کیا اپوزیشن اتحاد کو بچانے کی کوشش کامیاب ہو پائے گی؟

پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے سے پی ڈی ایم چھوڑنے پر غور کی اطلاع کے بعد مولانا فضل الرحمن اپوزیشن اتحاد کو بچانے کے لیے سرگرم ہو گئے ہیں اور مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی رہنماؤں کے درمیان لفظی جنگ رکوانے کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں مریم نواز کی جانب سے بلاول بھٹو کے خلاف کی جانے والی ایک ٹویٹ نے دونوں کے مابین ایک لفظی جنگ چھیڑ دی تھی جس کی بنیادی وجہ پیپلز پارٹی کا اسمبلیوں سے استعفے دینے سے انکار تھا۔ مریم نواز نے اس انکار کے بعد یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ پیپلزپارٹی دراصل اس لئے استعفے نہیں دینا چاہتی کہ اس کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل چل رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اس الزام کا سخت برا منایا اور یہ موقف اختیار کیا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی کی ڈیل ہوئی ہے تو وہ نواز شریف ہیں جو سزا ہونے کے باوجود جیل سے نکل کر لندن جا بیٹھے اور اب واپس آنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ پیپلزپارٹی کی قیادت نے ناراضی میں پی ڈی ایم اتحاد سے علیحدہ ہونے کی آپشن پر بھی مشورے شروع کر دیے تھے۔ آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو مولانا فضل الرحمن سے یہ گلہ تھا کہ اپوزیشن اتحاد کا سربراہ ہونے کے باوجود وہ ایک فریق بن کر اس کے خلاف نواز لیگ کے ساتھ کھڑے ہیں اور تمام اہم فیصلے پیپلز پارٹی کی مشاورت کے بغیر ان سے بالا بالا کر لیے جاتے ہیں جنہیں بعد میں ان پر تھوپنے کی کوشش کی جاتی ہے، لہذا ان حالات میں پیپلزپارٹی کا اتحاد میں مذید رہنا ممکن نہیں ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حالات خراب ہوتے دیکھ کر مولانا فضل الرحمن نے اب پیپلز پارٹی کو منانے اور اتحاد کو بچانے کی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر پیپلز پارٹی اتحاد سے باہر ہوگئی تو اس کی افادیت ختم ہو جائے گی۔ ذرائع کے مطابق مولانا نے مریم نواز اور بلاول بھٹو دونوں کو یہ پیغام بھجوایا ہے کہ وہ اپوزیشن کے وسیع تر مفاد میں ایکدوسرے کے خلاف بیان بازی کا سلسلہ بند کر دیں۔ چنانچہ بلاول بھٹو نے اپنے پارٹی قائدین کو ہدایت کردی ہے کہ وہ نواز لیگ کی قیادت کے خلاف کسی قسم کی بیان بازی نہ کریں۔
پی ڈی ایم ذرائع نے بتایا ہے کہ مریم نواز کی ٹویٹ پر بلاول بھٹو کے سخت ترین جوابی بیان کے بعد دونوں جماعتوں کے مابین مصالحانہ کوششوں میں مزید تیزی آ گئی ہے۔ مولانا کے علاوہ بھی اتحاد میں شامل رہنماؤں نے دونوں جماعتوں کی قیادت سے رابطے کرکے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی روکنے کی اپیل کی ہے۔ نواز لیگ کے ترجمان محمد زبیر نے ان کوششوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں کبھی نہیں چاہیں گی کہ ان کی باہمی سیاسی چپقلش کے باعث حکومت کے لیے آسانیاں پیدا ہوں اور اپوزیشن کمزور ہو۔ اس لیے مشترکہ دوست باہمی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ زبیر نے مصالحانہ کردار ادا کرنے والوں کے نام بتانے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ جب پسِ پردہ کوششیں کرنے والوں کے نام سامنے آتے ہیں تو ان پر دباؤ آتا ہے اس لیے فی الحال انہیں اپنا کام کرنے دیں تاکہ معاملات میں بہتری آ سکے۔
پاکستانی سیاست میں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کا کلچر اگرچہ بہت پرانا ہے لیکن دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان میثاق جمہوریت کے بعد اس میں کافی حد تک کمی آئی تھی۔ گزشتہ چند مہینوں میں اپوزیشن اتحاد کے جلسوں میں مریم نواز نے اپنی تقریر میں بلاول کو اپنا بھائی قرار دیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اور بلاول سیاسی میدان میں تو ایک دوسرے کا مقابلہ کریں گے لیکن کبھی ایک دوسرے کے ساتھ ذاتیات پر اتر کر لڑائی نہیں کریں گے۔
ملکی سیاست میں اس وقت ایک خوشگوار تبدیلی دیکھی گئی جب دونوں جماعتوں کی نئی قیادت بلاول اور مریم کے درمیان انڈرسٹینڈنگ اور باہمی تعاون بڑھا۔ دونوں سیاسی خاندانوں کے درمیان میل جول اور روابط اس قدر بڑھے کہ گذشتہ برس بے نظیر بھٹو کی برسی پر مریم نواز گڑھی خدا بخش میں بلاول کی ذاتی مہمان بنیں اور جلسے میں شریک ہوئیں۔
