کیا اسٹیبلشمنٹ کے غدار الطاف حسین کو معافی مل سکتی ہے؟

دہائیوں تک طاقت اور اسلحے کے زور پر کراچی پر قابض رہنے والی مہاجر آبادی کی نمائندہ جماعت ایم کیو ایم اب اپنی بانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں فارغ ہو جانے اور اسکے عتاب کا نشانہ بننے کے بعد کئی حصوں میں بٹ کر انتشار کا شکار ہو چکی ہے اور اس کی مزید تحلیل کا عمل جاری ہے۔ لیکن لوگوں کے ذہنوں میں آج بھی یہ سوال ہے کہ کیا الطاف حسین اور اسکی ایم کیو ایم واقعی قصہ پارینہ بن چکی ہے اور کیا اب اس کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق وقتی طور پر تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے الطاف حسین کو معافی ملنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ تاہم اپنی ایک تازہ ویڈیو میں الطاف حسین نے انکشاف کیا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے پچھلے دنوں ان کے ساتھ بالواسطہ رابطہ کیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھائی لوگوں کا مطالبہ پورا کرتے ہوئے پاکستان مخالف باتیں کرنے پر جنرل قمر جاوید باجوہ سے معافی مانگی تھی اور اس حوالے سے دو آڈیو پیغام بھی ریکارڈ کروائے تھے۔ تاہم ایسا کرنے کے بعد ان سے مذاکرات کرنے والا شخص غائب ہو گیا جس سے انہیں اندازہ ہوا کہ ان کے ساتھ دوبارہ ہاتھ ہو چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ جتنی بھی جماعتیں یا سیاسی اتحاد قائم کرتی ہے، اپنا مقصد اور مدعا پورا ہونے کے بعد انھیں ٹشو پیپر کی طرح کچرے کے ڈھیر میں پھینک دیا جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ایم کیو ایم کے ساتھ بھی ہوا لگتا ہے۔
ابتدا میں مہاجر قومی موومنٹ کہلانے والی ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین 17 ستمبر 1953 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ فارمیسی میں داخلہ لینے کے بعد 11 جون 1978 کو الطاف نے آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن قائم کی۔ اسکے 6 برس بعد الطاف حسین نے فوجی آمر ضیا الحق کے دور حکومت میں 18 مارچ 1984 کو مہاجر قومی موومنٹ کی بنیاد ڈالی جو بعد میں متحدہ قومی موومنٹ بن گئی۔ لیکن اسٹیبلشمنٹ سے اختلافات کے بعد اپنی جان کو درپیش خطرے کے باعث 1991 میں الطاف خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر کے برطانیہ چلے گئے، جہاں وہ تاحال مقیم ہیں۔
اس دوران کئی نشیب و فراز آئے اور جب فوجی اسٹیبلشمنٹ کو الطاف حسین کی ضرورت پڑی، ان سے دوستی کر لی گئی اور انکی جماعت کو اقتدار میں حصہ دے دیا گیا، جنرل ضیاءالحق کی آشیرباد سے قائم ہونے والی ایم کیو ایم نے جنرل مشرف دور میں اپنا عروج دیکھا جب اپنے مہاجر کنکشن کی بنیاد پر الطاف حسین کے ساتھیوں نے کراچی میں قتل و غارت کی انتہا کردی۔ تاہم مشرف کے فارغ ہونے کے بعد الطاف حسین کا ستارہ بھی گردش میں آگیا اور پھر 2016 میں پاکستان اور اس کی فوجی قیادت کے خلاف ایک تقریر کرنے کے الزام میں الطاف کے پاکستانی میڈیا پر دکھائے جانے پر پابندی عائد کردی گئی۔ تب سے اب تک ایم کیی حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے لیکن ایم کیو ایم پاکستان وہ دھڑا ہے جواب بھی فوج کے کہنے پر چلتا ہے اور اس وقت عمران خان کا حکومتی اتحادی ہے۔
