کیا انڈیا اور طالبان رابطوں میں پاکستان کا فائدہ ہے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ پاکستان میں کچھ لوگ افغان طالبان اور بھارت کے مابین رابطوں کو اسلام آباد کے لئے ایک سفارتی ندامت سمجھ رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کے بدلتے ہوئے منظر نامے نے بھارت کو ان طالبان سے سے بات چیت پر مجبور کر دیا ہے جنکو وہ 20 برس دہشت گرد قرار دیتا رہا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے لئے اپنی تازہ تھزیے میں حامد میر لکھتے ہیں کہ 20 سال پہلے یہ تصور کرنا بھی مشکل تھا کہ امریکہ اور افغان طالبان آپس میں امن معاہدہ کر سکتے ہیں۔ لیکن 2020 میں یہ ناممکن خیال ایک حقیقت بن گیا۔ آج یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ ہندوستان، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت، افغان طالبان کے ساتھ رابطے پر مائل ہو سکتی ہے۔ افغان طالبان نے جمہوریت سے اپنی شدید نفرت کے اظہار میں کبھی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیا۔ ذرائع ابلاغ میں حال ہی میں بھارت اور طالبان میں بیک ڈور رابطوں کی کہانیاں منظر عام پر آئی ہیں۔ اگرچہ ہندوستانی عہدیداروں نے ان کہانیوں کی تردید کی ہے لیکن بھارتی دعووں پر شک و شبے کے مضبوط شواہد موجود ہیں۔
حامد میر کے مطابق در حقیقت، ہندوستان کے طالبان سے رابطوں کی ایک طویل تاریخ موجود ہے اور جس سے پاکستانی حکومت میں اکثر بے چینی پیدا ہوتی رہی ہے۔ پاکستان افغانستان میں دہلی کے اثر و رسوخ کو کم سے کم رکھنے کا خواہاں رہا ہے۔ تاہم تاریخ کا سبق یہی ہے کہ ایسی کوئی خواہش کوتاہ نظری ہی ہو سکتی ہے لہازا خطے کی تمام قوتوں کو کوشش کرنی چاہیے کہ خانہ جنگی سے بچا جا سکے۔ سینئر صحافی کا کہنا یے کہ بھارتی عہدیداروں نے طالبان سے اپنا پہلا براہ راست رابطہ 2013 میں کیا جب انہوں نے سینئر طالبان رہنما، عبدالسلام ضعیف کو ایک کانفرنس کے لئے ویزا جاری کیا۔ عبدالسلام ضعیف ماضی میں پاکستان میں طالبان کا سفیر تھے لیکن نائن الیون کے بعد پاکستانی حکومت نے انہیں گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کر دیا۔ بعد ازاں، ان کی کتاب، ”طالبان کے ساتھ میری زندگی“ 2010 میں ہندوستان میں شائع ہوئی تھی۔ ان کا نام بھی اقوام متحدہ کے نامزد دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد کسی وقت انہوں نے ہندوستان کا دورہ کیا۔ ایک بڑا سوال باقی رہا: وہ ہندوستان جانے پر راضی کیوں ہوئے اور ہندوستان نے انہیں اپنے ملک میں داخلے کی اجازت کیوں دی؟
حامد میر کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نائن الیون کے بعد پاکستان کے یو ٹرن سے خوش نہیں تھے۔ ملا عبدالسلام ضعیف نے اپنی کتاب میں پاکستان کے سلامتی کے اداروں کے خلاف واضح طور پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے لکھا: ”ان کے ایک منہ میں بیک وقت دو زبانیں ہیں، اور ایک سر پر دو چہرے رکھتے ہیں تاکہ وہ سب کی زبان بول سکیں۔ وہ سب کو استعمال کرتے ہیں، سب کو دھوکہ دیتے ہیں۔“ انہوں نے اس پر بھی کڑی تنقید کی کہ ان کے ساتھیوں کو پاکستانی جیلوں میں اذیت دی جاتی تھی۔
اسی طرح ایک اور سینئر طالبان رہنما، عبدالغنی برادر کو 2010 میں پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ گرفتاری ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ عبدالغنی برادر سابق افغان صدر حامد کرزئی سے رابطے میں تھے، جو خاموشی سے روس، ایران اور بھارت کو طالبان کے ساتھ بات چیت شروع کرنے پر قائل کر رہے تھے۔ پاکستان حامد کرزئی کے ساتھ ملا عبدالغنی برادر کے رابطوں سے ناخوش تھا چنانچہ انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ پاکستان کے ہاتھوں اس ذلت نے طالبان کو روس، ایران اور ہندوستان کے ساتھ رابطے شروع کرنے پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے روس اور ایران کو بڑی مہارت سے یہ یقین دہانی کرائی کہ صرف طالبان ہی افغانستان میں دولت اسلامیہ یا داعش کو روک سکتے ہیں۔ طالبان البتہ ہندوستان سے معاملات طے کرنے میں خاصے محتاط تھے۔
