کیا امریکی شہریت نور کے قاتل کو بچا سکتی ہے؟


اسلام آباد میں دن دیہاڑے ذبح کی جانے والی نور مقدم کے سفاک قاتل ظاہر جعفر کی جانب سے خود کو امریکی شہری ظاہر کرکے سزا سے بچنے کی کوشش کامیاب ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
معلوم ہوا ہے کہ گرفتاری کے بعد سے ملزم ظاہر جعفر پولیس کے سامنے بار بار ایک ہی موقف دہرا رہا ہے کہ وہ امریکی شہری ہے اور اس پر پاکستان کا قانون لاگو نہیں ہوتا لہذا اسے امریکی سفارتخانے تک سفارتی رسائی دی جائے۔ 28 جولائی کو بھی جب اسلام آباد پولیس جنونی قاتل کو ڈسٹرکٹ عدالت کی طرف کھینچتی ہوئی لے جارہی تھی، تب بھی اس نے صحافیوں کے سامنے یہی بات دہرائی کہ ‘میں ایک امریکی شہری ہوں۔’ ظاہر کے اس موقف پر کئی سوالات پوچھے جا رہے ہیں۔ کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ امریکی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی کے کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس کی طرح کیا ظاہر کو بھی امریکی مدد حاصل ہوگی۔ یہاں یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ نور مقدم قتل کیس اب عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ اس کیس سے متعلق بہت سی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں لہازا یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کیا پاکستان میں رہنے والے امریکی شہری اگر کسی الزام میں گرفتار ہوتے ہیں تو ان کے لیے ان کا ملک کیا قانونی اقدامات اٹھا سکتا ہے۔ اس کیس سے متعلق زیادہ تر سوالات سوشل میڈیا پر پوچھے جا رہے ہیں۔
اس کیس سے متعلق ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ 26 جولائی کو امریکی سفارتخانے کے چند افسران نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر سے ملاقات کرچکے ہیں جس کے بعد امریکی شہری ہونے کی وجہ سے ملزم ظاہر جعفر کی رہائی اور اسے استثنیٰ حاصل ہونے کی بحث نے مزید زور پکڑ لیا۔ اس خبر کے چلنے کے بعد امریکی سفارتخانے نے ٹوئٹر پر ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘امریکی شہری جس ملک میں رہتے ہیں ان پر وہاں کا قانون لاگو ہوتا ہے۔ اگر کوئی امریکی شہری کہیں گرفتار ہوتا ہے تو سفارتخانہ ان سے ملاقات کر کے ان کا حال احوال پوچھ سکتا ہے اور انھیں وکلا کی سہولت بھی مہیا کی جاتی ہے۔ لیکن امریکی سفارتخانہ نہ تو قانونی مشورہ دے سکتا ہے اور نہ ہی عدالتی کارروائی میں شامل ہوسکتا ہے اور نہ ہی کسی مجرم کی رہائی پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔’
اس بارے میں ایڈووکیٹ اسد جمال نے بتایا کہ ‘ظاہر جعفر ایک عام شہری ہے اور اسے کوئی سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہے کیونکہ امریکہ نے اسے سفارت کار کے طور پر پاکستان نہیں بھیجا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ریمنڈ ڈیوس کا کیس بالکل مختلف تھا جس میں انھیں امریکہ کی طرف سے سفارتی استثنیٰ حاصل تھی، کیونکہ وہ سفارتکار کے طور پر پاکستان آئے تھے جس کو بنیاد بنا کر ان کو قتل کے الزام کے باوجود پاکستان سے واپس امریکہ بھیج دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ پاکستان میں امریکی سی آئی اے کے لیے کام کرنے والے ریمنڈ ڈیوس کو 27 جنوری 2011 کو تب گرفتار کیا گیا تھا جب وہ لاہور میں دو افراد کو قتل کر کے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ بعدازاں مقتولین کے ورثا کو تب کے آئی ایس آئی سربراہ احمد شجاع پاشا کی جانب سے دباؤ میں لاکر دیت کی رقم کے عوض معافی دلوا دی گئی تھی اور ریمنڈ ڈیوس کو رہا کر کے امریکہ بھجوا دیا گیا تھا۔ اسد جمال ایدووکیٹ نے کہا کہ ‘جہاں تک ان امریکی شہریوں کی بات ہے جو پاکستان میں رہتے ہیں، ان کی گرفتاری کے لیے وہ تمام قوانین لاگو ہوں گے جو پاکستان کے آئین میں ہیں۔ اس کے علاوہ کسی بھی ملک کا شہری اگر کسی دوسرے ملک میں گرفتار ہوتا ہے تو اسے اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہوتا ہے۔’ ان کے مطابق اس کے دفاع کے لیے سفارتخانہ اسے وکلا سے متعارف کروا سکتا ہے لیکن اس کے کیس میں مداخلت نہیں کرسکتا۔ اسی طرح ظاہر جعفر امریکی شہری ہونے کے فوائد بھی حاصل کر سکتے ہیں لیکن یہ فوائد انھیں وکیل پہنچانے کی حد تک محدود ہیں۔
ایک اور کیس کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کی گرفتاری کے بعد پاکستان کو عالمی عدالتِ انصاف نے کونسلر رسائی پہنچانے کا کہا تھا۔ ‘ایسے مقدمات میں کسی بھی ملک کو عالمی قوانین کی پاسداری کرنی ہوتی ہے۔ اور پاکستان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دوسرے ملک میں کسی بھی جرم میں گرفتار اپنی شہریوں کے بارے میں سوال کرے اور معلوم کرے کے ہوا کیا ہے۔ اور اگر وہ کسی غلط الزام میں پھنسے ہیں تب ان کی قانونی مدد کی جاسکتی ہے۔’ لیکن عام شہریوں کی گرفتاری اور اس کے بعد چلنے والے مقدمات میں کوئی بھی ملک مداخلت نہیں کرسکتا۔ وہ اسی ملک کے قوانین کے تحت ہوتے ہیں۔ اور ملک کے قوانین کے تحت ان کی مدد کی جاسکتی ہے۔
اسلام آباد میں موجود ایک سابق سفارتکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ‘امریکہ اس وقت ایسے کسی کیس میں نہیں پھنسنا چاہتا، خاص طور سے جب سفارتی معاملات اس قدر کشیدہ ہوں۔ یہ پاکستان کے اندر کا معاملہ ہے اور اس میں تفتیشی افسران کی پوری کوشش ہونی چاہیے کہ معاملہ ملک کے قوانین کے تحت ہی حل ہو جائے۔’

Back to top button