کیا تحریک انصاف عام انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی ہے؟

ملک بھر میں عام انتخابات کے انعقاد میں دو ہفتے سے بھی کم دن باقی ہیں جہاں ایک طرف تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی معرکہ سر کرنے کیلئے سر توڑ کوششیں جاری ہیں جبکہ دوسری طرف سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے انتخابات کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد کچھ حلقوں میں چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف بھی انتخابات کا بائیکاٹ کر رہی ہے۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف نے ان افواہوں کی سخت تردید کی ہے جن کے مطابق پارٹی انتخابات کا بائیکاٹ کرنا چاہتی ہے یا ارادہ رکھتی ہے۔ پارٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایسی خبروں کو فیک نیوز قرار دیا ہے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ زور و شور سے انتخابات کی تیاری کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنماؤںکا کہنا ہے کہ کسی بھی صورت میں بائیکاٹ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ چاہے ہم پر جتنا ہی جبر کیا جائے، جتنی بھی گرفتاریاں کی جائیں، جتنے ہی مقدمات بنائے جائیں ہم انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کریں گے بلکہ ہم اس کی بھرپور تیاری کریں گے اور اس سرگرمی میں حصہ لیں گے۔‘‘ پارٹی کسی بھی صورت میں انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرے گی۔ بائیکاٹ کی خبروں کے برعکس پارٹی قومی اسمبلی کی تقریباً 116 نشستیں حاصل کرنے کی امید کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی رہنماوں کے مطابق، ”ہم 149 نشستوں کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن انتخابی نشان چھننے کے بعد اب ہماری توجہ 116 سیٹوں پر ہے۔ ہمیں امید ہے کہ خیبر پختونخوا سے پچاسی فیصد نشستیں، سندھ سے تقریباً بیس نشستیں، جس میں کراچی سے 16 نشستیں بھی شامل ہیں جبکہ بلوچستان میں بھی کچھ نشستیں ہمیں مل جائیں گی۔‘‘ اس کے علاوہ پنجاب میں بھی انہیں بھاری ووٹوں سے کامیابی ہوگی۔ ”ہماری کوشش ہے کہ ٹرن آوٹ کم از کم 55 فیصد رہے اور انتخابی فہرستوں میں 23 ملین نوجوان ووٹروں کے اندراج کے بعد ہمیں امید ہے کہ ہمیں بڑے پیمانے پہ ووٹ ملیں گے۔‘‘

دوسری جانب مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی پر یقیناً بہت دباؤ ہے کہ وہ انتخابات کا بائیکاٹ کرے۔ ‘طاقتور حلقوں کی طرف سے یقینا دباؤ ہے کہ پی ٹی آئی انتخابات سے بائیکاٹ کرے کیونکہ انہیں نظر آرہا ہے کہ خوف کے بت ٹوٹے ہیں قوی امکان یہ ہے کہ آٹھ فروری کو بھی لوگ بڑی تعداد میں نکل کر پی ٹی آئی کو ووٹ دیں اور ٹرن آؤٹ زیادہ ہونے کی شکل میں پی ٹی آئی کو بھاری اکثریت مل سکتی ہے۔‘‘ تاہم یقیناً پی ٹی آئی کے مخالفین اور طاقتور حلقے نہیں چاہتے کہ پارٹی انتخابات میں حصہ لے۔ ”اسی لیے ان کے خلاف مختلف طرح کا پروپگنڈا کیا جا رہا ہے۔ کبھی بائیکاٹ کی خبریں پھیلائی جاتی ہیں اور کبھی امیدواروں کے حوالے سے کنفیوژن پیدا کیا جاتا ہے۔‘‘ ان تمام افواہوں کا بنیادی طور پر مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو مایوس کیا جائے۔ ”اگر پروپیگنڈے کے ذریعے لوگوں کو یہ بتا دیا جائے کہ پی ٹی آئی بائیکاٹ کر رہی ہے تو لوگوں میں مایوسی پھیل جائے گی اور وہ ووٹ ڈالنے نہیں نکلیں گے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ٹرن آؤٹ ممکنہ طور پر کم ہوگا اور کم ٹرن آؤٹ میں دھاندلی آسان ہوتی ہے۔‘‘ تاہم کہیں بھی تحریک انصاف کے الیکشن کے بائیکاٹ کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔

Back to top button