کیا الیکٹرک گاڑیاں پٹرول پر انحصار کم کر سکتی ہیں؟


نئی حکومت آنے کے بعد سے پاکستانیوں پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متوقع اضافہ ایک ڈرائونے خواب کی حیثیت اختیار کر گیا ہے، لوگ روز قیاس کر رہے ہیں کہ آج قیمتیں بڑھنے کا اعلان ہوگا یا کل، لیکن حکومت زیادہ دیر تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو برقرار نہیں رکھ سکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں ہر کوئی پٹرول سے نجات حاصل کرتے ہوئے الیکٹرک گاڑیوں کے متعلق سوچ رہا ہے جن کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، پاکستان میں سب سے سستی الیکٹرک کار ’رینکو آریا‘ ہے جس کی قیمت 24 لاکھ کے قریب ہے، قریب یہی قیمت اب پاکستان میں عام چھوٹی گاڑیوں کی ہے اور اس سے کم میں الیکٹرک کار خریدنے کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ایم جی کمپنی کی ’زیڈ ایس ای وی‘ کو بھی سستی الیکٹرک کاروں میں شمار کیا جاتا ہے، یہ ایس یو وی قریب 70 لاکھ روپے کی ہے اور ’اوڈی ای ٹران‘ جیسی گاڑیوں کا ذکر تو رہنے ہی دیں، جو دو کروڑ روپے سے کم میں نہیں ملتیں۔

پاکستان میں میں بظاہر لوگوں کی الیکٹرک گاڑیوں میں دلچسپی تو بہت ہے مگر ان کے زیادہ خریدار نہیں، اس صنعت کو سب سے پہلا چیلنج نئی ٹیکنالوجی سے ڈر کا ہے۔ سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ ان الیکٹرک کاروں کی قیمت زیادہ ہوتی ہے جو 50 فیصد تک اوپر ہو سکتی ہے کیونکہ ان کی بیٹریاں مہنگی ہیں، آپ کو پہلے پہل زیادہ قیمت ادا کرنا ہوتی ہے مگر تین سے چار سال کے استعمال (پیٹرول اور مینٹیننس کی بچت) سے یہ رقم پوری ہو جاتی ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کا دوسر مسئلہ یہ ہے کہ عام گاڑیوں کے تو مکینک ہر جگہ مل جاتے ہیں مگر ان گاڑیوں کے پارٹس اور مکینک کہاں ملیں گے، مگر وہ سمجھتے ہیں کہ یہ صرف وقت کی بات ہے کہ کب لوگ اس ٹیکنالوجی کو اپنا لیں گے، وہ اس لیے ماحول دوست ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے پُرامید ہیں کیونکہ ’پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کی ایفیشنسی (کارکردگی) 20 سے 25 فیصد ہوتی ہے جبکہ الیکٹرک کاروں میں یہ 90 فیصد تک ہو سکتی ہے۔کمپنی کے مطابق رینکو آریا الیکٹرک کار کو گھر میں فُل چارج کرنے پر 400 سے 500 روپے تک کا خرچ آتا ہے جس کے بعد اسے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر 200 کلومیٹر تک کی رینج کے ساتھ چلایا جا سکتا ہے، بظاہر شہر کی ڈرائیو کے لیے قریب تین روپے فی کلومیٹر کی قیمت اتنی زیادہ نہیں مگر پیٹرول والی کار کے کسی الیکٹرک گاڑیوں کے موازنے سے کچھ دلچسپ نتائج ملتے ہیں۔

تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق فاسٹ چارجنگ پر الیکٹرک کار پر فی کلومیٹر خرچ ساڑھے سات روپے ہے جو پیٹرول پر چلنے والی گاڑی میں قریباً 10 سے 15 روپے بنتا ہے، سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ گھر کی بجلی پر الیکٹرک کار کا فی کلومیٹر چار روپے خرچ ہے اور اگر سولر پر چارج کی جائے تو اس پر فی کلومیٹر ڈیڑھ روپے خرچ پڑتا ہے۔الیکٹرک گاڑیوں کی ری سیل کا انحصار رینج پر ہوتا ہے، پاکستان میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے قریب ہر استعمال شدہ کار اپنی ابتدائی قیمت سے زیادہ میں فروخت ہو جاتی ہے تاہم ’الیکٹرک کار کی ری سیل ویلیو خود بخود اوپر جاتی ہے اگر اس کی رینج 400 کلومیٹر سے زیادہ ہو۔

بڑی الیکٹرک کار کی رینج 400 کلومیٹر سے زیادہ ہو تو آپ ایک شہر سے دوسرے شہر باآسانی جا سکتے ہیں جبکہ چھوٹی کاروں میں (ری سیل ویلیو کے لیے) اس کی خصوصیات اور آفٹر سیلز سروس بہتر ہونی چاہئیں۔پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں بنانا زیادہ آسان ہوگا کیونکہ اس میں موونگ پارٹس 30 کے قریب ہیں اور دوسری کاروں میں یہ 200 یا اس سے زیادہ ہوتے ہیں، ’پیچیدگی اس کے سافٹ ویئر، بیٹریوں اور موٹر کنٹرول یونٹس میں ہے کیونکہ یہی اس کا انجن ہے۔

Back to top button