کیا اب بھی نواز شریف کا وزیراعظم بننا ممکن ہے؟

ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کے بعد جہاں نتائج آنے کا سلسلہ سست روی کا شکار ہے اور آنے والے نتائج میں آزاد امیدوار فاتح قرار دئیے جا رہے ہیں وہیں دوسری طرف جہاں تحریک انصاف نے حکومت بنانے کا دعوی کیا ہے وہیں نون لیگی قیادت اب بھی پر امید ہے کہ آئندہ وزیرِاعظم نواز شریف ہی ہونگے۔
دوسری جانب بھارتی میڈیا نے اپنے تبصروں میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی خواہش ہے کہ اس بار نواز شریف اقتدار میں آئیں۔بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں اسلام آباد میں تعینات سابق بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس بار نواز شریف کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔سابق ہائی کمشنر کے مطابق پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی واضح خواہش ہے کہ اس بار نواز شریف وزیر اعظم بنیں۔
اخبار نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ اگرچہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی ناراضگی کی وجہ سے ہی 2013 کے انتخابات کے بعد بننے والی نواز شریف کی حکومت کو کرپشن کے الزامات کی وجہ سے ختم کیا گیا تھا لیکن اب اسٹیبلشمنٹ کی ترجیحات تبدیل ہو چکی ہیں۔اخبار میں دیگر تجزیہ نگاروں اور نشریاتی اداروں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ماضی میں عمران خان کی حمایت کرنے والی اسٹیبلشمنٹ اس بار نواز شریف کی حمایت میں ہے۔
اخبار کے مطابق نواز شریف کی جماعت نے اپنے انتخابی منشور میں یہ بات بھی واضح کی ہے کہ بھارت سے اس وقت ہی دوستانہ تعلقات بحال ہوں گے جب انڈیا مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرکے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرے گا۔رپورٹ کے مطابق نواز شریف کے اقتدار میں آنے کی صورت میں بھارت میں رواں برس لوک سبھا کے ہونے والے انتخابات کے بعد تشکیل ہونے والی حکومت پاکستان سے تعلقات کے حوالے سے لائحہ عمل طے کرے گی اور اس وقت بھارت پاکستانی انتخابات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف چوتھی بار وزیر اعظم بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔نشریاتی ادارے نے نواز شریف کو بادشاہ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں وہ نمایاں طور پر جیتنے والوں میں نظر آتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگر ان کی جماعت واضح برتری لیتی ہے تو وہ چوتھی بار وزیر اعظم بنیں گے اور ابھی تک کے حالات سے وہ واضح برتری کے ساتھ جیتتے دکھائی دیتے ہیں۔
رپورٹ میں نواز شریف کو سابق وزیر اعظم عمران خان کا روایتی حریف بھی قرار دیا گیا اور بتایا گیا کہ 2013 کے بعد جب نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم بنے تو عمران خان کی وجہ سے ہی انہیں مدت مکمل کرنے سے قبل ہی وزارت عظمیٰ سے ہٹایا گیا تھا۔تاہم زمینی حقائق کے مطابق اس وقت تک الیکشن کمیشن کے اعلان کردہ نتائج کے مطابق پی ٹی آئی نے پانچ، ن لیگ پانچ اور پاکستان پیپلز پارٹی چار نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف، سندھ میں پیپلزپارٹی جبکہ پنجاب میں نون لیگ آگے ہے۔
خیال رہے کہ وفاقی حکومت بنانے کیلئےکسی بھی سیاسی جماعت کو قومی اسمبلی کی 169نشستیں درکار ہوں گی۔ عام افراد کے ذہنوں میں سوال ابھرتا ہے کہ وفاق میں حکومت بنانے کیلئے کسی بھی سیاسی جماعتوں کو کتنی نشستوں کی ضرورت پڑے گی۔ قانون کے مطابق وفاق میں وہی سیاسی جماعت حکومت بنا سکے گی جس کے پاس سادہ اکثریت ہوگی اور حکومت بنانے کے لیے مجموعی طور پر 169نشستوں کی ضرورت ہوگی۔قومی اسمبلی کی عمومی نشستیں 266 ہیں جبکہ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں شامل کرکے کل نشستیں 336 بنتی ہیں۔ تاہم الیکشن نتائج سے یہی لگتا ہے کہ کوئی بھی جماعت سادہ اکثریت سے حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہو گی۔
