کیا امریکہ جا کر ہمارے فوجی افسر برین واش ہو جاتے ہیں؟

امریکہ میں نئی جو بائیڈن حکومت کی جانب سے اپنے فوجی تعلیمی اداروں میں پاکستانی فوج کے سینئیر افسران کی فوجی فوجی تربیت اور تعلیم کے لیے خصوصی فنڈ دوبارہ سے مختص کرنے کے اعلان پر پاکستانی فوج میں کوئی زیادہ جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آ رہا ہے۔ اسکی بنیادی وجہ ایک تو دونوں ملکوں کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے بگڑتے ہوئے باہمی تعلقات ہیں اور روس اور چین کے ساتھ فوجی ٹریننگ کے معاہدے ہیں۔ دوسرا ایسی قیاس آرائیاں ہیں کہ امریکی اداروں میں پاکستانی فوجی افسران کی برین واشنگ کر کے انہیں پاکستان سے زیادہ امریکی مفادات کا نگہبان بنا دیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے جون کے پہلے ہفتے میں غیر ملکی فوجیوں کی امریکہ میں تربیت کی غرض سے چلنے والے اس پروگرام میں پاکستانی فوجی افسروں کو دوبارہ شامل کرنے کی منظوری دی تھی۔ اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی حکومتی اہلکار نے بتایا کہ پاک فوج 1991 کی ابتدا سے امریکی محکمہ خارجہ کے انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پروگرام میں شامل ہوتی اور نکلتی آ رہی ہے۔ پہلی بار سنہ 1991 میں پریسلر ترمیم کے تحت پاکستانی افسران کی فوجی تربیت معطل کر دی گئی تھی۔
پاکستان کی سکیورٹی معاونت روکنے کے ٹرمپ کے فیصلے کے پہلے معلوم اثرات کے تحت اگست 2018 میں پاکستان کی اس پروگرام سے دوبارہ معطلی ہوئی تھی جس سے اُس برس پاکستانی فوجی افسران کے لیے مختص 65 نشستیں منسوخ کر دی گئی تھیں۔ انکا کہنا تھا کہ اگر امریکہ دوبارہ پاکستانی فوجیوں کو یہ ٹریننگ دینا چاہتا ہے تو اس میں کوئی نئی بات نہیں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اب پاکستان آرمی میں اس پروگرام کے حوالے سے پہلے جیسا جوش و خروش نہیں پایا جاتا کیونکہ اب پاکستان آرمی روس اور چین کے ساتھ ایسے پروگراموں میں مصروف ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی ملٹری سیاسی تنازعات سے بچنے کے لیے روایتی طور پر ایسے تعلیمی پروگراموں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ دلیل یہ ہوتی ہے کہ غیر ملکی فوجی افسران کو امریکہ لانے سے تعلقات استوار ہوتے ہیں جو بعد ازاں طویل المدتی بنیادوں پر فائدہ دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ آئی ایم ای ٹی‘ کے تحت امریکی آرمی وار کالج اور امریکی بحریہ وار کالج جیسے امریکی تعلیمی اداروں میں غیر ملکی ملٹری افسران کے داخلوں کی گنجائش پیدا کی جاتی ہے۔ امریکی انتظامیہ کی حالیہ اعلان کردہ بجٹ سٹیٹمنٹ کے مطابق 13.8 ملین ڈالر انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پروگرام برائے جنوبی و وسطی ایشیا کے لیے مانگے گئے ہیں جس کے تحت ’خطے میں امریکی ترجیحات کے حامی اور شراکت دار ممالک کی افواج کی پیشہ وارانہ مہارت اور پیشہ وارانہ فوجی تعلیم پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔‘ ترجیحی ممالک میں پاکستان، بنگلہ دیش، انڈیا اور نیپال شامل ہیں۔
