کیا اوجڑی کیمپ سانحے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ تھا؟

10 اپریل 1988 کو راولپنڈی میں اوجڑی کیمپ کے اسلحے کے بڑے ذخیرے کی تباہی اور 103 افراد کی ہلاکت کوئی حادثہ نہیں تھا جیسا کہ بتایا گیا بلکہ یہ ایک تخریب کاری کا واقعہ تھا جس کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی "را” تھی۔
نامور امریکی صحافی بروس ریڈل نے اپنی مشہور زمانہ کتاب بعنوان "ایوائڈنگ آماگیڈن” میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ دو سابق "را” کے افسروں نے 2012 میں ان کے سامنے یہ اعتراف کیا تھا کہ ان کے ایجنسی نے پاکستان کی جانب سے کشمیری حریت پسندوں اور سکھ علیحدگی پسندوں کی مسلسل مدد کرنے کے ردعمل میں اوجڑی کیمپ کو تخریب کاری سے تباہ کیا تھا۔ یعنی اس اندوہناک واقعے کے میں بھارت کی پاکستان دشمنی کارفرما تھی۔ تاہم یاد رہے کہ پاکستانی حکام نے اوجڑی کیمپ سانحے کو ایک حادثہ کا نتیجہ قرار دیا تھا۔ بروس ریڈل کئی برس تک امریکی قومی سلامتی کے اداروں کیلئے کام کرنے کے علاوہ 4 امریکی صدور کیساتھ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیاء کے معاملات پر معاون خصوصی بھی رہے ہیں اس لئے سمجھا جاتا ہے کہ ان کے اس دعوے میں سچائی کا عنصر ضرور شامل ہو گا۔
یاد رہے کہ 10 اپریل 1988 کو ہونیوالے سانحہ اوجڑی کیمپ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ سانحہ پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک گردانا جاتا ہے۔ 10 اپریل کو وہ ایک عام صبح تھی، لوگ اپنے روزمرہ کے معمولات میں مصروف تھے کہ اچانک 9 بج کر 45 منٹ پر جڑواں شہر دھماکوں سے لرز اٹھے اور یر طرف میزائیل اڑنے لگے، ایسا لگا جیسے دشمن نے وفاقی دارالحکومت کو چاروں طرف سے گھیر کر میزائلوں کی بارش کر دی ہو۔ آناً فاناً پورے کیمپ میں آگ کے الاؤ بھڑکنے لگے، دھماکے پر دھماکے ہو ئے جا رہے تھے،اس حادثے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 103 افراد جاں بحق جبکہ 1300 سے زائد زخمی ہوئے، مگر غیر سرکاری اندازوں کے مطابق جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔
اس افسوسناک حادثے کو 32 برس گزر چکے، لیکن ان تین عشروں میں اوجڑی کیمپ سانحے کے بارے میں پاکستان کے کسی ادارے نے عوام کو پورے سچ سے آگاہ نہیں کیا ، طرح طرح کے مفروضے اور افسانے سننے کو ملتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ افغان جہاد کے زمانہ میں روسی کلاشنکوف کی طرح امریکی سام میزائل بھی ایک نیا پراڈکٹ تھا، جو پاکستان خریدتا نہیں تھا بلکہ نمونہ کیلئے بطور ’’کمیشن‘‘ رکھ لیا کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ امریکیوں کے اصرار کے باوجود ضیاء الحق نے ان کو افغانی مجاہدین سے ڈائریکٹ ڈیل کی اجازت نہیں دی تھی بلکہ ان کے استعمال کے لیے لایا جانیوالا جدید اسلحہ پہلے اسلام آباد کے مضافات اوجڑی کیمپ میں ڈمپ کیا جاتا پھر وہاں سے بہ کفایت آگے ترسیل ہوتی۔