پی ڈی ایم اتحاد کے تحت ہونے والے مشترکہ جلسوں میں عہد و پیمان کیے گئے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی اب ماضی کی سیاست نہیں کریں گی۔ دونوں جماعتوں نے سیاسی اختلافات کو ذاتی لڑائیاں نہ بنانے کا اعلان کیا اور حکومت مخالف تحریک چلانے کے لیے میدان میں اتر گئیں۔ سینیٹ الیکشن میں اسلام آباد کی نشست پر کامیابی اور چیئرمین سینیٹ کی نشست پر ناکامی کے باوجود دونوں جماعتوں نے باہمی اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ لیکن معاملات خراب ہوئے جب 16 مارچ کو پی ٹی ایم کے سربراہی اجلاس میں نواز لیگ اور مولانا نے پیپلز پارٹی پر اسمبلیوں سے استعفے دینے کے لیے دباؤ ڈالا اور استعفوں کو لانگ مارچ کے ساتھ مشروط کر دیا۔ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ وہ لانگ مارچ کے لیے تو تیار ہیں لیکن اسے معاملے کو استعفوں کے ساتھ نتھی نہ کیا جائے۔ تاہم جب ان پر دباؤ بڑھا تو انہوں نے یہ بیان داغ دیا کہ وہ استعفے دینے کو تیار ہیں لیکن نواز شریف وطن واپس آئیں تاکہ ہم ان کو اپنے استعفے تھما سکیں۔ جب الیکٹرونک میڈیا پر زرداری کا نواز شریف کی واپسی سے متعلق بیان چلنا شروع ہوا تو جواب میں مریم نواز کا جواب بھی چلنے لگا اور معاملات کشیدہ تر ہوگئے۔ بتایا جاتا ہے کہ اجلاس میں آصف زرداری نے مریم نواز کے گلہ کرنے پر ان سے معذرت بھی کی اور بتایا کہ وہ انہیں اپنی بیٹیوں کی طرح سمجھتے ہیں۔ اجلاس ختم ہونے کے بعد مولانا نے ایک مختصر پریس کانفرنس کی اور لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔
بعد ازاں مریم نواز کی ایک ٹویٹ نے ہلچل مچا دی جس میں انہوں نے لکھا کے سلیکٹرز اب سلیکٹڈ کا سافٹ متبادل لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ مریم نواز کا واضح اشارہ بلاول بھٹو کی جانب تھا چنانچہ اس بیان پر سخت ترین ردعمل دیتے ہوئے بلاول نے یہ کہہ دیا کہ ان کی رگوں میں سیلیکٹ ہونے والا خون نہیں ہے اور لاہور کا ایک خاندان یہ کام کرتا ہے۔ مریم اور بلاول دونوں کے ان بیانات نے اپنے قول و قرار کو بھلا دیا اور ماضی کی تلخی کی سیاست کے رویے ایک بار پھر سامنے آنے لگے۔ تاہم اب پی ڈج ایم کی دونوں بڑی جماعتوں کے مابین معاملات بہتر کرنے کے لئے مصالحانہ کوششوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں کے تعلقات اتنی جلدی خراب ہو جائیں گے اس کی توقع نہیں کی جا رہی تھی خصوصا جب کہ اختلاف کی حکومت مخالف تحریک کا ابھی کوئی نتیجہ بھی نہیں نکل پایا ہے۔ ان کے خیال میں اصل مسئلہ دونوں کے سیاسی مفادات کا ٹکراؤ ہے چونکہ دونوں جماعتیں ماضی میں تین تین مرتبہ حکومت کر چکی ہیں اور مستقبل میں بھی ان کا مقابلہ آپس میں ہی ہونا ہے۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنی سیاسی پوزیشن بھی مضبوط بنانا چاہتی ہے اور وہاں بھی اس کا مقابلہ نواز لیگ سے ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری اس وقت دو محاذوں پر لڑنا چاہتے ہیں۔ ایک تو وہ حکومتی پالیسیوں اور تحریک انصاف کی کمزوری سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی پنجاب میں اپنی جماعت کے لیے جگہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔‘
لیکن تجزیہ کار اور صحافی مظہر عباس دونوں جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والی تلخی کو ایک اور نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ’آصف علی زرداری کی بات کا بنیادی مقصد ن لیگ اور جے یو آئی کو پیغام دینا تھا کہ پی ڈی ایم کے فیصلے پیپلز پارٹی سے بالا بالا نہیں ہوں گے بلکہ تمام فیصلے مل کر اور مشترکہ ہوں گے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’آصف زرداری کی زبان ذرا سخت ہو گئی جس کی وجہ سے صورت حال خراب ہوئی ہے۔ اس کا ثر دونوں جماعتوں کے کارکنوں پر بھی ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی کا استعفوں سے متعلق واضح موقف ہے اور ن لیگ سمیت باقی جماعتیں اس موقف کو ایک حد تک تسلیم بھی کر چکی ہیں۔ موجودہ تنازع چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کی وجہ سے ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس کا بھی جلد حل نکل آئے گا چونکہ اگر اپوزیشن اتحاد پیپلزپارٹی کو فارغ کر دے تو اس کا نقصان ہے اور اگر پیپلزپارٹی پی ڈی ام کو چھوڑ دے تو اس کا بھی نقصان ہے۔ چنانچہ اب دیکھنا یہ ہے کہ مصالحت کار دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کو دوبارہ ایک پیج پر لانے اور اتحاد کو بچانے میں کامیاب ہو پاتے ہیں یا نہیں۔