اس پروگرام کا مقصد امریکی مسلح افواج اور دوست ممالک کے درمیان اشتراک بڑھانا ہوتا ہے۔ تاکم ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس کی معطلی اور 2018 میں فنڈنگ رُک جانے کے بعد ‘آئی ایم ای ٹی’ کے بارے میں پاکستانی فوج زیادہ پُرجوش نہیں رہی کیونکہ عموما یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس پروگرام پر جانے والے پاکستانی فوجی افسران کی برین واشنگ کی کوشش کی جاتی ہے اور انہیں پاکستان واپس جا کر امریکی مفادات کے لیے کام کرنے پر اکسایا جاتا ہے۔
ماضی میں کلیدی فوجی اور انٹیلیجنس عہدوں پر فرائض انجام دینے والے ریٹائرڈ بریگیڈیئر محمود شاہ کا کہنا ہے کہ ’آئی ایم ای ٹی‘ سے کچھ خاص فرق نہیں پڑتا، ہمارے افسران یورپ، چین، روس اور مشرق وسطیٰ میں اعلیٰ فوجی تربیتی اور تعلیمی اداروں میں جا رہے ہیں، امریکہ کے ’آئی ایم ای ٹی‘ کو معطل کرنے کے بعد یہ سلسلہ نہیں رکا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ اچھا ہے کہ ہمارے افسران ’آئی ایم ای ٹی‘ کے تحت تربیت کے لیے امریکہ جائیں گے۔ لیکن اس کی معطلی سے پاک فوج کو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔‘
دوسری جانب قومی سلامتی کے سابق مشیر ریٹائرڈ میجر جنرل محمود درانی ‘آئی ایم ای ٹی’ کے بارے میں بہت پُرجوش ہیں۔ یاد رہے کہ محمود درانی کی کمانڈ پر آخری تقرری 1988 میں بہاولپور میں ہوئی تھی جہاں وہ پاکستان آرمی کی فرسٹ آرمرڈ ڈویژن کی کمان کر چکے ہیں۔ جنرل درانی انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پروگرام کے لیے رطب للسان ہیں جو امریکی حکومت نے 1976 میں دوست ممالک کی افواج کے لیے شروع کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ’آئی ایم ای ٹی اچھا ہے۔ اس سے امریکی معاشرے کو سمجھنے، امریکی نظام حکومت اور فوج کے بارے میں جاننے اور سیکھنے کا اچھا موقع ملتا ہے۔‘چھ ماہ کا کورس ’آرمر فارمیشن‘ کی کمان کرنے کی فنی تربیت کا کورس ہے۔
محمود درانی نے کہا کہ ’یہ محض فوجی تربیت ہے اور اس تربیت میں کوئی نظریاتی اجزا شامل نہیں۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستانی معاشرے میں پائی جانے والی یہ قیاس آرائیاں قطعی فضول اور بے معنی ہیں کہ افسران کے برین واش کیے جاتے ہیں۔‘ جنرل درانی نے کہا کہ ’امریکی اپنے طالب علموں میں آپ کو مکس کر دیتے ہیں اور آپ کو ملٹری سائنسز کی معمول کی تربیت دیتے ہیں، وہاں پاکستانی ہی واحد غیر ملکی نہیں ہوتے۔ وہاں انڈین، اسرائیلی، یورپی سمیت 25 قومیتوں کے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ لہذا یہ ایک بین الاقوامی ماحول ہوتا ہے، آپ اس ماحول سے سیکھتے ہیں کہ امریکی نظام کیسے چلتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک بہت ہی صحت مند ماحول تھا، آپ امریکی حکومت کے بارے میں سیکھتے ہیں، آپ کثیرالقومیت کی ثقافت سے روشناس ہوتے ہیں۔‘ آپ سیکھتے ہیں کہ ان کی حکومت کیسے چلتی ہے اور ان کی فوج کیسے کام کرتی ہے۔‘ انھوں نے بتایا کہ ’جو لوگ دوسری ثقافتوں سے نہیں سیکھتے، وہ اپنے خیالات کے غلام ہو جاتے ہیں۔‘
