کیا اپوزیشن جماعتیں سیاسی منظرنامے پر کوئی تبدیلی لا سکتی ہیں؟

پاکستان کے وجود میں آنے سے اب تک کمزور جمہوری قوتوں اور طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان سیاسی کشمکش جاری ہے لیکن موجودہ صورتحال میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اکٹھا ہونے کی کوششوں کے باوجود ابھی اسٹیبلشمنٹ کا پلا ہی بھاری دکھائی دیتا ہے۔
عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اسٹیبلشمنٹ اور حکومتی گٹھ جوڑ کے نتیجے میں احتساب کا ڈنڈا اس تیزی سے گھمایا گیا ہے کہ ایک سابق وزیراعظم سزا یافتہ ہو کر ملک اور ملکی سیاست سے باہر ہو چکا ہے جبکہ ایک سابق صدر احتساب کے نام پر عدالتی پیشیاں بھگت بھگت کر گوشہ نشین ہو چکا ہے۔ تاہم نوازشریف اور آصف زرداری دونوں کا پیچھا جاری ہے۔ ان حالات میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی دوسرے درجے کی قیادت نے اپوزیسن کی سیاسی جماعتوں کو ایک متحدہ پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی کوشش کا آغاز کیا ہے اور اس سلسلے میں ایک آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیس ہے۔ یعنی سیاسی جماعتیں پھر سے ایک پیج پر آنے کی حکمت عملی بنارہی ہیں۔ یہ کوشش کتنی کامیاب ہوتی ہے اس کا پتا تو بعدمیں چلے گا لیکن موجودہ صورتحال کی طرح ماضی میں بھی سیاسی جماعتوں کے اتحاد براہ راست آمریت یا غیر جمہوری قوتوں کی حمایت یافتہ حکومتوں کے خلاف اکٹھے ہوتے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ہر دور میں سیاسی جماعتوں نے آمریت یا اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کو کم کرنے کے لیے متحدہ کاوشیں کیں تاہم ابھی تک یہ سیاسی کھیل جاری ہے اور معلوم نہیں کب تک جاری رہےگا۔ لگتا یوں ہے جب تک مکمل اور مضبوط غیر جانبدار جمہوری نظام قائم نہیں ہوتا اس طرح کی جدوجہد جاری رہے گی۔ آل پارٹیز کانفرنس کی اصطلاح بھی پاکستانی سیاسی تاریخ کے ساتھ ہی چلتی آرہی ہے۔اگر سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہر دور حکومت میں اپوزیشن جماعتوں کی اتحاد کی کوششیں ہوتی رہیں۔کئی بار یہ اتحاد سیاسی مصلحتوں کی نظر بھی ہوتے رہے اور بعض اتحاد کامیاب بھی رہے۔
پاکستانی سیاست میں آل پارٹیز کانفرنس سمیت دیگر اپوزیشن اتحاد اقتدار لینے والے آمروں یا اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ سیاسی حکومتوں کے خلاف بنتے رہے جیسا کہ اب بھی کوشش جاری ہے۔ اب تک کی صورتحال کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتاہےکہ سیاسی جماعتیں جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کوشاں رہیں۔ سب سے پہلا اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد فاطمہ جناح نے جنرل ایوب کے خلاف بنایا۔اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار میں آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نےپاکستان قومی اتحاد بنایا۔ جس کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے والد مولانا مفتی محمود تھے۔ اس کے بعد جنرل ضیاالحق نے جب مارشل لالگایاتو ان کے خلاف بھی پیپلز پارٹی کو ساتھ ملا کر نوابزادہ نصراللہ کی سربراہی میں موومنٹ فار ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی یا ایم آر ڈی بنائی گئی۔جس کا مقصد ملک میں جمہوریت کی بحالی تھا۔
جنرل ضیا الحق کی طیارہ حادثے میں عبرتناک موت کے بعد اسی تحریک کے نتیجے میں 1988 میں پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی۔ جب 1999میں نواز شریف حکومت ختم کر کے مشرف نے مارشل لا لگایاتو نوابزادہ نصراللہ کی سربراہی میں ایک بار پھر حزب اختلاف کی جماعتوں نے اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے نام سے اتحاد کیا جس میں بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف بھی شامل تھے۔ اس پلیٹ فارم سے بھی کئی آل پارٹیز کانفرنسز ہوئیں جن کا ایجنڈا بحالی جمہوریت اور اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کو روکناتھا۔