حامد میر یاد دلاتے ہیں کہ پاکستان نے عبدالغنی برادر کو 2018 میں رہا کیا تو طالبان نے انہیں قطر میں اپنی مذاکراتی ٹیم کا سربراہ مقرر کر دیا۔ اسی برس کچھ سینئر طالبان رہنماؤں نے ماسکو میں ہندوستان کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ وہ ہندوستان کو غیر جانبدار رکھنا چاہتے تھے کیونکہ ماضی میں ہندوستان نے طالبان مخالف قوتوں کی حمایت کی تھی۔ دریں اثنا، ہندوستان طالبان سے روابط میں دلچسپی لے رہا تھا کیونکہ افغان صدر اشرف غنی طالبان کے خلاف متحدہ محاذ تشکیل دینے میں ناکام رہے تھے۔ بھارت نے نائن الیون کے بعد افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی یہاں تک کہ کابل میں پارلیمنٹ کی نئی عمارت بھی بھارت نے تعمیر کی۔ ہندوستان نے ملک کے مختلف حصوں میں ڈیم، سڑکیں، اسکول، یونیورسٹیاں، اسپتال اور اسپورٹس اسٹیڈیم بھی بنائے تھے۔ اگر طالبان کے ساتھ سلسلہ جنبانی کا امکان ختم ہو جاتا تو یہ سب سرمایہ کاری ضائع ہو جاتی۔
حامد میر کا کہنا ہے کہ پچھلے سال، امریکہ نے بھی ہندوستان کو طالبان کے ساتھ رابطے بڑھنے کی تجویز دی تھی۔ بھارت کو خدشہ تھا کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد جموں و کشمیر میں عسکریت پسندی کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے جیسا کہ 1989 میں روسیوں کے افغانستان سے انخلا کے بعد ہوا تھا۔ لیخن طالبان نے بھارت پر واضح کر دیا کہ وہ کشمیر میں مداخلت نہیں کریں گے۔ طالبان کو یہ بھی معلوم تھا کہ ہندوستان اشرف غنی حکومت کو فوجی مدد فراہم کر رہا ہے۔ چنانچہ انہوں نے بھارت کو افغانستان کی داخلی کشمکش میں غیر جانبدار رہنے پر قائل کرنے کی کوشش کی۔
حامد میر واشنگٹن پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ گزشتہ ماہ قطر کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے انکشاف کیا تھا کہ ہندوستانی عہدیداروں اور طالبان رہنماؤں نے دوحہ میں ایک ملاقات کی ہے۔ پاکستان ان خبروں پر خوش نہیں تھا۔ در حقیقت، پاکستان افغان امن مذاکرات میں انڈیا کی شمولیت کو سرے سے مسترد کرتا ہے۔ اگرچہ پاکستان حال ہی میں خود بھی بھارت کے ساتھ رابطوں میں مشغول رہا ہے، تاہم یہ کبھی بھی طالبان اور ہندوستان کے مابین رابطوں کے بارے میں پرجوش نہیں رہا۔ سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ حال ہی میں، پاکستانی سکیورٹی عہدیداروں نے ایک بند اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ کو بتایا کہ افغان طالبان اب پاکستان سے تعاون پر آمادہ نہیں ہیں بلکہ طاقت کے زور پر کابل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان عہدیداروں نے یہ بھی کہا کہ افغان اور پاکستانی طالبان میں اب کوئی فرق نہیں رہا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے ہمیشہ تحریک طالبان پر بھارت سے مدد لینے کا الزام لگایا ہے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ پاکستان میں کچھ لوگ طالبان اور بھارت کے مابین تعلقات کو اسلام آباد کے لئے سفارتی ندامت سمجھتے ہیں۔ اسی طرح کے خیالات ہندوستان میں بھی سنے جا سکتے ہیں، جہاں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا کہ ”دہشت گردوں کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔“ بھارتی حکمران جماعت طالبان کو پاکستان کا پراکسی کہتے ہوئے مسترد کرتی رہی ہے۔ تاہم سچ تو یہ ہے کہ افغانستان کے بدلتے ہوئے منظر نامے نے انھیں دہشت گردوں سے بات چیت پر مجبور کر دیا ہے۔ اور ویسے بھی اگر افغان باشندوں بشمول طالبان کو امن مذاکرات میں انڈیا کی شمولیت سے کوئی مسئلہ نہیں تو اس کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔ در حقیقت اگر اس سے افغانستان میں استحکام کو یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے تو حالات کی یہ صورت پاکستان کے لئے بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے۔

Back to top button