کیا ارطغرل غازی یوٹیوب پر نیا ریکارڈ بنانے والا ہے؟

وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ترک ڈرامے ارطغرل غازی کے یوٹیوب چینل نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر دیئے ہیں اور 10 دنوں کے مختصر وقت میں یوٹیوب پر تقریباً ڈیڑھ ملین سبسکرائبرز حاصل کر لئے ہیں جس سے پی ٹی وی کی آمدن میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان ٹیلی ویژن انتظامیہ نے یوٹیوب صارفین سے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس ڈرامے کے یوٹیوب چینل "ٹی آر ٹی ارطغرل بائے پی ٹی وی” کو زیادہ سے زیادہ سبسکرائب کریں تاکہ ایک مہینے کے عرصے میں سب سے زیادہ یعنی چھ اعشاریہ چھ ملین سبسکرائبرز حاصل کرنے کا ریکارڈ توڑا جائے۔
ڈرامہ ارطغرل غازی کو گوگل پر فائیو اسٹار ریٹنگ حاصل ہے عالمی سطح پر ارطغرل غازی کو 500 ارب مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔ ترکی کے بعد پہلے یورپ پھر امریکہ اوراب پاکستان بھر میں ارطغرل غازی کی بے مثال مقبولیت کو دیکھتے ہوئے یہ سوال کیا جارہا ہے کہ اس ڈرامے میں ایسی کیا خاص بات ہے؟ کیونکہ پاکستان میں کئی سال سے ترکی کے مختلف ڈراموں کو اردو ڈبنگ کے ساتھ چینلز پر نشر کیا جارہا ہے مگر جو مقبولیت ارطغرل غازی کو ملی ہے، اس کی مثال نہیں ملتی۔ ناقدین کے مطابق اپنی کہانی، تیاری اور اداکاری کے لحاظ سے یہ ایک شاہکار ڈرامہ ہے جو ایک ایسے خانہ بدوش قبیلے کی کہانی بیان کرتا ہے جو موسموں کی شدت کے ساتھ ساتھ منگولوں اور صلیبیوں کے نشانے پر ہوتا ہے۔ درحقیقت پہلے سیزن کی کہانی بھی یہی ہے جس میں 13 ویں صدی کا زمانہ دکھایا گیا ہے اور قائی قبیلہ منگولوں کے حملوں سے بچنے کے لیے نئی منزل تلاش کرتا ہے جس کے لیے قبیلے کے سردار کا بیٹا ارطغرل آگے بڑھ کر کردار ادا کرتا ہے۔
خیال رہے کہ ارطغرل ترک زبان کا لفظ ہے جو دو الفاظ ار اور طغرل سے بنا ہے اور اس کا مطلب جنگجو ہیرو ہے۔ ارطغرل کی تاریخ پیدائش کے بارے میں معلوم نہیں اور وفات بھی 1280 کے بعد کسی سال میں ہوئی۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ وہ سلیمان شاہ کے بیٹے تھے جو مشرقی ایران سے اناطولیہ آگئے تھے تاکہ منگولوں کے حملوں سے بچ سکیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ قبیلہ قائی کے سردار تھے اور سلجوقی سلطنت کے لیے بازنطینی سلطنت کے خلاف خدمات پر انقرہ کے قریب انہیں زمینیں عطا کی گئی تھیں اوراس خطے کی حکمرانی نے عثمانی سلطنت کی بنیاد رکھنے میں مدد دی، درحقیقت یہ ایک تاریخی ڈرامے کے لیے زبردست بنیاد ہے۔
اس ڈرامہ سیریز کی ہر قسط میں روحانی اور زندگی کے اسباق سیکھنے کو ملتے ہیں کیونکہ یہ شو مرکزی کرداروں کو اخلاقی خرابیوں اور انہیں ٹھیک کرنے کے حوالے سے بات کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس کی ایک اور خاص بات عالموں یا مذہبی دانشوروں کے کرداروں کا استعمال ہے۔ ابتدائی سیزنز میں معروف اسلامی دانشور اور صوفی ابن عربی کا کردار ارطغرل کو اصلاح کرتے اور مشورے دیتا نظر آتا ہے جبکہ سیریز میں آگے جاکر مقامی امام یا خوجہ کا کردار ان کی رہنمائی کرتا نظر آتا ہے۔اس سیریل کے سب سے زیادہ قابلِ ذکر اسباق ہیں کہ ایک مسلمان کا مقصد ہمیشہ عدل و انصاف کے نظام کا قیام، معصوم لوگوں کا تحفظ، خدا پر یقین کامل رکھنا اور کبھی ہمت نہ ہارنا ہونا چاہیے۔ ’فتح ہماری نہیں اللہ کی ہے‘۔ اس ڈرامے کا مقبول ترین جملہ قرار دیا جاسکتا ہے، ایک ایسی سوچ جو سیدھا مسلمانوں کے دل کو چھو لیتی ہے۔
اس ڈرامہ سیریز کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ ارطغرل کی طاقتور اور پُرعزم خواتین پاکستانی اور بھارتی ڈراموں میں روتی ہوئی خواتین سے بہت زیادہ مختلف نظر آتی ہیں۔ ڈرامے میں خواتین کو ضرورت پڑنے پر اکثر اوقات اپنے شوہروں کی جگہ بے یا سردار کا کردار ادا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، وہ تلواروں اور خنجروں سے لڑتی ہیں اور کسی کو خوش کرنے کی خاطر اپنے لیے چُنے گئے کسی مرد سے چپ سادھے شادی نہیں کرتیں چاہے وہ سلطان ہی کیوں نہ ہو۔ڈرامہ نقادوں کے مطابق کہانی میں سے مذہبی پہلو نکال بھی دیا جائے تب بھی ارطغرل آپ کو ایک لمحے کے لیے بھی ناظر کو اکتاہٹ نہیں ہونے دے گا۔ اس کے علاوہ بدی پر نیکی کی جیت کے عالمگیر اقدار اور استقامت پسندی کے ذریعے مشکل وقت سے نکلنے کے حوصلے کی اس ڈرامہ میں بھرپورعکاسی کی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button