کیا ارب پتیوں کا ملک چین اب کمیونسٹ نہیں رہا؟

عالمی ماہرین کا ماننا ہے کہ آج کا چین بلاشبہ 100 پہلے والا خالص کمیونسٹ ملک نہیں رہا۔ حیران کن طور پر چین میں نچلی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام چل رہا ہے تاہم مرکزی سطح پر کیمونسٹ پارٹی آف چائنہ نے روس کے تلخ تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی کمیونسٹ بنیادوں کو نہیں چھوڑا اور شاید یہی چین کی ترقی اور کامیابی کا راز ہے۔
آج سے 100 سو سال قبل چین کے ہمسایہ ملک روس میں زار کی سلطنت ختم کرنے والی بولشوک تحریک سے متاثر چینی باغیوں کی ایک ٹولی نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا یا سی سی پی قائم کی۔ سویت کمیونزم کی طرح ان کی توجہ کا مرکز بھی مزدور طبقہ تھا۔ ابتدائی طور پر یہ تحریک بڑے بڑے شہروں میں مقبول ہوئی مگر اس وقت برسراقتدار کومنٹینگ قوم پرستوں یا کے ایم ٹی کے ہاتھوں ان کی مشکلات بڑھنے لگیں تو کمیونسٹ پارٹی کے ایک رہنما ماؤ ژیدونگ نے روایتی مارکسسٹ خیالات کو چھوڑ کے دیہاتی علاقوں میں مزاحمت کا سلسلہ شروع کر دیا۔ان کا یہ لائحہ عمل کامیاب رہا اور سی سی پی چند ہی برسوں میں کے ایم ٹی کی سب سے بڑی حریف جماعت بن گئی۔
دو دہائیوں تک خانہ جنگی کے بعد سی سی پی کامیاب ہوئی اور اکتوبر 1949 میں ماؤ نے پیپلز ریبپلک آف چائنا کی مارکس اور لینن کے خیالات پر بنیاد رکھی۔آج ایک صدی بعد بھی سی سی پی چین میں اقتدار سنبھالے ہوئے ہے۔اس کے موجودہ لیڈر شی جن پنگ کو بہت سے لوگ ماؤ کے بعد طاقتور ترین چینی لیڈر مانتے ہیں کیونکہ وہ پارٹی، ریاست اور آرمی تینوں کو اپنی گرفت میں رکھے ہوئے ہیں جو کہ کمیونسٹ خیالات میں اہم ترین تین عناصر ہوتے ہیں۔مگر آج کا چین ماؤ اور سی سی پی کے بانیوں کے خیالات سے بالکل مختلف ہے یہاں تک کہ بہت سے لوگوں کے خیال میں متضاد ہے۔
اگرچہ ماؤ لیبر کو مجموعی بنیادوں پر لے آئے، معیشت کو سنٹرلائز کر دیا اور اپنے ثقافتی انقلاب کے دوران سرمایہ دارانہ نظام کے حامیوں کو دیوار سے لگا دیا، لیکن آج چین میں دنیا کے ارب پتیوں کی دوسری بڑی تعداد موجود ہے۔ فوربز جریدے کی تازہ ترین فہرست کے مطابق چین میں 626 افراد کی مالیت ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے اور ان میں 239 اس فہرست میں گذشتہ سال شامل ہوئے ہیں۔صرف امریکہ میں اس سے زیادہ ارب پتی ہیں جہاں پر یہ تعداد 724 ہے تاہم کمپنیوں کی درجہ بندی میں چین سب سے آگے ہے۔ دنیا کی 500 بڑی کمپنیوں میں 124 چینی ہیں۔دوسرے نمبر پر امریکہ ہے جس کی 121 کمپنیاں ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق مجموعی قومی پیداوار کے حوالے سے امریکہ سب سے آگے ہے مگر قوتِ خرید کے تناظر میں چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔اس کا بینکاری کا سیکٹر بھی دنیا کا امیر ترین اور اثاثوں کے حساب سے دنیا کا سب سے بڑا بینک آئی سی بی سی بھی چین کا ہے۔
یعنی دنیا کے سب سے بڑے کمیونسٹ ملک کے پاس اتنی ذیادہ دولت ہے۔ کچھ ماہرین کے خیال میں جلد دنیا کا مرکزی معاشی سپر پاور بننے والا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اپنے قیام کے ایک صدی بعد بھی سی سی پی ہی چین میں ایک واحد سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے، جس کا طرز حکمرانی ملک بھر کے طول و عرض میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ پارٹی ہر شہر اور ہر ضلعے میں اپنا نسق قائم کیے ہوئے ہے۔پارٹی کا ڈھانچہ ایک اہرام کی شکل کا ہے جس میں سب سے بڑی پوزیشن پر بہت کم ارکان ہیں، جنھیں فیصلہ سازی کا اختیار ہے اور ساڑھے نو کروڑ سے زیادہ ارکان سب سے نچلے درجے پر ہیں۔ نیشنل پیپلز کانگرس یعنی پارلیمنٹ چین کے صدر کا انتخاب کرتی ہے اور اس ادارے پر براہ راست سی سی پی کا کنٹرول ہے۔ سی سی پی حکومت میں تمام اعلیٰ حکام کو کنٹرول کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ریاست کی نگرانی میں چلنے والی کمپنیاں، سکول، ہسپتال اور سماجی گروپ بھی اس پارٹی کی نگرانی میں رہتے ہیں۔جس طرح کسی جمہوری ملک میں متعدد سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں مگر چین میں ہمارے خیال کے برعکس سی سی پی کوئی سیاسی جماعت نہیں۔ عالمی امور کے ماہر تجزیہ کار کیلسے براڈرک کے مطابق معاشی اعتبار سے آج کا چین کمیونزم سے زیادہ سرمایہ دارانہ نظام کے قریب ہے۔ان کے مطابق یہ ایک کنزیومر سوسائٹی ہے جو کہ کمیونزم کے بالکل برعکس ہے تاہم کیلسے براڈرک نے متنبہ کیا کہ اگرچہ بظاہر چین کی معیشت سرمایہ دارانہ نظر آتی ہے لیکن اگر آپ پہلی تہہ کو ہٹائیں تو آپ کو پارٹی کا مضبوط ہاتھ اس کے پیچھے نظر آئے گا۔
سی سی پی کا ’نہ نظر آنے والا ہاتھ‘ ہی چینی معیشت کے ہر پہلو میں موجود ہے۔اگرچہ نچلی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام سے ہی معاملات چلائے جاتے ہیں جبکہ اعلیٰ سطح پر کنٹرول زیادہ نمایاں ہے جہاں سے ریاستی سطح کے تمام اہم فیصلے کیے جاتے ہیں مثلاً چین کی کرنسی یوہان کی قیمت کیا ہو گی اور زر مبادلہ کون خرید سکے گا۔ ملک کی سب سے بڑی کمپنیوں کو بھی سی سی پی ہی کنٹرول کرتی ہے۔ سرکاری طور پر سی سی پی ہی چین کی تمام زمین کی مالک ہے اگرچہ عملی طور پر لوگ کچھ برسوں کے لیے نجی ملکیت کے مالک بن سکتے ہیں۔اور یہ بینکنگ کے نظام کو بھی کنٹرول کرتی ہے اور اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ کسے قرض جاری کرنا ہے۔ نجی کمپنیوں اور ریاست کے مابین موجود یہ دھندلی سی سرحد ہی حالیہ برسوں میں ہواوے کے تنازعے کے پیچھے ہے، جب امریکہ نے چین کی سب سے بڑی نجی کمپنی پر سرکاری جاسوسی کا محاذ ہونے کا الزام لگایا۔یہ سوشلسٹ خصوصیات جو اب بھی چینی معاشی ماڈل میں موجود ہیں اور بہت سے تجزیہ کاروں نے اسے ’ریاستی سرمایہ داری‘ کا نام دیا ہے، نے چین اور امریکہ کے مابین تجارتی جنگ کو بھی تیز کر دیا ہے۔اگرچہ یہ تنازعہ تجارتی توازن پر مرکوز ہے لیکن یہ بہت حد تک بیجنگ کے حق میں ہے۔ بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ چین کو سرمایہ دارانہ نظام نہیں کہا جا سکتا کیونکہ وہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا، جس میں چین سنہ 2001 میں شامل ہوا اور جو اب بھی اسے مارکیٹ اکانومی کے طور پر تسلیم نہیں کرتا۔ تاہم روز مرہ کی بنیاد پر ریاست کی مداخلت محسوس نہیں ہوتی جس سے آزادی کا ایک احساس ہوتا ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی میں ایشین سینٹر کے ڈائریکٹر اینتھونی سیچ کہتے ہیں کہ سی سی پی کی قیادت نے کھیل کو تبدیل کر دیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ چین کے موجودہ رہنماؤں نے تاریخ کو اس طرح سے دوبارہ لکھا ہے جو سرکاری تاریخ کے اس پہلو کو مٹا دیتی ہے۔ جہاں وہ یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ماؤ نے شاید کچھ غلطیاں کیں وہیں وہ سرمایہ دارانہ نظام کے پیروکاروں پر حملوں کو نظر انداز کرتے ہیں اور ثقافتی انقلاب کی وضاحت اس تجربے کے طور پر کرتے ہیں جس سے جماعت نے سبق حاصل کیا۔ اینتھونی سیچ کہتے ہیں کہ شی جن پنگ سنہ 1949 کے بعد کے دور کو دو کہانیوں میں دیکھنے کی بجائے اسے ایک تجربے کے طور پر دیکھتے ہیں، جس کا نتیجہ پارٹی کی موجودہ صورت میں نکلا۔ بہت سے دوسرے ماہرین کی طرح سیچ کا مشاہدہ ہے کہ شی جن پنگ کے دور حکومت میں چین مارکیٹ کے مزید آزاد اثر و رسوخ سے دور چلا گیا ہے جن کا پہلے تجربہ کیا گیا تھا۔ چینی قیادت کو یقین ہے کہ سوویت یونین اس لیے بکھرا کیونکہ انھوں نے اپنی کمیونسٹ بنیادوں کو ایک طرف رکھ دیا اور وہ نہیں چاہتے ہیں کہ یہ ان کے ملک میں بھی ہو۔
