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ ناجی خان کا کہنا یے کہ ’اس وقت ایسا لگا جیسے پورا شہر وہیں ڈھکی نعل بندی میں امڈ آیا ہو۔مزید بتایا کہ جب ششی اور رشید کپور کو ایئرپورٹ سے لایا جا رہا تھا تو وہ رشی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھے تھے جو پشاور کی ہر جگہ کے بارے میں پوچھتے تھے کہ یہ کون سی جگہ ہے۔
پشاور کلچرل ہیریٹیج کونسل کے سیکرٹری شکیل وحید اللہ کے مطابق رشی کپور کی دلی خواہش تھی کہ ان کے آبائی مکان میں پرتھوی راج اور راج کپور کے نام سے میوزیم بنایا جائے جس میں کپور خاندان کی فلمی زندگی سے متعلق یاداشتیں اور سامان رکھا جائے۔
شکیل وحید اللہ نے بتایا کہ وہ 2009 میں جب ان سے ملنے بھارت گے تو رندھیر کپور نے خصوصی طور پر پشاور کی مٹی منگوائی تھی۔ انھوں نے کہا کہ جب وہ مٹی لے کر گئے تو ’ان بھائیوں نے مٹی کو سر سے لگایا اور اس کو چوما تھا کہ یہ اس جگہ کی مٹی ہے جہاں ان کے آباو اجداد پیدا ہوئے تھے‘۔ انھوں نے کہا کہ رشی کپور نے کھانے کے بعد اپنے سیکریٹری سے کہا کہ مہمان پشاور سے آئے ہیں ان کو پشاوری قہوہ ضرور پلاؤ۔
کپور حویلی کی حالت زار کو مد نظر رکھتے ہوئے تحریک انصاف کی پچھلی حکومت نے اسے خرید کر قومی ورثہ قرار دینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم اس پر پیشرفت نہ ہو سکی۔ اب ایک بار پھر وفاقی حکومت نے کپور حویلی کو میوزیم میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی شروع کر رکھی ہے۔ 28نومبر 2018 کو کرتا رپور راہداری کی تقریب کے سلسلے میں آنے والے بھارتی صحافیوں سے گفتگو میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا تھا کہ اداکار رشی کپور نے اپنی آبائی حویلی کو میوزیم یا کسی انسٹیٹیوٹ میں تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے اور آپ رشی کپور کو بتا سکتے ہیں کہ ہم ان کا گھر میوزیم میں تبدیل کرنے جارہے ہیں ۔
کپور خاندان کی پشاور سے محبت وار فتگی یکطر فہ نہیں ہے بلکہ پشاور کے باسی بھی کپور خاندان کو اس محبت کا جواب بھر پور انداز میں دیتے ہیں۔ وہ سال میں کئی بار کپور خاندان کے مختلف افراد کی سالگرہ اور برسی منانا نہیں بھولتے۔حال ہی میں فوت ہونے والے رشی کپور نے اپنی موت سے قبل دوبارہ اپنے بچوں کے ہمراہ پاکستان آنے کی خواہش پر مبنی ایک ٹویٹر پیغام بھی جاری کیا تھا۔ اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا تھا کہ امید ہے کہ وہ اور ان کے بچے اکٹھے پاکستان میں اپنا گھر دیکھ سکیں گے۔ رشی کپور نے دو سال قبل مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ”فاروق عبداللہ جی، سلام! میں آپ کی بات کی مکمل تائید کرتا ہوں، جموں و کشمیر ہمارا ہے اور مقبوضہ کشمیر پاکستان کا ہے۔ یہی واحد راستہ ہے جس سے ہم یہ مسئلہ حل کر سکتے ہیں۔ یہ ماننا پڑے گا، میں 65 سال کا ہو گیا ہوں اور مرنے سے پہلے اپنے بچوں کے ساتھ پاکستان دیکھنا چاہتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ میں اور میرے بچے اپنی آبائی جگہ دیکھیں۔ اب بس کروا دیجئے۔ جے ماتا دی۔ تاہم وہ اپنی خواہش کی تکمیل سے قبل ہی دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔!“
تاہم باخبر حکومتی ذرائع کے مطابق خیبر پختونخواہ کی حکومت نے کپور حویلی کو خرید کر اسے ایک ثقافتی میوزیم میں تبدیل کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے جس پر جلد عمل درآمد ہو جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button