کیاکپتان نے ٹوئٹر پر لوگوں کو جمائمہ کی وجہ سے ان فالو کیا؟


وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ٹوئٹر پر تمام لوگوں کو ان فالو کرنے کا عمل سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے اور لوگ یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا انہوں نے ایسا غلطی سے کیا یا پھر بشریٰ بی بی کے کہنے پر کیا کیونکہ کپتان کی جانب سے ان فالو کیے جانے والے ٹویٹر اکاؤنٹس میں سب سے اہم انکی سابقی اہلیہ جمائمہ خان کا تھا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ خاتون اول کو یہ رابطہ پسند نہ ہو اور انکی فرمائش یا اصرار پر کپتان کو ایسا کرنا پڑا ہو۔ لہذا فیس سیونگ کی خاطر ایسا کرتے وقت کپتان نے ایک کی بجائے تمام لوگوں کو ان فالو کر دیا بشمول صدر پاکستان عارف علوی۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شاید وزیراعظم نے غلطی سے سے یہ کام کر دیا۔ تاہم اگر ایسا انہوں نے غلطی سے کیا ہوتا تو یہ غلطی سدھاری جا سکتی تھی لیکن دو روز گزر جانے کے باوجود انہوں نے دوبارہ کسی کو فالو نہیں کیا۔ یاد رہے کہ عمران خان کو ٹوئٹر پر ایک کروڑ 29 لاکھ لوگ فالو کرتے تھے جبکہ وہ خود صرف 18 لوگوں کو فالو کرتے تھے جن میں ان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان بھی شامل تھیں۔ لہذا جہاں سوشل میڈیا پر صارفین وزیراعظم کی جانب سے لوگوں کو ان فالو کرنے کی وجہ پر بحث کر رہے ہیں وہیں لوگ ان کی جانب سے جمائما خان کو بھی ان فالو کرنے پر رنجیدہ دکھائی دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ کم از کم عمران خان کو اس خاتون کے ساتھ تو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا جو ان کے دو نہیں بلکہ تین بچے پال رہی ہے۔
ایک ٹوئٹر صارف شاز ملک نے لکھا کہ ’ویسے تو عمران خان نے سبھی کو ان فالو کیا ہے مگر مجھے یقین ہے کہ اس حرکت پر جمائما اندر سے کچھ ٹوٹ گئی ہوں گی۔‘ ایک صارف نے لکھا کہ ’اب خان صاحب کے لیے کوئی بھی انسان خاص نہیں رہا ہے، سب کو ان فالو کر دیا بشمول پاکستان کے اکلوتے صدر کو۔‘ اکثر صارفین نے کہا کہ اب وہ اپنے علاوہ کسی کی بھی ٹویٹس نہیں دیکھ سکیں گے جبکہ کچھ صارفین مختلف دعوے بھی کرتے دکھائی دیے کہ شاید عمران خان نے ایسا بشری بی بی کے کہنے پر کیا ہے کیوں کہ کوئی بھی بیوی اپنے خاوند کا سابقہ اہلیہ کے ساتھ رابطہ برداشت نہیں کر سکتی خصوصا جب وہ پہلے ہی دو خواتین کو طلاق دے چکا ہو۔
خیر یہ معمہ تو برقرار رہے گا، جب تک عمران خان اس بارے میں خود کچھ نہیں کہہ دیتے یا اس حوالے سے وضاحت نہیں کر دیتے۔ عمران خان اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کی جانے والی ٹویٹس کے باعث اکثر خبروں کی زینت بنتے ہیں تاہم جب انھوں نے ٹوئٹر پر ان تمام افراد کو ’ان فالو‘ کر دیا جنھیں وہ فالو کیا کرتے تھے تو صارفین کے ذہن میں کئی سوالات جنم لینے لگے۔ کچھ عرصہ پہلے تک عمران خان صرف 18 افراد کو فالو کر رہے تھے لیکن گذشتہ روز اچانک انھوں نے ان تمام افراد کو ’ان فالو‘ کر دیا۔ خیال رہے کہ حامد میر وہ واحد صحافی تھے جنھیں عمران خان ٹوئٹر پر فالو کیا کرتے تھے، تاہم گذشتہ برس انھیں بھی ان فالو کر دیا گیا تھا۔ جب حامد میر سے اس حوالے سے سوال پوچھا گیا تھا تو انھوں نے جواب دیا تھا کہ ’یہ ان کے لیے فخر کی بات ہے کہ ایک سیاستدان جب حزبِ اختلاف میں تھا تو تب انھیں فالو کرتا تھا اور جب اقتدار میں آیا تو اس نے مجھے ان فالو کر دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے میں کچھ ایسا کر رہا ہوں جو عمران خان کو پسند نہیں ہے۔‘
