کیا اقتدار کی طاقت عمران خان کو بچا پائے گی؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ عمران خان کے پاس اگرچہ اقتدار کی طاقت تو ہے لیکن عقل ودانش کی واضح کمی ہے۔ دوسری جانب حزب اختلاف کے پاس فہم اور سیاسی تجربے کی کمی نہیں۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ جب برا وقت آتا ہے اقتدار کی طاقت بھی کام نہیں کرتی۔ لہٰذا دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نتیجہ عوام کی جیت کی صورت میں نکلتا ہے یا ہار کی۔
اپنے سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کے تمام رہنما اس نکتے پر مکمل طور پر متفق ہو چکے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اب سیاست چھوڑ کر نیوٹرل ہو چکی ہے۔ اب حکومت کی بڑھتی ہوئی بوکھلاہٹ سے بھی اس بات کی تصدیق ہو رہی ہے کہ ادارے اب عمران خان کو ریسکیو کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں اور موصوف کھلے عام اپنی اپوزیشن کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ سلیم صافی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کیلئے اپنی تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانے کے لیے مطلوبہ 172 اراکین قومی اسمبلی اکٹھے کرنا اب کوئی ایشو نہیں کیونکہ تحریک انصاف کے زیادہ منتخب ممبران کی ایک بڑی تعداد اگلے الیکشن میں ٹکٹ کے بدلے مسلم لیگ ن کے پاس جانے کی یقین دہانی کروا چکی ہے اور یہ حقیقت اگلے چند دنوں میں آشکار ہونے جا رہی ہے۔ صافی کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ سندھ اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے کئی حکومتی اراکین قومی اسمبلی کو مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری نے اپنی جماعت میں ایڈجسٹ کرنے کے عوض وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں ووٹ ڈالنے کے لئے آمادہ کر لیا ہے۔
بقول صافی، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان سمجھتے تھے کہ اپوزیشن کو حکومتی اتحادی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے پر فوکس کرنا چاہیئے تاکہ پی ٹی آئی اراکین اسمبلی توڑنے کے لیے پاپڑ نہ بیلنا پڑیں۔ انکا خیال تھا کہ اس طرح تحریک عدم اعتماد کا معاملہ شائستہ طریقے سے پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔ تاہم مولانا فضل الرحمن کی توقعات کے برعکس اور آصف زرداری کی جانب سے وزارت اعلیٰ کا امیدوار نامزد کیے جانے کے باوجود چودھری برادران نے ڈبل گیم کھیلنا شروع کر دی۔ صافی نے کہا کہ میری اطلاعات کے مطابق حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کیلئے جو تاخیر ہو رہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی کے کچھ اراکین اسمبکی نے بھی اپوزیشن سے رابطے کر لئے ہیں لہذا اب اُن کے ساتھ معاملات طے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سلیم صافی نے کہا کہ اپوزیشن کا منصوبہ یہ ہے کہ تمام جماعتوں کی قیادت اپنے اراکین اسمبلی کیساتھ اسلام آباد میں اکھٹی ہو جائے۔ لیکن سیاست کا اصل کھیل تب شروع ہو گا جب بلاول بھٹو اپنے عوامی لانگ مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچیں گے اور ڈی چوک پر دھرنا دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان وہ شخص ہیں جو اپنے خاص اور دیرینہ ساتھی نعیم الحق کے جنازے میں بھی شرکت کے لیے نہیں گئے تھے۔ وہ تو قریب سے قریب دوستوں اور رشتہ داروں کی عیادت کیلئے بھی نہیں جاتے۔ جب کچھ عرصہ قبل چودھری شجاعت بیمار ہوئے تو پاکستان کی تمام سیاسی قیادت ان کی عیادت کو پہنچی لیکن عمران تب بھی وہاں جانے سے انکاری رہے۔ تاہم اب جب وزیراعظم کو اپنے اقتدار کی کشتی ڈوبتی محسوس ہو رہی ہے تو وہ آخری حد تک جاتے ہوئے نہ صرف چودھری شجاعت کے گھر پہنچ گئے بلکہ ان کے گھٹنے تک پکڑ لیے۔ لیکن سلیم صافی کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ عمران خان کا بچنا نا ممکن ہے کیونکہ اپوزیشن نے پوری تیاری کر رکھی ہے۔ حزب اختلاف کی قیادت جانتی ہے کہ اسکی تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو مخالفین کا برا حشر کرنے کی دھمکی دینے والا وزیراعظم ان کے خلاف کس حد تک جا سکتا ہے۔
