کیا ادریس خٹک کو انعام رحیم کی طرح رہائی مل پائے گی؟


نو ماہ قبل صوابی سے حراست میں لئے جانے والے انسانی حقوق کے کارکن ادریس خٹک پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے تاہم ایسا ہی الزام سابق لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم پر لگا کر انہیں حراست میں لیا گیا تھا جنہیں بعد ازاں عدم ثبوتوں کی بنا پر رہائی مل گئی تھی کیونکہ انعام الرحیم ایک ریٹائرڈ آرمی آفیسر تھے اور ان کی حیثیت ایک سویلین کی تھی لہٰذا سپریم کورٹ نے یہ سوال اٹھا دیا تھا کہ کیا کسی سویلین کا فوجی قانون کے تحت ترائل کیا جا سکتا ہے؟
ادریس خٹک کو اغوا کرنے کے بعد آٹھ ماہ تک نہ تو وزارت داخلہ نے اور نہ ہی کسی حکومتی ایجنسی نے یہ تسلیم کیا تھا کہ وہ ان کی حراست میں ہیں۔ تاہم ایک ماہ پہلے وزارت خارجہ کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ ادریس خٹک کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے خلاف اسی قانون کے تحت مقدمہ چلے گا۔ تاہم ان کے وکلا کا یہ موقف ہے کہ ایک سویلین کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کا کیس کیسے بن سکتا ہے جبکہ وہ انسانی حقوق کے تحفظ کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل سے منسلک ہیں اور ان کا کسی حکومتی یا ریاستی ادارے سے کوئی تعلق نہیں۔
زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ادریس خٹک کو گرفتار ہوئے نو ماہ گزر گئے لیکن اب تک ان کے خاندان کے کسی فرد کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ ادریس کے اغوا کے بعد سے ان کی بیٹیاں سخت غمناک ہیں کیونکہ نہ تو انہیں کیس کی تفصیلات بتائی گئی ہیں اور نہ ہی ان کے والد سے ملاقات کروائی گئی ہے۔
رواں برس جون میں، غیر معمولی طور پر ادریس خٹک کے اہلخانہ کو بتایا گیا کہ وہ پاکستان فوج کی ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی کی تحویل میں ہیں اور ان پر 1923 کے سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔ادریس کے خاندان کو یہ علم تو ہوگیا ہے کہا انہیں سیکرٹ ایکٹ کے تحت ایک فوجی مقدمے کا سامنا ہے تاہم انھیں کچھ علم نہیں ہے کہ ادریس خٹک پر کیا الزامات ہیں اور ممکنہ طور پر انھیں کبھی بتایا بھی نہیں جائے گا۔ وہ اب تک ادریس خٹک سے مل نہیں پائے ہیں نہ ہی بات کر پائے ہیں۔
ان حالات میں ادریس خٹک کی لاڈلی بیٹی 20 سالہ تالیہ کے لئے زندگی آسان نہیں ہے۔ روزانہ رات کو اپنے والد کو اپنے تمام دن کی کارگزاری سنانے والی تالیہ کے والدین کی ایک دہائی پہلے علیحدگی ہو گئی تھی جس کے بعد بیٹیوں کو باپ نے پالا جبکہ انکی ماں اب سوئزلینڈ میں مقیم ہیں۔ ادریس کی ایک بیٹی شمیسا شادی شدہ ہیں اور دوسری بیٹی 20 سالہ تالیہ خٹک انجیئنرنگ یونیورسٹی کی طالبہ ہے۔ تالیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس سے قبل کبھی اتنی تنہا نہیں ہوئیں۔ تاہم ان کی بار بار کی اپیل کے باوجود ابھی تک تالیہ کو ان کے والد سے ملنے کی اجازت نہیں ملی۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس نومبر میں صوابی ٹول پلازہ سے ادریس خٹک اور ان کے ڈرائیور کو سادہ لباس میں ملبوس افراد نے روکا تھا اور اپنی گاڑی میں بٹھا کر ساتھ لے گئے تھے۔ واقعے کے دو روز بعد ادریس خٹک کے ڈرائیور کو چھوڑ دیا گیا تھا جنہوں تھانے میں اغوا کی رپورٹ بھی درج کرائی اور بعد ازاں ادریس خٹک کے اہل خانہ کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں عبد الطیف آفریدی ایڈوکیٹ کے ذریعے گمشدگی کی درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔ ان کی اس طویل گمشدگی کے بعد ان کے زندہ ہونے کے بارے میں بھی شکوک و شبہات پیدا ہوگئے تھے لیکن اب بظاہر اس تصدیق سے ان کے اہل خانہ کو تسلی ہوئی ہوگی۔ مسنگ پرسن کمیشن کو موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق ادریس خٹک سکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں اور ان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی جاری ہے۔