عمران خان کے علاوہ بھی ٹوئٹر پر کئی مشہور شخصیات ایسی ہیں جو کسی کو بھی فالو نہیں کرتیں۔ ان میں تبت کے مقبول روحانی پیشوا دلائی لامہ اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف بھی شامل ہیں جنھوں نے رواں برس ہی ٹوئٹر اکاؤنٹ بنایا ہے۔ تاہم فرق یہ ہے کہ عمران اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کو چلاتے تھے جبکہ نواز شریف کو اس حوالے سے مدد لینا پڑتی ہے چنانچہ انہوں نے اپنا ٹویٹر اکاونٹ رسما بنا رکھا ہے۔ عمران نے مارچ 2010 میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پر اکاؤنٹ بنایا تھا اور انھیں اس وقت ایک کروڑ 29 لاکھ سے زیادہ لوگ فالو کرتے ہیں۔
عمران خان اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جن 18 افراد کو فالو کرتے تھے ان میں ان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ بھی شامل تھیں۔ ان کے علاوہ وہ اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف سے منسلک تین ٹوئٹر اکاؤنٹس کو بھی فالو کرتے تھے۔ تحریک انصاف میں وہ جماعت کے نائب چیئرمین اور موجودہ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، گورنر سندھ عمران اسماعیل، وزیرِ برائے انسانی حقوق شیریں مزاری، سابق ترجمان پی ٹی آئی مرحوم نعیم الحق اور موجودہ صدر عارف علوی کو بھی فالو کرتے تھے۔ پارٹی کے دیگر سینیئر اراکین جیسے اسد عمر، جہانگیر ترین، عندلیب عباس، شفقت محمود اور سیف اللہ نیازی اور ان کے علاوہ شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی عمران خان کے فالو کیے گئے اکاؤنٹس میں شامل ہیں۔
اس حوالے سے جب وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے ڈیجیٹل میڈیا ڈاکٹرارسلان خالد سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان اپنا ذاتی اکاؤنٹ خود چلاتے ہیں، اس لیے انھوں نے سب کو ان فالو کیوں کیا اس کا جواب بھی وہی دے سکتے ہیں۔‘ اس اکاؤنٹ کے علاوہ عمران خان ’پرائم منسٹر آفس، پاکستان‘ نامی پاکستانی وزیرِ اعظم کا سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی دیکھتے ہیں جس کے ذریعے وہ 13 اکاؤنٹس کو فالو کرتے ہیں۔ فالو کیے جانے والے اکاؤنٹس میں عمران خان نامی دو ایسے اکاؤنٹ ہیں جن پر عربی اور ترک زبان میں ٹویٹ ہوتے ہیں۔ یہاں وہ صدر عارف علوی کو بھی فالو کرتے ہیں۔
عمران خان کی جانب سے تمام لوگوں کو ان فالو کرنے کے بعد اکثر سوشل میڈیا صارفین یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ اب ان کی ٹوئٹر فیڈ پر کیا نظر آئے گا۔اسکا جواب یہ ہے کہ اگر آپ ٹویٹر پر کسی کو فالو نہیں کرتے تو آپ کی فیڈ خالی ہی رہے گی، اور ٹوئٹر آپ کی دلچسپی کے حساب سے اکاؤنٹس کی فہرست آپ کی ٹائم لائن پر لاتا ہے۔ تاہم کیونکہ عمران خان 2010 سے ٹوئٹر استعمال کر رہے ہیں اور وہ صرف ایک وقت میں سب سے زیادہ 19 ہی اکاؤنٹس کو فالو کر رہے تھے اس لیے یہاں بات ایلگورتھم کی بھی کرنی پڑے گی۔ ٹوئٹر پر جب آپ کسی کو فالو نہیں بھی کر رہے ہوتے تب بھی اکثر اس شخص کی ٹویٹس آپ کو باقاعدگی سے دکھائی دیتی ہیں۔
ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ٹوئٹر اس پلیٹ فارم پر آپ کی سرگرمی کا بغور مطالعہ کر رہا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ آپ کسی ایک ٹویٹ پر کتنی دیر تک رکتے ہیں اور اگر اس شخص کی ٹویٹ کو لائیک، ری ٹویٹ کرتے ہیں یا اس کا جواب دیتے ہیں تو یہ بھی ریکارڈ کر لیا جاتا ہے۔ یعنی آپ کی ٹائم لائن صرف ان لوگوں سے نہیں بنتی جنھیں آپ فالو کرتے ہیں، بلکہ اس میں آپ کی دلچسپی کے موضوعات سے متعلق ٹویٹس بھی آ جاتی ہیں۔ اسی طرح ٹوئٹر پر چلنے والے ٹرینڈز میں جا کر بھی دیگر ٹویٹس دیکھی جا سکتی ہیں۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان دوبارہ سے ٹویٹر پر دوسروں کو فالو کرنا شروع کرتے ہیں یا نہیں اور اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو کیا وہ جمائمہ خان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ کریں گے یا نہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button