کیا بریگیڈیئر اعجاز شاہ کو اسٹیبلشمینٹ نے خود واپس لیا ہے؟


بریگیڈیٹر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کی جگہ شیخ رشید احمد کے وزیرداخلہ بنائے جانے کا بنیادی مقصد اپوزیشن اتحاد کی حکومت مخالف تحریک اور ممکنہ لانگ مارچ سے نبٹنا تو ہے ہی لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا وفاقی کابینہ میں موجود فوجی اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے اعجاز شاہ سے یہ اہم وزارت عمران خان نے واپس لی ہے یا کہ اسٹیبلشمینٹ نے خود یہ فیصلہ کیا یے تاکہ حکومت اور اپوزیشن کے تنازعے میں وہ فریق نہ بنے اور خود کو نیوٹرل ثابت کر سکے۔
کچھ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بریگیڈیئر اعجاز شاہ کی وزارت داخلہ میں حکومت مخالف تحریک کے دوران پولیس ایکشن میں کوئی اپوزیشن سائڈ کا کوئی جانی نقصان ہو جاتا تو اسمیں اسٹیبلشمینٹ پر ذمہ داریاں جانی تھی اس لیے بہتر یہی سمجھا گیا کہ اپوزیشن کی تحریک میں شدت آنے اور لانگ مارچ شروع ہونے سے پہلے ہی اعجاز شاہ کو کوئی اور عہدہ دے دیا جائے۔ اس تبدیلی سے ساتھ ہی یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ شیخ رشید اگر اپوزیشن کو قابو نہ کر پائے اور کوئی بڑا حادثہ ہو گیا تو ذمہ داری کا طوق اب کپتان کی سویلین حکومت کے گلے میں ہی پڑے گا۔
11 دسمبر 2020 کے روز حیران کن طور پر وفاقی کابینہ میں تین اہم تبدیلیاں کی گئیں۔ اہم ترین تبدیلی اعجاز شاہ کی جگہ وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید احمد کو وزارت داخلہ کا قلمدان سونپا جانا ہے۔ اعجاز شاہ اب انسدادِ منشیات کی وزارت چلائیں گے جبکہ شیخ رشید کی جگہ اعظم خان سواتی ریلوے کی وزارت کے معاملات دیکھیں گے۔ وزارت داخلہ 2018 سے ہی بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کے پاس تھی جو کہ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے دست راست رہے ہیں اور ماضی میں انٹیلی جنس بیورو اور آئی ایس آئی میں اہم عہدوں پر کام کرچکے ہیں۔ انہیں وفاقی کابینہ میں بطور وزیر داخلہ اسٹیبلشمینٹ کی پراکسی تصور کیا جاتا تھا۔ اگرچہ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اعجاز شاہ صحت کے مسائل کی وجہ سے وزارت کو زیادہ وقت نہیں دے پا رہے تھے تاہم یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ان کی جگہ شیخ رشید احمد کو کو لانے کا اصل مقصد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے حکومت کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کو کاونٹی کرنا ہے۔ کپتان کا خیال ہے کہ شیخ رشید احمد سینیئر سیاستدان ہیں، گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہوا ہے، اسٹیبلشمنٹ کے بھی لاڈلے ہیں اس لیے آگے پیدا ہونے والی مشکل صورت حال کو کامیابی سے ہینڈل کر لیں گے۔ ممکنہ طور پر شیخ رشید نے وزیراعظم عمران خان کو خود قائل کیا ہے کہ وہ پی ڈی ایم کی تحریک میں دراڑ ڈال کر اسے آسانی سے ٹھُس کرسکتے ہیں اسی لئے اعجاز شاہ کو ہٹا کر شیخ کو یہ بڑا ٹاسک دے کر میدان میں اتارا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وزارت داخلہ کے لیے دو ناموں پر غور ہو رہا تھا لیکن شیخ رشید کو فواد چوہدری پر ترجیح دی گئی۔