خیال رہے کہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں میثاق جمہوریت کا معاہدہ بھی طے پایاتھا جس میں اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار میں کمی اور جمہوریت کی مضبوطی جیسی شرائط رکھی گئی تھیں ۔ جب جنرل پرویز مشرف کے خلاف وکلا تحریک چلی تو اس وقت کی تمام اپوزیشن جماعتوں بشمول پی ٹی آئی نے اس میں بھر پور حصہ لیاتھا جس کے بعد سابق صدر پرویز مشرف کو عہدے سے مستعفی ہوناپڑاتھا۔ امتیاز عالم کے مطابق اب بھی اگرچہ وزیر اعظم عمران خان ہیں جو سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں اور انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آئے ہیں لیکن اب اپوزیشن جماعتیں حکومت اسٹیبلشمنٹ اتحاد اور ان کےسیاسی کردارپر متحد ہورہی ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں عمران اور اسٹیبلشمنٹ گٹھ جوڑ کے نتیجے میں۔اس مرتبہ اپوزیشن کے اتحاد بھی زیادہ موثر دکھائی نہیں دے رہے۔ پاکستان کے سیاسی پس منظر میں جھانکیں تو متعدد بار قومی ایشوز پر وقت کی حکومتوں کو بھی آل پارٹیز کانفرنسز کی ضرورت پڑی۔سب سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو کو اپنی حکومت کے خلاف چلنے والی ایم آر ڈی کی تحریک میں شامل جماعتوں کی کانفرنس بلانا پڑی جس میں وہ خود بھی شریک ہوئے۔ اس موقعے پر انہوں نے اقتدار بچانے کے لیے حزب اختلاف کی جماعتوں کے مطالبات بھی تسلیم کیے تھے۔ اسی طرح جنرل ضیا الحق کے دور حکومت میں اس وقت کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اے پی سی بلائی تھی جس میں افغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی سے متعلق جنیوامعاہدے پر اعتماد میں لیاگیاتھا۔ اس وقت یہ معاہدہ جنرل ضیا الحق کی مرضی کے خلاف تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے مئی 1988میں وزیر اعظم جونیجو کی حکومت ختم کر دی تھی۔سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو بھی اقتداربچانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں سے این آر او کرنا پڑا تھا جس کی باز گشت آج بھی سنائی دے رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بے شک سیاسی طور پر اپوزیشن کہ جماعتوں کے اتحاد میں کافی طاقت ہوتی ہے لیکن حزب اختلاف کی جماعتیں کئی بار سیاسی مصلحتوں کا شکار ہونے کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ ماضی میں بھی اپوزیشن جماعتیں نمائشی طور پر اے پی سیز بلاتی ہیں لیکن میڈیا پر بیانات کے علاوہ ان کے خاطر خواہ نتائج نہیں نکلتے۔ میڈیا پر آکر مشترکہ اعلامیے جاری کرنا اور عملی طور پر سیاسی کردار دو الگ باتیں ہیں۔ موجودہ صورتحال میں بھی اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد اور اے پی سی اس لیے موثر نہیں ہے کہ ہر جماعت کے اپنے سیاسی مقاصد اور مفادات ہوتے ہیں۔ موجودہ حالات میں مسلم لیگ ن کے سیاسی مقاصد اور ہیں پیپلز پارٹی کے کچھ اور مولانا فضل رحمن کے بالکل ہی اور۔ اس لیے خیال یہی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی پہلے کی طرح اس بار بھی زیادہ نتیجہ خیز اور موثر ثابت نہیں ہو پائے گی۔ لیکن یہ بھی ایک سچ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں چند ماہ تک کی ہی پشین گوئی کی جا سکتی ہے لیکن لمبے عرصے کے لیے کوئی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ پاکستان کی کنٹرولڈ سیاست میں صورتحال تبدیل کرنا ہو تو صرف چند ہی ہفتے کافی ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button