تاہم یاد رہے کہ آئی ایم ای ٹی کے تحت تربیت پانے والے افسران کی فہرست سے امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے پاک فوج کی معطلی کے بعد پاکستان اور روس نے فوجی تعاون کا معاہدہ کر لیا جس میں پاکستانی فوجی تربیت کے لیے روس بھجوانا بھی شامل تھا۔ اگست 2018 میں روس کے نائب وزیر دفاع الیگزینڈر فومِن کے پاکستان کے دو دن کے دورے کے موقع پر یہ معاہدہ ہوا تھا جبکہ نو اگست 2018 میں ماسکو میں روس اور پاکستان کی اعلیٰ فوجی قیادت کے اجلاس میں اس متعلق بات چیت ہوئی تھی۔ روسی مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے چیف آرمی جنرل ویلیرے گراسیموف اور پاکستان کے جنرل زبیر محمود حیات کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بارے میں روسی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ فوجی قائدین نے’دفاعی شعبے میں مذاکرات کو گہرا کرنے اور معاہدوں کو ترقی دینے کے عمل کی توثیق کی۔‘ وزارت کے مطابق معاہدے کا بنیادی محور پاکستانی فوجیوں کو روس میں فوجی سکولوں میں تربیت اوراداروں میں اعلیٰ تعلیم دینا ہے۔
اسکے بعد 17 ستمبر 2018 کو جنرل قمر باجوہ نے چین کی پیپلز لیبریشن آرمی کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا اور ’پی ایل اے‘ کے چیف جنرل ہان ویگو سے ملاقات کی جس میں جنرل ہان ویگو نے جنرل باجوہ سے کہا کہ پیپلز لبریشن آرمی اُس وسیع جنگی تجربے سے استفادہ کرنا چاہتی ہے جو گذشتہ 15 برس کے دوران پاکستان کی فوج نے حاصل کیا جائے۔ یوں اب پاکستانی فوجی افسران روس اور چین کے فوجی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اس لیے انہیں امریکہ پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں۔
ایک سینیئر فوجی تجزیہ کار کے الفاظ میں پاکستان کی فوج نے گذشتہ 15 سال میں جو ’کامبیٹ تجربہ‘ حاصل کیا ہے وہ خالص فوجی اصطلاح میں ’سونے کی کان‘ کی مانند ہے۔ امریکی سکیورٹی اسٹیبلیشمنٹ پاکستانی فوج کی ’آئی ایم ای ٹی‘ سے معطلی کے بعد سے یہ زور دیتی آ رہی تھی کہ واشنگٹن کا پاکستانی ملٹری لیڈروں سے رابطہ منقطع کر کے رہنا خود اس کے مفاد میں نہیں۔ سنہ 1976 سے پاکستان کی فوج کے دو سربراہان ’آئی ایم ای ٹی‘ کے تحت امریکی فوجی اداروں میں تربیت پا چکے ہیں۔ ‘آئی ایم ای ٹی’ 1976 میں قائم ہوا تھا جس کے بعد صرف دو فوجی سربراہان یعنی جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی اور جنرل قمر جاوید باجوہ ‘آئی ایم ای ٹی’ کے تحت امریکی فوجی تربیتی اداروں میں اعلیٰ تربیت پانے گئے۔
پاکستان کی فوج کے سابق سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے امریکی فوجی اداروں میں تعلیم کا طویل ترین دور گزارا ہے۔ ان کی سرکاری سوانح عمری کے مطابق ’جنرل اشفاق پرویز کیانی نے فورٹ بیننگ (امریکہ)، کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ، کمانڈ اینڈ جنرل سٹاف کالج فورٹ لی وِن ورتھ (امریکہ)، ایشیا پیسیفک سینٹر فار سکیورٹی سٹڈیز، ہوائی (امریکہ) اور نیشنل ڈیفنس کالج اسلام آباد سے گریجویٹ کیا۔‘
اگرچہ پاکستان کی فوج کے موجودہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کینیڈا سے گریجویٹ کیا لیکن بعدازاں مونیٹیری کیلی فورنیا، امریکہ سے نیول پوسٹ گریجویٹ سکول سے گریجویشن کی۔ ان دو کے علاوہ امریکی فوجی تعلیمی اداروں میں تربیت پانے والے پاکستانی فوجی سربراہان میں جنرل ضیا الحق، جنرل اسلم بیگ اور جنرل جہانگیر کرامت شامل ہیں۔

Back to top button