دوسری جانب یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کی جگہ شیخ رشید احمد کا تقرر بلاشبہ اسٹیبلشمنٹ کی مرضی سے عمل میں آیا ہے تاہم ایسا کرکے اسٹیبلشمنٹ نے وزیراعظم عمران خان پر یہ واضح کردیا ہے کہ اب وہ ان کی حکومت بچانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ کسی قسم کا مفاہمتی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے اور مستقبل میں پیش آنے والے تمام تر واقعات کی ذمہ داری بھی سویلین حکومت پر ہی عائد ہوگی۔ بتایا جاتا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی جانب سے جلسوں، لانگ مارچ اور اجتماعی استعفوں کے اعلان کے بعد وزیراعظم نے اسٹیبلشمینٹ سے فرمائش کی تھی کہ وہ اپوزیشن کو ایسا کرنے سے سے روکیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے وزیراعظم کو بتایا کہ آپ فوج کے سیاسی کردار کے حوالے سے واضح اعلان کر چکے ہیں لہذا اب اپوزیشن کے ساتھ وہ خود انگیج ہوں اور اس مسئلے کو جیسے چاہیں حل کریں۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اعجاز شاہ کی وزارت داخلہ سے فراغت کا واضح مطلب یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے فوج سے غیر جانبدار ہونے کا جو مطالبہ کیا جارہا تھا اسے تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اگر اپوزیشن کی تحریک کے نتیجے میں کوئی خون خرابہ ہوا تو فوج اس سے بری الذمہ ہو گی اور تمام تر ذمہ داری وزیراعظم اور انکی سویلین گورنمنٹ پر عائد ہوگی۔ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کا فوجی پس منظر تو سب پر واضح ہے لیکن یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ شیخ رشید بھی فوج کے غیر سرکاری ترجمان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بلکہ کئی مرتبہ شیخ رشید خود بھی اپنے آپ کو فوج کا ترجمان قرار دے چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شیخ رشید احمد کو وزارت داخلہ کا قلمدان سونپے جانے کی ایک اور وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ پی ڈی ایم کی کی ایجی ٹینشن کے دوران اگر مذاکرات کی ضرورت پیش آجائے تو شیخ رشید احمد سے وہی کام لیا جائے جو مسلم لیگ نون نے 2014 میں تحریک انصاف کے دھرنے کے دوران اپنے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے لینا چاہتی تھی۔ ماہرین کے نزدیک بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کی جگہ شیخ رشید احمد کو لانے سے یہ تاثر بھی پیدا نہیں ہوگا کہ وزیراعظم عمران خان نے فوج کے بندے کو نکال دیا ہے کیونکہ یہ ایک اوپن سیکرٹ ہے کہ شیخ رشید احمد بھی جی ایچ کیو کی پیداوار ہیں۔ کئی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ 2014 میں چوہدری نثار علی خان تحریک انصاف کے دھرنے کے دوران پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملہ روکنے میں ناکام رہے تھے۔ اس لیے شیخ رشید پر اس حوالے سے بڑی ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ چوہدری نثار کی ناکامی سے سبق سیکھتے ہوئے کوئی کرشمہ کر دکھائیں جس سے اپوزیشن کی تحریک کسی خون خرابے کے بغیر ختم ہو جائے۔
یاد رہے کہ شیخ رشید احمد کی طرح چوہدری نثار علی خان کو بھی اسٹیبلشمینٹ کے کافی قریب سمجھا جاتا تھا اور جب عمران خان کی قیادت میں مظاہرین نے پارلیمنٹ کے جنگلوں کو گرانے کے علاوہ پی ٹی وی کی عمارت پر قبضہ کر لیا تھا تو یہ الزام لگایا گیا تھا کہ چوہدری نثار نے مظاہرین کو جان بوجھ کر ریڈ زون میں داخل ہونے کی اجازت دی تاکہ نواز شریف پر مزید دباو آئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شیخ رشید اسلام آباد پر لا نگ مارچ کی صورت میں مظاہرین کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے روک پائیں گے یا نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button