کیا اپوزیشن اتحاد کو حکمت سے چلنا چاہیے یا جذبات سے؟


تحریک انصاف حکومت کی جانب سے مسلسل اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کی کپتان مخالف تحریک کو یہ کہہ کر ناکام قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ اسمبلیوں سے استعفے دینے کے اعلان سے راہ فرار اختیار کر چکا ہے اور اسکے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت پر بھی مسلسل یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ پی ڈی ایم کے جلالی بیانیے سے منحرف ہو رہی ہے۔ تاہم سینئر صحافی اور تجزیہ کار عمار مسعود اس تھیسس سے اتفاق نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ انکا اصرار ہے کہ پی ڈی ایم کی سب جماعتیں اپنے ایجندے اور جمہوریت کے فلسفے پر استقلال سے کھڑی ہیں۔ یہ اور بات کہ اپوزیشن میں باہمی اختلافات کے تائثر کو ہوا دی جا رہی یے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ ایک طرف آصف زرداری کی حکمت عملی ہے اور دوسری جانب نواز شریف اور مولانا کا بیانیہ ہے، لہذا اپوزیشن کی قیادت اس کے درمیان کی راہ تلاش کر رہی ہے۔ انخے خیال میں اگر زرداری صاحب کی بات مانی گئی تو سینیٹ کے الیکشن کے نتائج پی ڈی ایم کی توقعات کے مطابق نکلیں گے اور انکی اگر بات نہ مانی گئی تو حکومت کے خلاف لانگ مارچ کرنے کا آپشن تو بہرحال موجود ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ سینیٹ الیکشن میں کیا وہ وعدے پورے ہوں گے جو کیے گئے تھے۔ اس کا فیصلہ ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔
عمار مسعود کا کہنا یے کہ بہت سی باتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں وقت سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے، بس اتنا یاد رکھیے کہ سینیٹ کے ان انتخابات سے ایک سمت کا تعین ہونا ہے۔ اس کے آثار اگرچہ ابھی سے واضح ہیں مگر اٹل فیصلے ہونا ابھی باقی ہے۔واقعات اس بات کا ثبوت پیش کر رہے ہیں کہ ’پالیسی‘ میں جلد واضح تبدیلی ہو گی، لیکن پھر بھی اس کے شواہد آنے تک اس کے بارے میں تشکیک کا رویہ اپنانا دانش مندی ہےاس لیے کہ ایسے اقدامات اتنے سہل نہیں ہیں جتنا ہم تصور کر لیتے ہیں۔ مختصر الفاظ میں بین السطور یہی کہا جا سکتا ہے کہ بساط الٹ دینے کا آپشن اس دفعہ تاریخ میں پہلی بار پی ڈی ایم اپوزیشن اتحاد کو بھی میسر ہے۔
عمار مسود کا کہنا یے کہ عمران خان کی ناکام حکومت کو فوری گھر جاتا دیکھنے کے خواہش مند لوگوں کی پی ڈی ایم سے توقعات کسی حد تک غیر حقیقی ہوتی جا رہی ہیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان نے آج اگر ایک جلالی خطاب فرمایا ہے تو کل وہ اسلام آباد پر اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ چڑھائی کر دیں، ھکومت سے تنگ لوگ چاہتے ہیں کہ نواز شریف نے جو فوجی قیادت مخالف تقریر گوجرانوالہ میں کی، اب وہ ہر روز اسی تقریر کا ورد کریں، لوگ چاہتے ہیں کہ مریم نواز نے آج ایک دھواں دار ٹویٹ کی ہے تو ہر روز وہ ٹوئٹر پر اسی قسم کی مشقِ ستم کریں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ اگر بلاول بھٹو نے آج ووٹ کی عزت کے حوالے سے تاریخ کا جو ستم دکھایا ہے وہ ہر روز اسی قسم کے شعلہ آفریں خطابات سے قوم کو نوازیں۔ عمار مسعود کہتے ہیں کہ یہ توقعات تو ہو سکتی ہیں، خواب تو ہو سکتے ہیں، امیدیں تو ہو سکتی ہیں مگر حقیقت نہیں ہو سکتی۔ انکا کہنا یے کہ حقیقت اس سے کہیں کٹھن اور دشوار گزار ہوتی ہے۔ اس منزل تک پہنچے کے لیے کئی دشوار گزار گھاٹیاں طے کرنا پڑتی ہیں، کئی دریا عبور کرنے پڑتے ہیں، کئی چوٹیاں سر کرنا پڑتی ہیں، کئی لق دق صحراؤں کی خاک چھاننی پڑتی ہے۔‘
