کیا اسٹیبلشمنٹ دوبارہ عمران خان سے ہاتھ ملانے والی ہے؟

پاکستان کے حالیہ انتخابات سے چند روز قبل تک ملک کے سیاسی منظر نامے پر سابق وزیراعظم عمران خان اور اُن کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو مشکل صورتحال کا سامنا تھا۔اس صورتحال کے پیشِ نظرالیکشن سے قبل سیاسی تجزیہ کاروں میں عمومی تاثر یہی تھا کہ پی ٹی آئی کے ’حمایت یافتہ‘ امیدوار شاید کچھ ہی سیٹیں نکال پائیں گے تاہم جیسے جیسے انتخابات کے نتائچ آنا شروع ہوئے تو یہ تاثر تیزی سے بدلنا شروع ہو گیا۔اب انتخابات سے چند روز بعد مکمل نتائج سامنے آنے پر منظر نامہ یکسر بدل چکا ہے۔ عمران خان اور اُن کی جماعت کے حمایت یافتہ امیدوار بڑی تعداد میں کامیاب ہو کر وفاق اور صوبائی اسمبلیوں میں پہنچنے کے لیے تیار ہیں۔

مرکز میں اِن آزاد امیدواروں کی تعداد کسی بھی دوسری سیاسی جماعت کے کامیاب قرار پانے والے امیدواروں سے زیادہ ہے۔ صوبہ پنجاب میں وہ دوسرے نمبر پر ہیں جبکہ صوبہ خیبرپختونخوا میں آزاد امیدوار دو تہائی اکثریت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ صوبائی اور قومی اسمبلی کے درجنوں امیدواروں نے اپنی ناکامی کو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں چیلنج کر رکھا ہے اور تحریک انصاف کی موجودہ قیادت کا دعویٰ ہے کہ ان شکایات پر شفاف تحقیقات صورتحال کو تحریک انصاف کے حق میں مزید بہتر کرے گی۔

تاہم انتخابی نتائج کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ جیل میں بند پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی سربراہ عمران خان، انتخابات میں ملنے والی اس عوامی پذیرائی کا ذاتی طور پر کس حد تک اور کس وقت فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور کیا عوامی پذیرائی کے بعد اسٹیبلشمنٹ ایک بار پھر عمران خان سے ہاتھ ملا سکتی ہے؟ اور کیا اب عمران خان جیل سے باہر آ جائیں گے؟
قانونی ماہرین سمجھتے ہیں کہ مستقبل قریب میں اس کے امکانات بہت کم ہیں۔ ماہر قانون حافظ احسن کھوکھر سمجھتے ہیں کہ اس کے لیے عمران خان کو قانونی جنگ لڑنا جاری رکھنا ہو گی۔’انھیں عدالتیں کئی مقدمات میں سزائیں دے چکی ہیں۔ یہ سزائیں معطل یا ختم کروانے کے لیے بھی انِھیں عدالتوں ہی میں جانا پڑے گا۔ بدلی ہوئی صورتحال کا انھیں سیاسی فائدہ تو ہو سکتا ہے لیکن اس سے انھیں عدالتوں میں کوئی ریلیف ملتا نظر نہیں آتا۔کیونکہ عدالتوں سے ریلیف حاصل کرنے میں عمران خان کو اس لیے بھی مشکلات کا سامنا ہو گا کہ ’وہ کئی مقدمات جیسے سائفر کیس، توشہ خانہ یا اثاثہ جات کے کیسز میں بظاہر غلطی تسلیم کر چکے ہیں۔‘ سابق وزیراعظم عمران خان کو سزاؤں پر عدالتی ریلیف ملنے کے امکانات اس لیے بھی کم نظر آتے ہیں کہ مرکز میں اُن کی جماعت حکومت بناتی نظر نہیں آ رہی۔

تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق وفاق اور صوبائی اسمبلیوں میں عمران خان کے حمایت یافتہ امیدواروں کی موجودگی سے فی الفور اس حد تک فائدہ ضرور ہو گا کہ اب اس طرح کے فورمز پر سابق وزیراعظم کے حق میں آوازیں متواتر بلند ہوں گی اور اُن کیسز اور اس طریقہ کار پر بھی دوسری رائے سامنے آئے گی جن کے تحت عمران خان کو سزائیں ہوئی ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق عمران خان کی سزا ختم ہونے اور جیل سے باہر آنے کے دو راستے ہو سکتے ہیں۔ایک یہ کہ ان کی جماعت مرکز میں حکومت بنا لے، ان کا وزیراعظم بن جائے، وہ صدر کو ایڈوائس کرے کہ عمران خان کی سزائیں ’کمیوٹ‘ یعنی کم کر دی جائیں۔’اس صورت میں وہ باہر تو آ جائیں گے لیکن ان کا لیگل سٹیٹس بری ہونے کا نہیں ہو گا۔ یعنی اخلاقی طور پر وہ عدالتی عمل سے گزر کر اور بری ہو کر رہائی نہیں پا رہے ہوں گے۔‘اُن کے خیال میں دوسرا راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ ’ان کی جماعت کی حکومت بن جائے اور پھر وہ ادارے جو ان کے خلاف مقدمات میں استغاثہ ہیں وہ عدالتوں سے اپنے مقدمات یا درخواستیں واپس لے لیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ماضی میں بھی سیاسی رہنماؤں کے کیسوں میں ایسا متعدد مرتبہ ہو چکا ہے۔‘

دوسری جانب صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کے پاس موجودہ صورتحال میں بھی جیل سے باہر آنے کا ’ایک راستہ ہو سکتا تھا مگر جیل سے ان کے حالیہ بیانات کے بعد ایسا لگتا ہے کہ ایسا نہیں ہو پائے گا۔‘

سلمان غنی کہتے ہیں ’گذشتہ چند دنوں سے اسلام آباد میں نیشنل گورنمنٹ کی بازگشت بھی تھی یعنی اکثریتی نشستیں رکھنے والی تمام جماعتیں مل کر حکومت بنا لیں۔‘تاہم اُن کا دعویٰ ہے کہ ایسا اس لیے نہیں ہو پایا کہ مقتدروں حلقوں کے پاس اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں تھی کہ ’عمران خان جیل سے باہر آ کر ایک مرتبہ پھر سب کچھ تلپٹ نہیں کر دیں گے۔‘ عمران خان کے جیل میں دیے گئے اس بیان سے کہ وہ کسی بڑی سیاسی جماعت سے اتحاد نہیں کریں گے یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ مفاہمت کی سیاست نہیں کرنا چاہتے۔اس لیے ان کے خیال میں عمران خان کے لیے حالیہ مینڈیٹ کی وجہ سے ذاتی طور پر کوئی فائدہ ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت کے حمایت یافتہ امیدواروں کی طرف سے بھاری تعداد میں انتخابی کامیابی حاصل کرنے کے بعد ایک تاثر یہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ اس کے بعد ان کے اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات میں بہتری کی گنجائش نکل سکتی ہے۔

صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ عمران خان کے پاس یہ ایک بہترین موقع ہو سکتا ہے کہ وہ اس مینڈیٹ کو استعمال کر کے اپنے اور اپنی پارٹی اور مشکل میں پھنسے اپنے کارکنوں کے لیے راہیں ہموار کر سکیں۔’لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ عمران خان اب بھی تصادم کی سیاست کے موڈ میں نظر آتے ہیں اور دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ بھی اس موڈ میں نظر نہیں آتی کہ ان سے کوئی بات چیت کرے۔‘’عمران خان خود اس وقت جس پوزیشن میں ہیں تو انھیں لگتا ہے کہ مفاہمت کی سیاست اس وقت اُن کو فائدہ نہیں دے گی اور ان کو اس کی ضرورت نہیں۔ تصادم کی سیاست سے وہ سمجھتے ہیں کہ وہ آئندہ کے لیے بھی اپنی سیاسی کامیابی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔‘

Back to top button