کیا تحریک انصاف آزاد کشمیر میں حکومت بنا پائے گی؟

مریم نواز اور بلاول بھٹو کی جارحانہ الیکشن مہم نے تحریک انصاف کو کشمیر کے انتخابی معرکے میں شدید پریشانی سے دوچار کر رکھا ہے اور پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ اسلام آباد کی حکمران جماعت کو اپنے منفی تاثر کی وجہ سے کشمیر میں سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔
اگرچہ 1985 سے ابتک آزاد جموں و کشمیر میں وہی جماعت برسر اقتدار آئی ہے جس کی اسلام آباد میں حکومت ہو تاہم 25 جولائی کو ہونے جا رہے عام انتخابات میں بعض مبصرین صورت حال تبدیل ہونے کا امکان ظاہر کر رہے ہیں جس کی بڑی وجہ تحریک انصاف کا منفی امیج اور مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی جارحانہ سیاسی مہم ہے۔ مبصرین کے مطابق مرکز میں برسر اقتدار پاکستان تحریک انصاف کو ضرورت سے زیادہ محنت اس لئے کرنا پڑ رہی ہے کہ پاکستان میں ہونے ولے ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کو پے در پے شکستوں کے بعد اب کشمیر کے عوام بھی مختلف فیصلہ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مہنگائی، بیروزگاری اور مشکل معاشی صورت حال کا اثر بھی کشمیر کے انتخابات پر پڑا ہے۔ دوسری بڑی وجہ مریم نواز اور بلاول بھٹو کی جارحانہ سیاسی مہم ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام آزاد جموں و کشمیر میں 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے پاکستان کی دو بڑی اپوزیشن جماعتیں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی وفاق کی حکمراں جماعت تحریک انصاف کو شکست دینے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں اور کسی حد تک کپتان اینڈ کمپنی کو سیاسی زک پہنچانے میں کامیاب بھی نظر آتی ہیں۔ تاہم کشمیر کی پارلیمانی تاریخ میں یہ رجحان رہا ہے کہ پاکستان کی حکمران جماعت ہی کشمیر کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کی کشمیر میں شاخیں انتخابات میں حصہ تو لیتی ہیں لیکن وہ نتائج سے پہلے ہی آگاہ ہوتی ہیں۔ اب کی بار مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اپنے اپنے طور پر کشمیر میں اپ سیٹ کرنے اور تاریخ بدلنے کے لیے بھرپور عوامی مہم چلا رہی ہیں۔
خیال رہے کہ کشمیر کے گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ ن دو تہائی اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوئی تھی جبکہ اس وقت کی کشمیر کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کشمیر سے محض دو جبکہ مہاجرین کی صرف ایک نشست کراچی سے حاصل کر سکی تھی۔ تحریک انصاف نے مہاجرین کی لاہور اور مانسہرہ کی ایک ایک نشست جبکہ کشمیر سے ایک نشست کے ساتھ مجموعی طور پر تین نشستیں حاصل کی تھیں۔
رواں ماہ برپا ہونے جا رہے معرکے میں تحریک انصاف کی کامیابی کے لیے وفاقی وزراء بھی اگرچہ کشمیر میں موجود ہیں لیکن مقامی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کو ماضی کی حکمران جماعتوں کی نسبت خاصی مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ سینیئر کشمیری صحافی اور تجزیہ کار سردار عاشق حسین کے بقول کشمیر کا ایک کھرب 40 ارب روپے کا بجٹ پاکستان کی وفاقی حکومت دیتی ہے۔ اسی مالی کنٹرول کی وجہ سے کشمیر کے حکمران اور عوام اسلام آباد کی چمک کی طرف دیکھتے ہیں اور اسی چمک سے کشمیریوں کی رائے خریدی جاتی ہے۔ اب کی بار بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کو ضرورت سے زیادہ محنت کرنا پڑ رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں ہونے ولے ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کو پے در پے شکستوں کے بعد اب کشمیر کے عوام بھی مختلف فیصلہ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مہنگائی، بیروزگاری اور مشکل معاشی صورت حال کا اثر بھی کشمیر کے انتخابات پر پڑا ہے۔ سردار عاشق کے مطابق لگتا یہی ہے کہ کشمیر میں پاکستان تحریک انصاف وہ اکثریت جو ماضی میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو یا اس پہلے مسلم کانفرنس کو ملتی رہی ہے، حاصل نہیں کر سکے گی۔ سادہ اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کو پاکستان کی طرح کشمیر میں بھی اتحادی حکومت بنانا پڑے گی۔
کشمیر میں انتخابی سرگرمیوں، جوڑ توڑ اور مقامی سطح پر بدلتے حالات کو رپورٹ کرنے والے صحافی حارث قدیر کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چار رہنما اس وقت وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں ہیں۔ جن میں بیرسٹر سلطان محمود، سردار تنویر الیاس، چوہدری انوارالحق اور خواجہ فاروق شامل ہیں۔ ان دھڑے بندیوں کی وجہ سے تحریک انصاف کو سادہ اکثریت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔ تاہم مسلم کانفرنس اور دیگر جماعتوں کے ایک ایک دو دو کامیاب امیدواروں کو ساتھ ملا کر اتحادی حکومت بننے کا امکان ہے۔ ان کے مطابق ’تحریک انصاف نے ٹکٹوں کی تقسیم میں تاخیر، ٹکٹوں کی تقسیم میں پارٹی ورکرز کو نظر انداز کرنے اور الیکٹ ایبلز کو پارٹی میں شامل کرنے اور پارٹی کے اندرونی اختلافات کو ختم نہ کرنے جیسی کئی بڑی غلطیاں کی ہیں۔ جن کا نقصان انتخابات میں حکمران جماعت کو بھگتنا پڑا سکتا ہے۔
دوسری جانب کشمیری سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار ملک عبدالحکیم کشمیری سمجھتے ہیں کہ ’کشمیر کے انتخابات میں تحریک انصاف پہلے، پیپلز پارٹی دوسرے، مسلم لیگ ن اور مسلم کانفرنس میں تیسرے نمبر کا مقابلہ ہوگا۔عبدالحکیم کا ماننا ہے کہ تحریک انصاف مشکل سے ہی سہی لیکن سادہ اکثریت حاصل کر لے گی۔ 1985 سے اسلام آباد کی حکمراں جماعت کی جیت کی روایت بدلنا شاید اس بار بھی ممکن نہ ہو۔
