کیا ابppp وفاقی وزارتیں لینا اورpmln اسے دینا نہیں چارہی؟

خبریں گرم ہیں کہ پیپلزپارٹی نے حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایسی خبریں بھی آرہی ہیں کہ پیپلزپارٹی کو آٹھ وزارتیں دینے کا فیصلہ ہو رہا ہے۔ اور بلاول بھٹو بھی دوبارہ وزارت خارجہ سنبھالنے کے لیے بے تاب ہیں۔ سینئر صحافی مزمل سہروردی کے مطابق اب سوال یہ ہے کہ جب حکومت بن رہی تھی تو پیپلزپارٹی وزارتیں لینے کے لیے تیار نہیں تھی۔ لیکن اب وہ وزارتیں لینے کے لیے بے تاب کیوں ہو گئے ہیں۔ ایسے کیا عوامل ہیں جو پہلے پیپلزپارٹی نے وزارتیں لینے کے لیے انکار کیا۔ اور پھر اب وہ وزارتیں لینے کے لیے بے تاب ہیں؟
مزمل سہروردی کے مطابق سادہ سی بات ہے دو ماہ پہلے کسی کو بھی یہ خیال نہیں تھا کہ شہباز شریف دو ماہ میں معاشی حالات کا رخ اس قدر بدل دیں گے۔ خود مسلم لیگ (ن) کے اندر بہت بڑے بڑے سیاستدان اس بات کے حامی تھے کہ پنجاب کی حکومت تو لے لی جائے لیکن مرکز کی حکومت لینے سے معذرت کر لی جائے۔ سب دوستوں کی یہی رائے تھی کہ صوبہ کی حکومت اس وقت جنت ہے اور مرکز کی حکومت جہنم ہے۔ اس لیے جہنم کی آگ سے دور ہی رہا جائے۔مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں کا خیال تھا کہ مرکزی حکومت کے قریب بھی نہیں جانا چاہیے بلکہ دامن چھڑا لیا جائے۔ سب کی رائے تھی ابھی بہت غیر مقبول ہو گئے ہیں۔ آگے تو ایسے فیصلے کرنے پڑیں گے کہ مزید غیر مقبول ہو جائیں گے۔ ایسے سخت فیصلے کرنے پڑیں گے کہ عوام میں جانا مشکل ہو جائے گا۔ مزمل سہروردی کے بقول ایسی ہی رائے پیپلزپارٹی کے اندر بھی تھی۔ پیپلزپارٹی کے اندر بھی یہی رائے تھی کہ مرکزی حکومت ایک آگ کا دریا ہے اس سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔ ملائی کھائی جائے لیکن آگ کے دریا سے دور رہا جائے۔ سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں پکی کی جائیں ۔ صوبائی حکومتیں تو ملائی ہیں۔ صدر کا عہدہ لیا جائے۔ مرکزی حکومت میں کوئی ذمے داری لینے کی بجائے دو صوبوں کی حکومتیں لے لی جائیں باقی دو صوبوں میں گورنر لے لیے جائیں۔ چاروں صوبوں میں حکومت میں شامل ہو جائیں گے۔ لیکن مرکزی حکومت سے دور رہا جائے۔ چیئرمین سینیٹ لے لیا جائے۔ ہر وہ عہدہ لے لیا جائے جس میں کوئی عوامی ذمے داری نہ ہو بس ملائی ہی ملائی ہو۔ اس لیے جب مرکزی حکومت بن رہی تھی تو ن لیگ منتیں کر رہی تھی کہ پیپلزپارٹی کو حکومت میں ساتھ شامل ہونا چاہیے۔ لیکن پیپلزپارٹی مسلسل انکار کر رہی تھی۔وہ سمجھ رہے تھے ن لیگ اور گر جائے گی۔ تحریک انصاف کا تو پہلے ہی پتہ کٹ گیا ہے۔ ن لیگ مرکزی حکومت میں اپنے وزن سے خود ہی گر جائے گی۔ پھر میدان میں پیپلزپارٹی اکیلی آپشن کے طور پر رہ جائے گی۔ اس لیے ن لیگ کو اکیلے مرکزی حکومت کرنے دیں۔ وہ مزید غیر مقبول فیصلے کریں گے، سخت فیصلے کریں گے۔ ہم ان سے اعلان لا تعلقی رکھیں گے اور لوگوں کو بتائیں گے ہم اس میں شامل نہیں ہیں۔اس طرح ایک ٹکٹ میں دو مزے ہو جائیں گے۔
