کھانا کھانے کے فوری بعد کیا نہیں کرنا چاہیئے

اچھی صحت کےلیے اچھا کھانا ہی اہم نہیں ہوتا بلکہ کھانے کے بعد اپنائے جانے والے کچھ معمولات بھی صحت بنانے یا بگاڑنے میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں لاشعوری طور پر ایسے بے شمار کام کرتے ہیں جو ہماری صحت کےلیے مضر ہوتے ہیں۔ آہستہ آہستہ یہ ہماری عادت بن جاتے ہیں اور یہی عادات آگے چل کر ہماری صحت پر خطرناک اثرات مرتب کرتی ہیں۔
بہت سے لوگ اس بات سے نا واقف ہیں کہ ہماری کچھ عام عادات ایسی ہیں جو کھایا پیا غارت کر دیتی ہیں۔ ان عادات کی بدولت ہم ناصرف غذائی فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں بلکہ الٹا بہت سی بیماریوں کو بھی دعوت دیتے ہیں۔ کھانے کے بعد کچھ امور کی انجام دہی ایسی ہے جو مسلسل انجام دینا جان لیوا چابت ہو سکتا ہے۔
چائے کے شوقین افراد کھانے کے فوراً بعد چائے پینا پسند کرتے ہیں۔ یہ عادت ہمارے نظام ہضم پر خطرناک طریقے سے اثر انداز ہوتی ہے۔ خاص طور پر اگر ہمارے کھانے میں پروٹین شامل ہو تو چائے اس کے اجزاء کو سخت کردیتی ہے نتیجتاً یہ مشکل سے ہضم ہوتے ہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ کھانے سے ایک گھنٹہ قبل اور بعد میں چائے سے گریز کیا جائے کیوں کہ چائے میں ایک ایسا عنصر پایا جاتا ہے جو جسم میں آئرن جذب کرنے کی صلاحیت کو انتہائی کم کردیتا ہے۔ جب ہم کھانا کھا کر چائے پیتے ہیں تو چائے کی وجہ سے ہماری خوراک میں شامل آئرن جسم میں جذب نہیں ہوپاتا۔ اس لیے خوراک میں شامل آئرن سے فائدہ اٹھانے کےلیے آپ کو کھانا کھانے کے فوری بعد چائے سے گریز کرنا چاہئے ۔
چہل قدمی کرنا ویسے تو کھانا ہضم کرنے کا بہترین طریقہ ہے لیکن اسے کھانے کے فوراً بعد نہیں کرنا چاہیئے۔ کھانے کے فوراً بعد چہل قدمی جسم میں تیزابیت پیدا کرتی ہے۔ کھانے اور چہل قدمی کے درمیان کم از کم آدھے گھنٹے کا وقفہ ہونا چاہیئے۔
کھانے کے فوراً بعد پھل کھانا بھی ہاضمے کے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ پھلوں کے سخت اجزاء کو ہضم کرنے کےلیے ضروری ہے کہ آپ کا نظام ہضم کام کرنے کے قابل ہو۔ کھانا اور پھل کھانے کے درمیان بھی 30 سے 40 منٹ کا وقفہ ہونا چاہیئے۔ کھانے کے فوری بعد پھل کھانے سے صحت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ کھانے کے بعد کھایا جانے والا پھل عمل انہضام کو سست کردیتا ہے۔ معدے کوخوراک ہضم کرنے میں زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے اور یوں اس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے ۔
کھانے کے بعد غسل کرنا جسم میں خون کی روانی کو تیز کرتا ہے۔ ہاضمے کے عمل کے دوران خون آپ کے معدے کے گرد رواں رہتا ہے۔ اگر آپ کھانے کے فوراً بعد نہائیں گے تو خون کی روانی صرف معدے کے بجائے پورے جسم میں ہوگی اور یہ ہاضمہ کے عمل کو سست کرے گا۔
کھانے کے فوراً بعد قیلولہ کرنے یا لیٹنے سے بھی گریز کرنا چاہیئے۔ لیٹنے سے ہاضمہ کا جوس ہضم ہونے کے بجائے واپس معدے میں چلا جاتا ہے جو تیزابیت پیدا کرسکتا ہے لہٰذا کھانے کے فوراً بعد لیٹنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ طبی ماہرین دوپہر کے کھانے کے بعد تھوڑی دیر کےلیے سونے کو مفید قرار دیتے ہیں۔ مگر دوپہر کے کھانے اور نیند کے درمیان وقفہ بہت ضروری ہے۔ بات اگر رات کے کھانے کی ہو تو کھا نا کھاکر فوراً بستر پکڑنا بیماریوں کو دعوت دینے کے برابر ہے۔کچھ لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ وہ رات کو دیر سے کھانا کھاتے ہیں اور پھر فوراً ہی سوجاتے ہیں۔ ایسے لوگو ں کو یہ عادت فوری طور پر چھوڑ دینی چاہئے۔
رات کے کھانے اور بستر میں جانے کے درمیان کم از کم دو گھنٹے کا وقفہ لازمی رکھیں۔ اس دوران آپ کا کھانا بھی ہضم ہوجائے گا اور رات کو نیند بھی اچھی آئے گی۔ سگریٹ نوشی یوں تو ایک مضر عادت ہے لیکن کھانے کے فوراً بعد سگریٹ پینا جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ آپ کے ہاضمے کے پورے عمل کو تباہ کرسکتا ہے۔ لہٰذا کھانے اور سگریٹ نوشی کے درمیان کم از کم ایک گھنٹے کا وقفہ رکھیں۔ وہ لوگ جو کھانے کے بعد سگریٹ پینے کی عادت میں مبتلا ہیں ان میں السر کاامکان کئی گنا بڑھ جاتا ہے طبی ماہرین کے مطابق کھانے کے بعد ایک سگریٹ ،دس سگریٹ پینے کے برابر ہے۔
گرم موسم میں ٹھنڈا پانی سب کو ہی اچھا لگتا ہے۔ کھانا کھانے کے بعد بھی ہم میں سے اکثر لوگ ٹھنڈا پانی ہی پیتے ہیں لیکن ٹھنڈے پانی کا استعمال صحت کےلیے انتہائی مضر قرار دیا جاتا ہے۔ ٹھنڈ ا پانی نظام ہضم کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ جب خوراک اچھی طرح ہضم ہی نہیں ہوگی تو وہ ہمارے جسم کو بھلا کیا فائدہ پہنچائے گی۔ اس لیے گرمیوں کے موسم میں چاہے کتنی ہی طلب کیوں نہ ہو، کھانے کے بعد ٹھنڈے پانی کا استعمال ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔ تاہم کھانے کے فوراً بعد نیم گرم پانی پینا صحت اور ہاضمہ کےلیے بہترین ہے۔ کھانے کے بعد آئس کریم، سافٹ ڈرنک یا چائے کی جگہ نیم گرم پانی پیا جاسکتا ہے۔