امریکا کو سب خبر تھی مگر وہ مصلحتاً خاموش رہا۔ جونہی جنیوا معاہدہ ہوا تو دشمن نے پاکستان کو سبق سکھانے کی ٹھانی، چنانچہ 10 اپریل 1988ء کو اوجڑی کیمپ کا خفیہ اسلحہ خانہ پھٹ گیا۔ سینکڑوں سام میزائل دور دور تک اڑ کر گرے۔ اسی دوران شاہد خاقان عباسی کے والد اور تب کے وفاقی وزیر خاقان عباسی مری سے راولپنڈی آتے ہوئے اپنے کار پر میزائل لگنے سے جاں بحق ہوگئے ۔ اس اندوہناک واقعے کے دو دن بعد اس وقت کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے لیفٹیننٹ جنرل عمران اللہ خان کی سربراہی میں ایک دو رکنی کمیشن قائم کیا جسے اسلحہ ڈپو میں آگ لگنے کے اسباب اور ذمہ داران کا تعین کرکے 10 دن میں رپورٹ پیش کرنا تھی۔کمیشن نے اپنی رپورٹ 22 اپریل 1988 کو پیش کر دی مگر یہ کبھی عوام کے سامنے آئی نہ ہی قومی اسمبلی کے ریکارڈ پر۔
بعد ازاں 5 ارکان پر مشتمل ایک وزارتی کمیٹی قائم کی گئی جس نے رپورٹ کا جائزہ لیکر اس پر عملدرآمد کے لیے سفارشات تیارکرنا تھیں، اس کمیٹی کے چیئرمین اسلم خٹک تھے۔ اس وقت ایسا بھی کہا گیا کہ وزیر دفاع اسلم خٹک نے صدر ضیاء کو بتایا کہ وزیر اعظم جونیجو اوجڑی کیمپ کی تحقیقات کی روشنی میں ان کے دو پسندیدہ جرنیلوں، اختر عبدالرحمان اور حمید گل کی چھٹی کروانا چاہ رہے ہیں جن کو اس سانحے کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ جب کمیٹی کی رپورٹ کے مندرجات جنرل ضیاء تک پہنچے تو اس نے اپنے فوجی رفقاء کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور سانحہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کے حامی وزیراعظم جونیجو کو بر طرف کر کے گھر بھیج دیا۔
اس موقع پر جنرل ضیاء نے پی ٹی وی پر براہ راست بیٹھ کر باقاعدہ رومال نکال کراپنے آنسو پونچھے اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جونیجو کی حکومت، کرپٹ اور اسلام بیزار ہے، گویا محمد خان جونیجو کی برطرفی بھی بلاواسطہ اسی سانحہ کا شاخسانہ تھی۔ دوسری طرف اسلام آباد کے صحافتی حلقوں میں یہ سازشی مفروضہ مستند مانا جاتا ہے کہ امریکی حکام اوجھڑی کیمپ میں رکھے اسلحے کا حساب کتاب کرنے آ رہے تھے۔ بجائے انہیں حساب دینے کے ہمارے کچھ اپنوں نے اس کیمپ میں دھماکہ کروا دیا اور بات آئی گئی ہوگئی۔ اس حوالے سے سابق وفاقی وزیر بیگم کلثوم سیف اللہ کا ایک بیان ریکارڈ پر ہے کہ جنرل ضیاء نے اوجھڑی کیمپ میں خود آگ لگوائی کیونکہ اس کا مقصد امریکا کے دیے ہوئے سام میزائلوں کا ریکارڈ ضائع کرنا تھا۔ یہ بات بھی قرین از قیاس ہے کہ رات کے پچھلے پہر امریکا کا ایک ہوائی جہاز بغیر شیڈول کے پاکستان پہنچا تھا، جس سے کچھ اسلحہ رات کی تاریکی میں اوجھڑی کیمپ پہنچایا گیا تھا۔ اْس کے اگلے دن ہی صبح سویرے دھماکا ہو گیا جو کہ امریکا کی سوچی سمجھی سازش تھی تاکہ پاکستان کو ایٹمی پروگرام جاری رکھنے سے روکا جائے۔
مگر ان تمام باتوں میں جس چیز کا تذکرہ کم سننے میں آتا ہےوہ امریکی صحافی بروس ریڈل کے اس واقعے سے متعلق انکشافات ہیں۔ ریڈل واضح طور پر اپنی کتاب میں لکھ چکے ہیں کہ "را” نے اوجڑی کیمپ کو تخریب کاری سے تباہ کیا تھا تاکہ پاکستان کو کشمیری اور سکھ باغیوں کی مدد کرنے کی سزا دی جاسکے۔ ان تمام تر مفروضوں کے باوجود تلخ سچ یہ ہے کہ اوجڑی کیمپ سانحے پر بننے والے کمیشن اور کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹس پبلک نہیں کی جا سکیں اور 32 برس بعد بھی یہ سوال جوں کا توں موجود ہے کہ اوجڑی کیمپ میں آخر ہوا کیا تھا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button