لیکن حالات تو بدل گئے ہیں۔ شہباز شریف نے دو ماہ میں سارے اندازے غلط ثابت کر دیے ہیں۔ لوگ مزید تباہی کا اندازہ لگائے بیٹھے تھے اور یہاں بہتری کے آثار پیدا ہو گئے ہیں۔ لوگ غیر مقبول ہونے کے اندازے لگائے بیٹھے تھے اور یہاں امید پیدا ہوگئی ہے کہ اگر کارکردگی بہتر ہوتی گئی تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لوگوں کے اندازوں سے بر عکس ن لیگ پنجاب میں تمام ضمنی انتخابات جیت گئی۔ ورنہ 2018 میں عمران خان ضمنی انتخابات ہارے جا رہے تھے۔ حکومت کے لیے ضمنی انتخابات جیتنا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن ن لیگ نے پنجاب میں اور بالخصوص لاہور کے تمام ضمنی انتخابات جیت کر سب سیاسی اندازے غلط ثابت کر دیے ہیں۔
مزمل سہروردی کے بقول دو ماہ پہلے جب حکومت بن رہی تھی تو کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ سعودی سرمایہ کاری اتنی جلدی ممکن ہو جائے گی۔ اسٹاک ایکسچینج اتنی اوپر چلی جائے گی۔ لوگ ناکامی کا حصہ دار نہیں بننا چاہتے۔ کامیابی میں تو سب حصہ دار بننا چاہتے ہیں۔ اب جب پیپلزپارٹی کے سب سیاسی اندازے غلط ثابت ہو گئے ہیں تو انھوں نے مرکزی حکومت میں شامل ہونے کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔ کامیاب حکومت سے کون دور رہے۔ اب جب یہ یقین ہو گیا ہے کہ شہباز شریف نے معاملات سنبھال لیے ہیں اور یہ نظام، تو پانچ سال چل جائے گا تو وزارتیں لینے کا شوق زور پکڑ گیا ہے۔لیکن اب سوال یہ ہے کہ کیا ن لیگ کو پیپلزپارٹی کو وزارتیں دے دینی چاہیے۔ن لیگ کے اندر اب یہ رائے موجود ہے کہ اب نہیں دینی چاہیے۔ تب ہم دینا چاہتے تھے لیکن اب نہیں دینا چاہتے۔ جیسے تب وہ نہیں لینا چاہتے تھے اب لینا چاہتے ہیں۔ ن لیگ کا خیال ہے کہ اب ہم نے کام چلا لیا ہے۔ اب ہمیں ان کی ضرورت نہیں۔ ایسے ہی نظام کو چلنا چاہیے۔جو معاہدہ ہو گیا ہے وہ ٹھیک ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہونی چاہیے۔ ن لیگ کے اندر یہ رائے ہے کہ ہم نے جس اسپیڈ سے کام شروع کیا ہے۔ اگر پیپلز پارٹی کابینہ میں آگئی تو اسپیڈ کم ہو جائے گی۔ حکومت کی کارکرد گی خراب ہو جائے گی۔ پہلے بھی ناکامی کی بڑی وجہ پیپلزپارٹی تھی اور ملبہ ہم پر ڈال دیا۔ اب ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ باقی کل کیا ہوجائے کسی کو کیا پتہ، تادم تحریر یہی سوچ پائی جا رہی ہے۔
