کیا اسٹیبلشمنٹ کے بغیر PDM کی تحریک کامیاب ہو پائے گی؟


اپوزیشن ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک الائنس جنوری میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کرنے جارہا ہے۔ تاہم بڑا سوال یہ ہے کہ کیا طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی فیصلہ کن مدد کے بغیر اپوزیشن کی یہ تحریک کامیاب ہو پائے گی؟ موجودہ صورتحال میں تو وزیراعظم عمران خان کا یہی دعویٰ ہے کہ فوجی قیادت ان کے ساتھ ایک ہی صفحے پر موجود ہے اس لیے انہوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اگر اپوزیشن استعفے دینا چاہتی ہے تو شوق سے دے، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
یاد رہے کہ ماضی میں جب بھی اپوزیشن نے لانگ مارچ کیا ہے تو فوجی اسٹیبلشمینٹ نے حکومت کے ایما پر ضامن کا کردار ادا کیا ہے۔ آصف زرداری حکومت کے خلاف نواز شریف کا برطرف ججز کی بحالی کے لیے لانگ مارچ ابھی راستے میں ہی تھا کہ تب کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپوزیشن کو مطالبات تسلیم ہونے کی خوشخبری سنا دی تھی۔ بعد ازاں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے مشرف کے ہاتھوں برطرف ہونے والے افتخار چودھری اور دیگر ججز کو بحال کر دیا تھا۔ تاہم یہ اور بات کے بحالی کے بعد افتخار چودھری نے حکومت کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیا اور سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کو وزارت عظمیٰ سے صرف اسکیے برطرف کردیا کہ انہوں نے سوئس حکومت کو صدر آصف زرداری کے خلاف تحقیقات کے لئے خط لکھنے سے انکار کیا۔
اسی طرح اگلے الیکشن کے نتیجے میں جب نواز شریف وزیراعظم بن کر برسراقتدار آئے تو عمران خان نے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا اور ڈی چوک پر دھرنا دے دیا۔ جب دھرنا لمبا ہوگیا اور عمران خان کی قیادت میں مظاہرین نے پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر بھی حملہ کر دیا تو تب کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو آگے بڑھ کر ثالث کا کردار ادا کرنا پڑا۔ تب نواز حکومت یوں بچ گئی کہ پارلیمنٹ میں پیپلز پارٹی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت تھی جس نے اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نواز شریف کا ساتھ دینے کا اعلان کیا جس کے بعد عمران خان کی تحریک انصاف نے قومی اسمبلی سے استعفے دے دیئے۔ کچھ عرصہ بعد پی ٹی آئی نے استعفے واپس لے لیے اور وزیر اعظم نواز شریف کو اقامہ رکھنے کے جرم میں وزارت عظمی سے نااہل کر دیا گیا۔
یعنی ماضی قریب میں دونوں مرتبہ جب اپوزیشن نے حکومت کے خلاف لانگ مارچ کیا تو اس کے نتیجے میں فوری طور پر تو وزیر اعظم بچ گے لیکن پھر کچھ عرصے بعد انہیں عدلیہ کے ذریعے گھر جانا پڑا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں عمران خان اپوزیشن کی تحریک کے نتیجے میں بچ جائیں گے یا نہیں؟ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اس دفعہ فوج کی طرف سے ضامن بننے یا ثالث کا کردار ادا کرنے کی گنجائش اس لیے کم ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ وزیراعظم کے ساتھ کھڑی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جنرل باجوہ کپتان کے احسان تلے دبے ہیں۔ یاد رہے کہ عمران خان نے 2019 میں جنرل باجوہ کی مدت ملازمت مکمل ہونے پر انکو مزید تین سال کی توسیع دے دی تھی۔ اس سے پہلے اپوزیشن کی جانب سے جنرل باجوہ پر یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے 2018 کے الیکشن میں عمران خان کو وزیراعظم بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر دھاندلی کروائی۔ نواز شریف تو اب یہ الزام کھل کر اپنی ہر تقریر میں لگاتے ہیں ہیں اور اس سلسلے میں لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید کا نام بھی لیتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی عمران حکومت مخالف احتجاجی تحریک کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بالآخر کیا فیصلہ کرتی ہے؟ ہر مرتبہ کی طرح اس دفعہ بھی اسٹیبلشمنٹ کا کردار اہم ترین ہوگا اور دیکھنا یہ ہے کہ لانگ مارچ ہونے تک عمران خان اور فوجی قیادت ایک ہی پیج پر رہتے ہیں یا پھر الگ الگ ہوجاتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے حکومت مخالف تحریک چلانے اور استعفوں کی دھمکی دینے کا بنیادی مقصد اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ بڑھانا ہے اسی لئے نواز شریف بار بار جنرل باجوہ اور جنرل فیض کے نام لے رہے ہیں۔ تاہم فوجی اسٹیبلشمنٹ پر اصل دباو تب آئے گا جب لانگ مارچ کا آغاز ہوگا یا اپوزیشن استعفے دے گی۔ اسووت استعفوں کی گیند پی ڈی ایم کے کورٹ میں ہے۔ مولانا فضل الرحمان پہلے دن سے استعفوں  کے داعی ہیں مگر ان کو پاس چھوڑنے کے لیے چند سیٹیں ہی ہیں۔ ان کا استعفوں پر اصرار حیران کن ہے نہ فیصلہ کن۔ اصل فیصلہ ہے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا۔ ن لیگ کا یہ فیصلہ بھی ن لیگ کے سیاسی رخ اور ن لیگ میں موجود سیاسی دھڑوں سے جڑا ہوا ہے۔
وہی دھڑا اور اس کے اراکین جو اداروں سے تصادم کے حق میں نہیں وہ استعفوں کے بھی حق میں نہیں ہوں گے۔ جبکہ مریم نواز جو اسمبلی میں بھی نہیں اور مکمل جارح موڈ میں ہیں، وہ استعفوں سے بھی بات آگے لے جانا چاہیں گی۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ن لیگ کی حد تک قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفوں میں تخصیص بھی نہیں ہو گی کیونکہ وہ دونوں جگہ اپوزیشن میں ہی ہیں۔ لیکن پیپلز پارٹی کا معاملہ ن لیگ سے مختلف اور کچھ واضح ہے اور وہ یہ ہے استعفوں سے بچت ہی ہو جائے تو بہتر ہے۔
مصالحت کی سیاست پیپلز پارٹی کا اوڑھنا بچھونا ہے اس لیے ہر وقت کسی نہ کسی ڈیل کا آپشن بھی کھلا رہتا ہے۔ اگر نوبت آئے گی بھی تو سندھ حکومت سے استعفوں کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پیپلز پارٹی کی خواہشات بھی ن لیگ کے مقابلے میں سادہ ہیں اور وہ ہیں نیب کیسز میں انصاف اور اٹھارویں ترمیم کا تحفظ۔ ن لیگ کی نظر البتہ  مستقل تخت لاہور پہ بھی رہتی اور تخت اسلام آباد پہ بھی۔ پیپلز پارٹی استعفوں کو دھمکی کے طور پر تو استعمال کرنا چاہے گی مگر اس پر عمل کرنے سے بچنا ہی چاہے گی۔ پی پی پی کا خیال ہے کہ آخر میں استعفوں کا فیصلہ بذات خود حکومت کے جانے  کا سبب نہیں بن سکتا۔ کیوں کہ اگر بالفرض پی ڈی ایم نے استعفے دے بھی دیے تو حکومت کے پاس وہی دو آپشنز ہیں جو ن لیگ کے پاس 2014 میں تھے۔ سپیکر استعفے روک لے یا نئے الیکشن کروا دے۔ اگر سپیکر استعفے اپنے پاس روک لے تو بات پھر وہیں رک جائے گی۔ مگر پی ٹی آئی سربراہ کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ ان سیٹوں پر نیا الیکشن کروا دیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو ن لیگ اور پی ڈی ایم کے پاس سٹریٹ ایجی ٹیشن اور الیکشن کو سبوتاژ کرنے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں ہو گا۔
لہذا سوال یہ ہے کہ کیا پی ڈی ایم اس کے لیے تیار ہے؟ کیونکہ استعفے دے کے گھر بیٹھنا تو بے سود ہو گا۔ ان حالات میں ایک بھرپور اور آخری حد تک جانے والی عوامی تحریک ہی اپوزیشن کے لیے واحد حل ہو گی۔ لیکن سب سے اہم سوال پھر وہی ہے کہ کیا اپوزیشن کے پاس یہ سب کرنے کے لیے طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد موجود ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button