کیا احتجاجی ینگ ڈاکٹرز پر کیمیکل والا اسپرے پھینکا گیا؟

29 اگست کے روز لاہور میں ھکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے ینگ ڈاکٹرز نے الزام لگایا ہے کہ پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے گندھک کا تیزاب پھینکا جس کے باعث انکے جسم کے مختلف حصوں ہر سرخ دھبے بن گئے ہیں اور وہ شدید جلن محسوس کر رہے ہیں۔ متاثرہ ڈاکٹروں نے پنجاب پولیس کا یہ دعویٰ مسترد کر دیا ہے کہ انہیں منتشر کرنے کے لیے شملہ مرچ کا کے پاوڈر والا پانی پھینکا گیا۔
یاد رہے کہ لاہور میں ڈاکٹروں کے احتجاجی مظاہرے پر پولیس کی جانب سے زہریلے سپرے کے استعمال کے بعد بیشتر کی طبیعت خراب ہونے پر ڈاکٹروںنے پنجاب کے بڑے ہسپتالوں میں احتجاجاً او پی ڈی بند رکھیں۔ اس سے پہلے اتوار کے روز لاہور میں ڈاکٹرز نے نیشنل لائسنسنگ امتحان کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے گارڈن ٹاﺅن کے امتحانی مرکز کے باہر مظاہرہ کیا تو لاہور پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے زہریلا سپرے استعمال کیا تھا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے جنگلے اور خار دار تاریں لگا رکھی تھیں اور وہ رکاوٹوں کے اس پار کھڑے نعرے بازی کر رہے تھے۔ لیکن پھر بھی پولیس نے اچانک ان پر زہریلا کیمیائی سپرے پھینکنا شروع کر دیا دیا جو کہ پانی میں ملایا گیا سلفیورک ایسڈ تھا۔ اس واقعے بارے گفتگو کرتے ہوئے سروسز ہسپتال میں موجود ڈاکٹر حماد نے بتایا کہ ’ہمارے پاس سروسز ہسپتال میں کئی طلبہ اور ینگ ڈاکٹرز لائے گئے۔ اس فلور پر کل 11 لڑکے لائے گے جن کی طبیعت خاصی خراب تھی اور وہ درد اور جلن کی شدت کے باعث چیخیں مار رہے تھے۔ انکا کہنا تھا کہ ان ینگ ڈاکٹروں کا معائنہ کرنے پر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ان پر کوئی ایسا کیمیکل پھینکا گیا ہے جس سے انھیں فرسٹ ڈگری برنز ہوئے ہیں اور ان کے ہاتھوں، بازوؤں اور جسم کے دیگر حصوں پر سرخ رنگ کےدھبے بنے ہوئے تھے۔’انھوں نے بتایا کہ ‘ہم نے فوری طور پر ان کے جسم کے متاثرہ حصوں پر دوا لگائی اور ان کی آنکھوں کی جلن کو کم کرنے کے لیے محلول بنا کر ڈالا تاکہ انھیں کچھ آرام ملے۔
دوسری جانب لاہور پولیس کے ترجمان رانا عارف کا دعوی یے کہ پولیس کی جانب سے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آرتھرائزڈ پیپر سپرے کا استعمال کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ڈاکٹروں کے مجمعے نے خلاف قانون بیرئیرز کو ہٹاتے ہوئے امتحانی مرکز میں داخلے کی کوشش کی جس سے مشتعل ہجوم کو پرامن طور پر منتشر کرنے کے لیے پیپر سپرے استعمال کیا گیا جس کے کوئی جانی نقصانات نہیں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے استعمال کیا جانے والا پیپر سپرے بین الاقوامی معیار کے مطابق تھا۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب پولیس کو یہ سپرے حکومت کی جانب سے مہیا کیا جاتا ہے تاکہ بوقت ضرورت مشتعل ہجوم کو منشتر کیا جا سکے۔ اس لیے قانونی طور پر پولیس اس کا استعمال کر سکتی ہے۔’ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا بھر میں مشتعل ہجوم کو پرامن طریقے سے منتشر کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جاتے ہیں جن میں اس پیپر سپرے کا استعمال بھی ہے۔ لاہور پولیس کے ترجمان کے مطابق پاکستان میں مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے اوسی گیس ٹیوب پیپر سپرے کٹ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کیمیائی اجزا کے ماہرین کے مطابق عمومی طور پر اوسی گیس ٹیوب پیپر سپرے میں اولیورسن شملہ مرچ، ایک ٹیوب نما سلنڈر میں مائع نائٹروجن گیس کے پریشر سے بھرا جاتا ہے۔ اس پیپر سپرے کے اجزا میں اولیورسن شملہ مرچ کا تیل جس میں مرچ شامل ہوتی ہے۔ اور کیپسائسن نامی جزو شامل ہوتا ہے۔ یہ وہ ہی کیمیکل ہے جو زیادہ تر مرچوں میں پایا جاتا ہے اور یہی سپرے میں شدت لاتا ہے۔
کیمیائی ماہرین کے مطابق اس کیمیکل میں مرچ کے مقابلے میں کیپسائسن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور اس کیمیل کے اثرات کئی گھنٹوں تک رہتے ہیں۔ تاہم پولیس کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ آج سے پانچ سال پہلے تک ایسا کوئی سپرے پولیس کے پاس نہیں تھا اور نا ہی ہم اس کا استعمال کرتے تھے۔ اسے شہباز شریف دور میں پہلی مرتبہ پاکستان منگوایا گیا جسے پہلے ترکی اور اب امریکہ سے درآمد کیا جاتا ہے۔ یہ سپرے پاکستان میں تیار نہیں کیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ عموماً پاکستان میں پولیس ایسے سپرے کا استعمال بہت زیادہ نہیں کرتی۔ انھوں نے کہا کہ میرے خیال میں ڈاکٹروں پر جس سپرے کا استعمال کیا گیا اس میں کمیکل کی مقدار عام مقدار سے زیادہ تھی جس وجہ سے ڈاکٹرز اسے سلفیورک ایسڈ کہہ رہے ہیں۔ انھوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ہو سکتا ہے کہ پولیس نے ایسا سپرے کیا ہو جس کی میعاد ختم ہو چکی ہو، کیونکہ یہ سپرے زیادہ استعمال نہیں ہوتے ہیں۔
