کیا افغان سفیر کی بیٹی نے اغوا کا جھوٹا الزام لگایا؟


پاکستانی تحقیقاتی اداروں نے دو روز کی تفتیش کے بعد افغان سفیر کی بیٹی کی جانب سے خود کو اغوا کیے جانے کا الزام رد کر دیا ہے اور قرار دیا ہے کہ اغوا کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ افغان سفیر کی بیٹی نے اغواء کا جھوٹا الزام کیوں لگایا۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کسی ٹیکسی میں افغان سفیر کی بیٹی کے ساتھ ڈرائیور کے علاوہ اور کوئی آدمی نہ تو موجود تھا اور نہ ہی سوار ہوا تھا۔ یاد رہے کہ افغان سفیر کی بیٹی نے دعوی کیا تھا کہ جب وہ ٹیکسی میں سوار ہوئیں تو ڈرائیور نے راستے میں ایک اور شخص کو بٹھا لیا جس نے ان کو اغوا کرلیا اور تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ بے ہوش ہو گئیں۔ افغان سفیر کی بیٹی کے دعوے کے مطابق اغوا کرنے والے شخص نے ان کے والد کو کمیونسٹ قرار دیتے ہوئے گالیاں دیں اور پھر ان کے دوپٹے کے پلو سے ایک پچاس روپے کا کرنسی نوٹ باندھ دیا جس پر یہ پیغام لکھا تھا کہ اگلی باری تمہاری ہے۔
تاہم راولپنڈی میں ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیرداخلہ شیخ رشید نے تصدیق کی کہ تحقیقاتی اداروں نے افغان سفیر کی بیٹی کی جانب سے اغوا کے الزام کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان سفیر کی بیٹی جرمنی سے سائبر کرائم کی تعلیم لے چکی ہیں اور انہوں نے اپنا موبائل پولیس کو فراہم کرنے سے قبل فون سے آئی کلاؤڈ ختم کر دیا تھا تا کہ تحقیقاتی ادارے ان کی موومنٹ کے حوالے سے کوئی انفارمیشن حاصل نہ کر پائیں۔ انکا کہنا تھا کہ تحقیقاتی اداروں نے کیس کے تناظر میں 300 سے زائد کیمروں کا تجزیہ کیا اور ویڈیوز کا جائزہ لیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ہم نے یہ معلوم کرلیا ہے کہ افغان سفیر کی صاحبزادی کہاں سے کہاں گئی تھیں۔ انہون نے بتایا کہ افغان سفیر کی بیٹی گھر سے پیدل نکلیں اور رانا مارکیٹ سے پہلی ٹیکسی پر کھڈا مارکیٹ گئیں، دوسری ٹیکسی پر کھڈا مارکیٹ سے راولپنڈی تک گئیں، لڑکی کا کہنا ہے کہ دوسری ٹیکسی میں اغوا کا واقعہ پیش آیا، تیسری ٹیکسی پر وہ مبینہ اغوا کے بعد ہوش میں آ کر راولپنڈی صدر سے دامن کوہ گئیں، جس ٹیکسی والے نے انہیں صدر سے اٹھایا اس کو بھی ہم نے ٹریس کر لیا۔ لیکن شیخ رشید کا کہنا تھا کہ سارے ٹیکسی ڈرائیوروں نے قرآن پر حلف لے کر قسمیں کھائی ہیں کہ انہوں نے خاتون کو بٹھانے کے بعد کسی دوسرے شخص کو سوار نہیں کروایا تھا۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ افغان سفیر کی بیٹی نے چاروں ٹیکسی ڈرائیوروں کو کرایہ ادائیگیاں کیں اور ایسا کرتے وقت وہ خوش اور نارمل تھیں، دامن کوہ سے آخری ٹیکسی ڈرائیور کو انہوں نے 500 روپے دیے حالانکہ سفر کا کرایہ آدھا بھی نہیں بنتا تھا۔ شیخ رشید نے بتایا کہ کسی ٹیکسی میں سفیر کی بیٹی کے ساتھ کوئی نہیں بیٹھا اور راستے میں کسی قسم کی کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ چاروں ٹیکسی ڈرائیور اور ان کے مالکان کی شناخت کر لی گئی ہے، اور اگر ضرورت ہوئی تو میں وزیراعظم کی اجازت سے چاروں ٹیکسی ڈرائیوروں کو میڈیا پر لے آؤں گا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ انہیں یہ الزام ایک سازش کا حصہ لگتا ہے جس کا بنیادی مقصد پاکستان کو بد نام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اسلام آباد اور راولپنڈی کی 700 سے زائد گھنٹے کی سیف سٹی کیمرہ فوٹیج دیکھی ہیں، تفتیشی ادارے 200 سے زیادہ ٹیکسیوں اور گاڑیوں کی جانچ پڑتال کرنے کے بعد ان چار ٹیکسیوں اور ان کے مالکان تک پہنچے، تاہم ہمیں افسوس ہے کہ ہے ہماری اتنی کوشش کے باوجود الزام جھوٹ نکلا اور الزام لگانے والی خاتون اپنے والد سمیت پاکستان سے چلی گئیں۔ شیخ رشید نے کہا کہ حکومت پاکستان اس کیس سے پیچھے نہیں ہٹے گی حالانکہ انکے الزام اور ہماری تفتیش سے سامنے آنے والے حقائق میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ کسی سی سی ٹی وی فوٹیج میں خاتون زخمی یا پریشان نظر نہیں آئیں، پہلے وہ کہہ رہی تھیں کہ اغوا کار مجھ سے فون لے گئے ہیں لیکن جب فوٹیج میں فون نظر آیا تو کہا کہ میں فون گھر پر بھول گئی تھی۔ شیخ رشید احمد نے بتایا کہ بعد میں جب سلسلہ نامی لڑکی نے تفتیش کاروں کو اپنا فون دیا تو اس میں سے تمام ڈیٹا ڈیلیٹ کر کے دیا، انہوں نے کہا کہ سلسلہ نے جرمنی سے سائبر کرائم میں ڈگری حاصل کی ہوئی ہے لہذا انکا اپنے فون سے آئی کلاؤڈ اور دیگر ڈیٹا ختم کرنا سمجھ نہیں آیا۔ جو فون ہمیں ملا ہے اس میں کوئی چیز بھی نہیں چھوڑی گئی، سب صاف کردیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پھر بھی اس فون کا فرانزیک کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی بین الاقوامی دباؤ ہو قوم کو سچ بتانا میرا فرض ہے اور سچ یہ ہے۔کہ تمام افراد کی شناخت ہوچکی ہے، تمام فوٹیجز ہمارے پاس موجود ہیں اور اغوا کا دعوی ثابت نہیں ہوا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ افغان سفیر کی بیٹی نے اہنے اغوا کے کیس کی درخواست دی جس پر سخت ترین دفعات لگا کر ایف آئی آر بھی کاٹ دی گئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی ٹیکسی میں ان کے ساتھ کوئی شخص نہیں بیٹھا اور نہ ہی کوئی لڑائی جھگڑا ہوا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو وزیراعظم کی اجازت سے چاروں ٹیکسی ڈرائیورز کو میڈیا پر لے آؤں گا لیکن ابھی مجھے ایسی بات نہیں کرنی چاہیے ورنہ سب ملبہ مجھ پر ڈال دیا جاتا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ میرے اس بیان میں افغان وزیر خارجہ میرے خلاف بیان جاری کرسکتے ہیں۔
جب شیخ رشید سے ہسپتال کی رپورٹ میں سفیر کی بیٹی پر تشدد کی تصدیق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ لڑکی دو ہسپتالوں میں گئی اور پھر اسے تشدد کی تصدیقی رپورٹ ملی۔ شیخ رشید نے کہا کہ وزارت داخلہ اور دیگر اداروں نے کیس کی تحقیقات کر کے تمام معلومات سیکریٹری خارجہ کے حوالے کردی ہیں اور دفتر خارجہ نے ضروری سمجھا تو وہ عید کے بعد تمام سفارتکاروں کو بلا کر انہیں یہ تمام دستاویزات دکھا سکتا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ہماری تفتیش میں ایک چیز مسنگ تھی کہ خاتون راولپنڈی سے دامنِ کوہ کیسے گئیں لیکن اب وہ فوٹیج بھی مل گئی ہے اور اس سے بھی اغوا کے الزام کی تصدیق نہیں ہو پائی۔

Back to top button