خیال رہے کہ کچھ ماہ پہلے پاکستانی سکیورٹی اداروں نے معروف وکیل اور سابق آرمی کے افسر کرنل انعام الرحیم کو بھی اسی طرح گھر سے اغوا کیا تھا اور پھر ان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ تاہم بعد ازاں حکام سپریم کورٹ میں کرنل انعام کے خلاف کسی قسم کا کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے اور انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اس کیس کی روشنی میں ان کے وکیل کا یہ اصرار ہے کہ انعام الرحیم کی طرح ادریس بھی ایک سویلین ہیں اور ان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج نہیں کیا جاسکتا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ادریس خٹک کو بھی انعام رحیم کی طرف سے رہائی ملتی ہے یا ان کا ٹرائل ہوتا ہے۔
56 سالہ ادریس خٹک کا تعلق اکوڑہ خٹک سے ہے اور وہ عوامی نیشنل پارٹی کے سرکردہ رہنما بھی ہیں۔ انہوں نے روس سے اینتھروپالوجی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اور بطور محقق ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کے ساتھ بھی منسلک رہے ہیں۔ ان کی تحقیق کا ایک بڑا حصہ سابق فاٹا، خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے جبری طور پر گمشدہ کیے گئےافراد رہے ہیں جبکہ وہ فعال سماجی کارکن کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ان کے پراسرار طور پر غائب ہونے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور ان کی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔ خیال رہے کہ بشری علوم میں روس سے پی ایچ ڈی کرنے والے ادریس خٹک انسانی حقوق کے تحفظ کے بین الاقوامی تنظیموں سے وابستہ رہے ہیں۔
حال ہی میں ادریس خٹک کی بیٹی تالیہ خٹک نے ایک ویڈیو پیغام میں وزیر اعظم عمران خان اور انسانی حقوق کی وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری سے والد کی بازیابی میں مدد کی اپیل کی تھی۔ادریس خٹک کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انھیں کچھ علم نہیں ہے کہ ادریس خٹک کو کیوں اٹھایا گیا ہے، وہ حالیہ چند برسوں میں حکومت یا فوج پر تنقید نہیں کیا کرتے تھے۔ البتہ وہ بلوچستان کی سب سے بڑی جماعت نیشنل پارٹی کے ساتھ منسلک تھے۔ادریس خٹک کے اہلخانہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے ایک مہم کا آغاز کیا ہے تاکہ حکام پر بین الاقوامی دباؤ ڈالا جا سکے۔ اس سلسلے میں انھوں نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کے دفتر اور برطانیہ کے فارن اور دولت مشترکہ کے دفتر کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔’ خیال رہے کہ پاکستانی سیکیورٹی اداروں پر شہریوں کی جبری گمشدگی کے الزامات لگتے رہے ہیں تاہم ان اداروں اور حکومت کی جانب سے اس کی تردید کی جاتی رہی ہے۔ پاکستان کی حکومت نے لاپتا یا جبری طور پر گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے خصوصی کمیشن بھی بنایا تھا لیکن یہ بھی اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ نہ صرف ملک بھر میں جاری ہے بلکہ تیزی سے پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا، جہاں ادریس خٹک بطور محقق کام کرتے تھے، کہنا ہے کہ انھیں ‘جبری طور پر گمشدہ’ کیا گیا ہے، جسے وہ ریاستی اغوا کا نام دیتے ہیں۔پاکستان میں جبری گمشدگیوں کی ایک طویل تاریخ ہے اور ان واقعات میں اضافہ سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے دور میں سنہ 1990 کی دہائی کے آخر میں ہوا تھا۔ تاریخی طور پر غائب ہونے والے بلوچستان جیسے شورش زدہ علاقوں سے علیحدگی پسند یا جنگجو ہوا کرتے تھے یا اب حال ہی میں سندھ قوم پرست جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کارکن ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button