ایک ایسا ملک جہاں سیاست اور حکومت پر غیر جمہوری تسلط کی روایت بہت پرانی نہیں، ایک ایسا ملک جہاں میڈیا پر قدغنوں کی روش بہت پرانی نہیں، ایک ایسا ملک جہاں سیاستدانوں پر تہمتیں لگنے کی ریت بہت پرانی نہیں، وہاں ایک نئی سوچ پیدا کرنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ سچ پوچھیے تو اب اس ملک کے سیاستدانوں سے کوئی گلہ نہیں ہے۔ عمار مسعود خے مطابق بھٹو سے لے کر نواز شریف تک ہمیں اب کسی بھی سیاستدان کی جمہوریت پسندی سے کوئی شکوہ نہیں ہے۔ مجیب سے لے کر مفتی محمود تک ہمیں کسی سے کوئی اختلاف نہیں، باچا خان سے لے کر اکبر بگٹی تک بھی کسی سے کوئی گلہ نہیں ہے۔ ان لوگوں نے جو کام کرنا تھا برملا کیا، جو کہنا تھا سرعام کہا، جو سہنا تھا سوئے دار تک سہا۔ ہمیں ان کی حب الوطنی پر نہ کوئی شک ہے نہ کوئی ان کے بیانیے میں شبہ ہے، ان کی بہادری پر نہ کوئی الزام ہے، نہ ان کی دلیری پر کوئی انگلی اٹھا سکتا ہے، ان کی سچائی پر نہ کوئی اعتراض ہے نہ ان کی حق گوئی میں کوئی کلام ہے۔ یہ سب اپنی بساط سے بڑھ کر عوام کے ساتھ رہے، قربانیاں دیں اور جمہوریت کی خاطر لڑتے رہے۔
تو پھر سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس ملک میں منظر کیوں نہیں بدلا، ہماری تقدیر کیوں نہیں بدلی، ہماری سوچ کیوں قید رہی، ہم غلامی سے باہر کیوں نہیں نکلے؟ ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمار مسعود کہتے ہیں کہ جبر کے اس شجرے کو پڑھیں تو آپ کو پی ڈی ایم کی حکمت عملی میں خوف نہیں دانش نظر آئے گی۔ آپ قائل ہو جائیں گے کہ سیاست کسی شطرنج کی بساط کی طرح ہوتی ہے، کسی بھی بادشاہ کو مات دینے سے پہلے اسکے پیادوں سے جنگ لڑنا پڑتی ہے۔ ’شہہ‘ کہنے سے پہلے وزیر کو شکست دینا پڑتی ہے۔ بادشاہ کے گرد گھیرا تنگ کرنے سے پہلے کئی چالیں چلنی پڑتی ہیں، کئی رخ بدلنے پڑتے ہیں، کئی گھوڑے دوڑانے پڑتے ہیں، مخالف کھلاڑی کے چال چلنے پہلے اس کی چال کے مطابق چال چلنی پڑتی ہے، آخری چال سے پہلے توقف کرنا پڑتا ہے، اگلے مہرے کی حرکت کو سمجھنا پڑتا ہے،تُرپ چال کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ عمار کے مطابق یہی دانش آپ کو پی ڈی ایم کی حکمت عملی میں نظر آتی ہے۔ لیکن لوگ جلد باز ہوتے ہیں، عجلت کا شکار ہوتے ہیں، وہ لمحوں میں تاریخ کا فیصلہ بدلنا چاہتے ہیں۔ ایسا میدانِ کارزار میں تو ہو سکتا ہے ہمارے ہاں کی سیاست اس سے مختلف کھیل ہے۔ یہاں مات سے پہلے بساط الٹنے کا خدشہ درپیش ہوتا ہے۔
سچ پوچھیے توسینیٹ کا الیکشن اتنا بڑا مرحلہ نہیں ہے جتنا اس کا غوغا ہو چکا ہے، نہ ہی اس الیکشن سے بہت کچھ بدل جائے گا۔ لیکن اس الیکشن کی اہمیت اس لیے ہے کہ اس سے ایک سمت کا تعین ہوگا، اس سے پتہ چلے گا کہ پی ڈی ایم کو کون سا بیانیہ اختیار کرنا ہے، کون سی راہ چننی ہے، احتجاج کو کس نہج پر پہنچانا ہے، کون سی جنگ لڑنی ہے، کس منزل کی طرف بڑھنا ہے، کون سے وعدے پورے ہوں گے اور کون سے عہد فراموش کیے جائیں گے، کون ساتھ رکھے جائیں گے اور کن کو بھلا دیا جائے گا۔ لیکن امید رکھیے کہ آخری فتح انشاءاللہ عوام کی ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button