کیا ایران اسرائیل جنگ پاکستان کے بارڈر تک پہنچنے والی ہے؟

ایران کی جانب سے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کا ایران کو جواب دینا ضروری ہو چکا ہے گر ایران اپنے سفارت خانے پر حملے کا جواب دینے میں دس دن لے سکتا ہے تو تو اسرائیل بھی کچھ دن لے سکتا ہے۔ لیکن جواب ضرور دے گا اگر اسرائیل بھی جواب میں تین سو میزائل ہی مارتا ہے تو ایران کے پاس ان تین سو میزائل کو روکنے کے استطاعت نہیں ہوگی۔ ایران کے لیے کوئی پانچ ممالک بھی ان کو نہیں روکیں گے۔ تب کیا ہوگا ؟ایسے میں سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا اسرائیل کو مغرب بالخصوص امریکا کی جانب سے یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ ایران پر لڑائی مسلط کر دو، ہم تمھارا دفاع کریں گے۔اگر ایسا ہے تو جنگ پاکستان کے بارڈر پر پہنچ جاۓ گی۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی مزمل سہروردی نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے. وہ لکھتے ہیں کہ ایران نے اسرائیل پر تقریباً تین سو میزائل داغ دیے۔۔ ایران نے یہ میزائل حملہ اسرائیل کی جانب سے شام میں ایرانی سفارتخانہ پر حملہ کے جواب میں کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل پر تین سو میزائل فائر کرنے پر ایران اسرائیل کے خلاف جنگ کا یہ پہلا مرحلہ جیت گیا ہے۔ اگرچہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب اسرائیل پر مزید حملہ نہیں کرے گا اور اس کی طرف سے بات ختم ہے۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا اسرائیل کی طرف سے بات ختم ہے۔اب دیکھنا تکیا اسرائیل خاموش رہتا ہے یا وہ بات کو بڑھاتا ہے۔ ایران نے جو تین سو میزائل مارے وہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے لیے کوئی سرپرائز نہیں تھے۔ وہ اس حملے کے لیے مکمل تیار تھے۔ اب تو ایران بھی مان رہا ہے کہ اس نے اس حملے سے پہلے امریکا سمیت بہت سے ممالک کو اعتماد میں لیا۔ انھیں بتایا کہ ہم اسرائیل پر میزائل مارنے لگے ہیں۔ اسی لیے دنیا کو معلوم تھا کہ ایران کب اور کتنے میزائل مارے گا۔ دوسری طرف بھی تیاری مکمل تھی۔ کہا جا رہا ہے کہ نناوے فیصد میزائل راستے میں تباہ کر دیے گئے . مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ پانچ ممالک امریکا، برطانیہ، فرانس، اردن اور اسرائیل کی فضائیہ نے ملکر ان ان میزائلوں کو راستے میں تباہ کر دیا ہے۔ لیکن یہ بھی دیکھیں کہ پانچ ممالک کو اس حملے کی شدت کا بخوبی اندازہ تھا اور وہ فضا میں اس کو روکنے کے لیے تیار تھے۔ کیا یہ سوال اہم نہیں کہ ایک طرف تو ایران اسرائیل پر میزائل مارنا چاہتا تھا دوسری طرف اس کی یہ بھی کوشش تھی کہ معاملہ زیادہ بڑھ نہ جائے۔۔ لیکن پھر یہ سوال بھی اہم ہے کہ ایک دو میزائل بھی مارے جا سکتے تھے۔ تین سو مارنے کی کیا ضرورت تھی۔ کیا ایران کو اندازہ تھا کہ ان کو روکا جائے گا اور اس کی کوشش تھی کہ کچھ تو اسرائیل پہنچیں گے۔دونوں طرف کے دلائل مضبوط ہیں۔ بہرحال ایک طرف ایران نے حملہ کیا ہے دوسری طرف یہ سفارتکاری سے کوشش بھی کی ہے کہ معاملہ ایک حد سے زیادہ نہ بڑھ جائے۔ اسی لیے اس حملے کے فوری بعد سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایران کے خلاف کوئی قرارداد پاس نہیں ہو سکی ہے۔ یہ اجلاس اسرائیل کی درخواست پر بلایا گیا تھا۔ ایران کی کامیاب سفارتکاری کی وجہ سے سلامتی کونسل میں ایسا ماحول نظر نہیں آیا کہ فوری قرارداد منظور ہو جائے۔ لیکن یہ بھی اہم ہے کہ ایران کے حملہ کے بعد اسرائیل کے حامی ممالک کی جانب سے تو ایران کی بھر پور مذمت کی گئی ہے لیکن اسلامی ممالک نے بہت محتاط زبان استعمال کی ہے۔ مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ امریکا اور مغربی ممالک نے ایک اور دلچسپ موقف لیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو مغربی ممالک امریکا سمیت اس حملہ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ لیکن اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل کا دفاع ضرور کیا جائے گا۔ دیکھا جائے تو اسرائیل کو ایران پر حملہ کرنے کے لیے کسی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے صرف اپنے دفاع میں مدد کی ضرورت ہے جو موجود ہو گی۔ جبکہ ایران کے پاس ابھی ایسے کوئی اتحادی نہیں ہیں جو اس کے دفاع کے لیے اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔ اگر دیکھا جائے تو غزہ میں اسرائیل نے جو فتوحات حاصل کی تھیں ایران کے حملے نے اسرائیل کے اندر اس کا اثرضایع کر دیا ہوگا۔ اسرائیلی حکومت کی فتح ختم ہو گئی ہوگی۔ اس لیے اسرائیل کا ایران کو جواب دینا ضروری ہوگا. مزمل سہروردی کے مطابق اب عالمی سطح پر پوچھا جا رہا ہے کہ کیا فلسطین کے بعد اب ایران کی باری ہے۔ کیا عراق اور لیبیا کی طرح ایران کے ساتھ جنگ کا بھی فیصلہ ہو گیا ہے اور اس کے لیے ماحول بنایا جا رہا ہے۔ یہ ساری صو رتحال اگلے چند دن میں واضح ہو جائے گی۔ اگر واقعی ایران سے جنگ کا فیصلہ ہوگیا ہے تو پھر ایران نے فلسطین جنگ میں خاموش رہ کر غلطی ہی کی۔ انھیں اندازہ ہونا چاہیے تھا کہ اگلی باری ان کی ہے
