کیا بلاول ، تحریک انصاف کا نواز مخالف ووٹ حاصل کر پائیں گے؟

بلاول بھٹو زرداری نے اپنے آپ کو وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے طور پیش کر دیا ہے لیکن وہ یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ طاقت کے مرکز پنجاب میں اکثریت حاصل کئے بغیر کوئی جماعت وفاق میں حکومت نہیں بنا سکتی بلاول نے مسلم لیگ (ن) کو شکست دینے کیلئے پی ٹی آئی کے ووٹرز سے مدد مانگ لی ہے پی ٹی آئی کے ووٹرز مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو ایک ہی سکے کے دو رخ سمجھتے ہیں وہ پی ٹی آئی کی حکومت گرانے میں آصف علی زرداری کے کردار کو کس طرح فراموش کر سکتے ہیں لہٰذا پنجاب سے پی ٹی آئی کا ووٹر ان کی جماعت کو ووٹ نہیں دے گا۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی نواز طاہر نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس میں شک نہیں کہ پی ٹی آئی کو انتخابی نشان ’’بلا‘‘ نہ ملنے سے اس کی کمر ٹوٹ گئی ہے ہرحلقے میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کو مختلف انتخابی نشان ملنے سے ووٹر کنفیوژ ہے بینگن، بوتل جیسے انتخابی نشانات پی ٹی آئی کے امیدواروں کا مذاق اڑانے کا باعث بن گئے ہیں۔ نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز شریف خم ٹھونک کر میدان میں اتر آئے ہیں مسلم لیگی رہنما الگ الگ جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں تاہم نواز شریف اور مریم نواز اکھٹے جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں نواز شریف نے مریم نواز کی قیادت کو تسلیم کرانے کیلئے ان سے پہلے خطاب کرنا شروع کر دیا ہے یوں نواز شریف نے مریم نواز سے پہلے خطاب کر کے عوام کو یہ تاثر دیا ہے کہ اب اس جماعت کی قیادت مریم نواز کے پاس ہے۔ گویا انہوں نے اپنی زندگی میں ہی پارٹی قیادت ان کو سونپ دی ہے۔
نواز رضا کہتے ہیں کہ دوسری طرف پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ملک کے مختلف حصوں میں جلسے کر کے پیپلز پارٹی کے وجود کا احساس دلا رہے ہیں انکے ساتھ آصفہ زرداری بھی جلسوں سے خطاب کر رہی ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری لاہور سے انتخاب لڑ رہے ہیں انہوں پنجاب میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور وہ مسلسل نواز شریف کو اپنی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور شیر کو تیر سے شکار کرنے کے دعوے کر رہے ہیں، اس کے باوجود اعلیٰ مسلم لیگی قیادت نے بلاول بھٹو زرداری کو جواب نہ دے کر نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان لڑائی کی ایک وجہ یہ بھی ہے مسلم لیگ (ن) نے ملک بھرمیں ایم کیو ایم، استحکام پاکستان پارٹی، باپ، نیشنل پارٹی، مسلم لیگ (ق) اور جمعیت علما اسلام سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر کے 51حلقوں میں اپنا کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا لیکن پیپلز پارٹی سے ایک سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں کی۔
نواز رضا بتاتے ہیں کہ تحریک انصاف کے امیدواروں کی فہرست تو جاری ہو گئی ہے لیکن پورے ملک میں پی ٹی آئی کا پرچم خال خال ہی نظر آ رہا ہے بظاہر پی ٹی آئی نے عام انتخابات کا بائیکاٹ نہ کرنے کا اعلان کا رکھاہے، عملاً پی ٹی آئی میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے اس نےشاید شکست تسلیم کر لی ہے لیکن اڈیالہ جیل میں ’’سرکاری مہمان‘‘ شکست قبول کرنے پر تیار نہیں، انکی سوچ ہے کہ 8فروری کو نوجوان ووٹر پورے جوش و خروش باہر نکلے گا اور بساط الٹ دے گا ’’کپتان‘‘ کے مخالفین کو انکی اس سوچ کا بخوبی علم ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ عام اتخابات کے انعقاد میں چند روز رہ گئے ہیں پی ٹی آئی کی قیادت گھروں سے باہر نہیں نکل سکی اس پر انجانا خوف طاری ہے جس کی وجہ سے انتخابی ماحول نہیں بن پا رہا اڈیالہ جیل سے ’’کپتان‘‘ نے پی ٹی آئی کی قیادت کو جلسے کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، جمعیت علماء اسلام، ایم کیو ایم جلسے جلوس کے ذریعے انتخابی ماحول گرمانے کی کوشش کر ر ہی ہیں لیکن ان سب کا اصل مخالف کھلاڑی میدان میں نظر نہیں آ رہا لہٰذا وہ گہما گہمی نظر نہیں آرہی جو انتخابات کا طرہ امتیاز ہے، عمران خان چو مکھی لڑائی لڑتے لڑتے جیل چلےگئے، انکے بیشتر ساتھی جانیں بچانے کیلئے ڈوبتی کشتی سے چھلانگیں لگا چکے، اب پی ٹی آئی کی قیادت وکلاء کے پاس آ جانے سے وہ کہیں نظر نہیں آ رہی۔ پی ٹی آئی کو نوجوان نسل سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں اور سوشل میڈیا پر انحصار کر رہی ہے جب کہ دیگر جماعتیں ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔

Back to top button