دوسری جانب لندن میں مقیم الطاف حسین کی ایم کیو ایم لندن کو کسی بھی طرح کی سیاسی سرگرمی کرنے کی اجازت نہیں ہے جس سے اب کراچی شہر کے حالات پہلے کے مقابلے میں بہت بہتر ہو چکے ہیں۔ یاد ریے کہ ایم کیو ایم کے عروج کے زمانے میں جماعت اتنی طاقتور تھی کہ کسی بھی واقعے پر الطاف کے صرف ایک اعلان سے پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی مرکز، کراچی چند منٹوں میں مکمل طور پر بند ہو جاتا تھا۔ 2016 سے پہلے آئے دن ہونے والی ہڑتالوں کے باعث پاکستان کے معاشی اور تجارتی مرکز کراچی کی معشیت زمیں بوس ہوچکی تھی اور کئی بڑے تاجر اور صنعت کار اہنا سرمایہ کراچی یا پھر ملک سے باہر لے گئے، کیوں کہ وہ کراچی میں محفوظ نہیں تھے۔
2016 میں رینجزر نے دو کام کیے۔ ایک تو کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکزی دفترنائین زیرو کو سیل کر دیا اور دوسرا لیاری گینگ وار کو نیست و نابود کر دیا۔ وہ دن اور آج کا دن، گذشتہ پانچ سالوں میں کراچی ایک دن کے لیے بھی کسی سیاسی ہڑتال کے باعث بند نہیں ہوا۔ 2016 کے بعد تاجروں اور صنعت کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور کئی صنعت کار اپنا سرمایہ واپس کراچی لے آئے۔ ابھی تک سٹریٹ کرائمز رو۔مکمک طور پر ختم نہیں ہوئے مگر پھر بھی کراچی کے حالات پہہے سے بہت بہتر ہیں۔ ایم کیو ایم کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1988 کے انتخابات کے بعد کسی بھی وفاقی حکومت کا ایم کیو ایم کی حمایت کے بغیر قائم رہنا ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ مگر ایسی طاقتور پارٹی اپنی بانی کی ایک تقریر سے ٹکروں میں بکھر گئی۔
22 اگست 2016 کو الطاف حیسن نے لندن سے کراچی پریس کلب کے سامنے جمع اپنے کارکنوں سے خطاب کیا جو ملک کے تمام ٹی وی چینلز پر براہ راست نشر ہوا۔ عدالتی حکم کے باعث اس خطاب کے الفاظ تو یہاں نہیں لکھے جاسکتے، مگر اس تقریر کے بعد الطاف حسین کی تقاریر نشر و شائع کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی اور طاقتور جماعت کے مرکزی دفتر نائن زیرو کو سیل کرنے کے ساتھ ایم کیو ایم کے شہر بھر میں موجود پارٹی دفاتر کو مسمار کرنے کے ساتھ متعدد رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس تقریر کے بعد ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر فاروق ستار ایم کیو ایم لندن سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے، ایم کیو ایم پاکستان کا قیام عمل میں لایے۔ بعد میں ایم کیو ایم کے ایک اور رہنما مصطفیٰ کمال نے جماعت کے دیگر سرکردہ رہنماؤں کے ساتھ 23 مارچ 2016 کو الطاف حسین پر شدید تنقید کرنے کے ساتھ ہی ایم کیو ایم سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے، اپنی نئی سیاسی جماعت پاک سر زمین پارٹی کے قیام کا اعلان کیا۔ لیکن پھر ایم کیو ایم پاکستان میں بھی اختلاف شدید ہوگیا اور یہ نیا دھڑا دو حصوں، ایم کیو ایم بہادر آباد اور ایم کیو ایم پی آئی بی کالونی، میں بٹ گیا۔ کچھ عرصے بعد ایم کیو ایم بہادر آباد کے ناراض رہنماؤں نے بظاہر تو ڈاکٹر فاروق ستار کو تنظیم بحالی کمیٹی کا سربراہ بنا دیا، مگر اصل میں انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا۔ اب انکم پاکستان کے اصل دڑی کی قیادت خالد مقبول صدیقی کر رہے ہیں جن کے عامر خان کے ساتھ اختلافات بھی آج کل خبروں کی زینت بن رہے ہیں۔ یاد رہے کہ عامر خان وہ شخص ہیں جنہوں نے ڈاکٹر فاروق ستار کو اہنی جماعت سے نکلوایا تھا۔ اپنے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر فاروق ستار بتا چکے ہیں کہ وہ ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دوسری طرف ایم کیو ایم کے بڑی تعداد میں کارکن اور رہنما تاحال پرامید ہیں کہ ابھی بھی انکی جماعت الطاف کی قیادت میں بحال ہوسکتی ہے۔
سینیئرایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار الحسن کے مطابق ’اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ماضی میں طاقتور رہنے والی ایم کیو ایم اب کمزور ہوچکی ہے تو یہ اس کی بھول ہے۔ ایم کیو ایم آج بھی سیاسی طاقت ہے۔ان کا کہنا تھا: ’پارٹی میں کچھ بحران ضرور آیا ہے، مگر یہ بحران صرف پارٹی قیادت کا بحران ہے۔ پارٹی میں موجود چند موقع پرستوں نے مہاجر مقصد کو ہائی جیک کیا اور موقع کا فائدہ اٹھایا، مگر پارٹی آج بھی ایک سیاسی قوت ہے۔‘ دوسری جانب سیاسی تجزیہ کار کے مطابق ایم کیو ایم کی سیاسی قوت نیچرل نہیں تھی، اس لیے چل نہیں سکی۔ ان کا کہنا تھا: ’جب ضیا دور میں پیپلز پارٹی نے سندھ میں تحریک بحالی جمہوریت یعنی ایم آر ڈی چلا کر انہیں مشکل میں ڈالا تو اسٹیبلشمنٹ نے پی پی پی کی سیاسی قوت کے سامنے ایم کیو ایم کو بنایا۔ بعد میں ایم کیو ایم کی دشمن ممالک سے گٹھ جوڑ ثابت ہونے کے بعد فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اس پر سے ہاتھ ہٹا لیا۔ آخر کار اسٹیبلشمنٹ نے الطاف حسین کی ایم کیو ایم کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور الطاف کا ایک مخالف دھڑا کھڑا کر دیا۔
اس سے پہلے ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما ندیم نصرت نے 2014 میں ایک انٹرویو میں واضح کر دیا تھا کہ ان کی جماعت مائنس ون فارمولے پر تیار نہیں ہوگی۔ انکا کہنا تھا کہ ’الطاف بھائی 36 سال سے اس جماعت کی قیادت کرتے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی کرتے رہیں گے۔ بعض لوگوں کے مطابق الطاف کا جماعت سے الگ ہونا شاید اس پارٹی کو بچا لیتا لیکن اس کی شکل و صورت اس وقت کیا ہوتی کچھ کہنا مشکل ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اپنی متنازع تقریر کے بعد بھی الطاف حسین نے اپنا رویہ درست نہ کیا اور ناصرف اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بات کی بلکہ اس کے ساتھ شدت پسند سندھ کی پاکستان سے علیحدگی کی تحریک چلانے والے سندھی رہنما شفیع برفت سے ملاقات بھی کی۔ جب الطاف حسین نے اس طرح کے کئی اور کام کیے تو پھر اسٹیبلشمنٹ نے ایک حتمی فیصلہ کرتے ہوئے اپنی۔ہی بنائی ہوئی جماعت کو ختم کر دیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب الطاف حسین فوجی اسٹیبلشمنٹ کو راضی کرنے کی جتنی بھی کوشش کر لیں، ان کو معافی ملنے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ انہوں نے خود کو بنانے والی اسٹیبلشمنٹ سے غداری کی تھی۔
