کیا تحریک انصاف کو مخصوص سیٹیں ملنا ممکن ہے؟

پارلیمنٹ میں مخصوص نشستوں کے حصول کیلئے پاکستان تحریک انصاف نے پارلیمنٹ میں اپنی انفرادی شناخت ختم کرتے ہوئے سنی اتحاد کونسل کے ساتھ وفاق، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں اتحاد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام اراکین کو سنی اتحاد کونسل میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم قانونی ماہرین کے مطابق تحریک انصاف کے اراکین کی سنی اتحاد کونسل میں شمولیت بھی پی ٹی آئی کے لئے فائدہ مند ثابت نہیں ہو گی اور الیکشن ایکٹ کے مطابق ٹی آئی کو مخصوص سیٹیں ملنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی میں 70 جبکہ پورے ملک میں 227 مخصوص نشستیں ہیں جو صرف سیاسی جماعتوں کو ملتی ہیں۔’ان مخصوص نشستوں کو محفوظ کرنے کے لیے تحریک انصاف نے سنی اتحاد کونسل کے ساتھ ایک رسمی معاہدہ کر کےتمام اراکین کو اس میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔‘

واضح رہے کہ عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے لیے ایک بڑا مسئلہ خواتین اور اقلیتوں کے لیے مختص نشستوں کا حصول ہے۔الیکشن رولز 2017 کے تحت آزاد حیثیت میں منتخب امیدوار الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابات میں کامیابی کے حتمی نوٹیفکیشن کے اجرا کے تین دن کے اندر کسی جماعت میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔اگر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار ایسا نہیں کرتے تو ان کو مخصوص نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔اس ہی چیز کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پی ٹی آئی نے اتحاد کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے اراکین کو سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا حکم دیا ہے۔

جب الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد سے پوچھا گیا کہ آیا اس اقدام کے بعد پاکستان تحریک انصاف قومی اور صوبائی اسمبلی میں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو حاصل کر پائے گی، تو ان کا کہنا تھا کہ اگر سنی اتحاد کونسل نے انتخابات سے قبل خواتین کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے کوئی فہرست جمع کروائی تھی، تو ایسا ممکن ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ارکان کی سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کے بعد اس جماعت کے ارکان کی تعداد کو دیکھتے ہوئے خواتین کی مخصوص نشستوں کے حصول کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔تاہم اگر سنی اتحاد کونسل نے ان مخصوص نشستوں کے لیے کوئی درخواست جمع نہیں کروائی تو پھر یہ الیکشن کمیشن کا صوابدید ہے کہ وہ آزاد ارکان کی سنی اتحاد میں شمولیت کے بعد اس جماعت کو خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں الاٹ کرتا ہے یا نہیں۔یاد رہے کہ سیاسی جماعتیں عام انتخابات کے لیے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ تک الیکشن کمیشن میں مخصوص نشستوں کے لیے اپنی فہرست جمع کروا سکتی ہیں۔

دوسری جانب جب سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا سے اس بابت رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ ان کی جماعت نے الیکشن کمیشن میں مخصوص نشستوں کے حوالے سے کوئی فہرست جمع نہیں کروائی۔ انھوں نے کہا چونکہ یہ قانونی معاملہ ہے اس لیے پی ٹی آئی کے سنیئیر رہنما جن میں بیرسٹر گوہر اور عمر ایوب شامل ہیں، وہ اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔حامد رضا نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماوں نے تمام امور پر غور کرنے کے بعد ہی اپنی جماعت کے حمایت یافتہ آزاد ارکان کو سنی اتحاد کونسل میں شامل کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جامب ماہرین کے مطابق قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کے باوجود تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں ملنا ممکن دکھائی نہیں دیتا کیونکہ الیکشن ایکٹ کے مطابق مختص وقت میں سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستوں کی فہرست جمع نہ کروانے کی وجہ سے تحریک انصاف مخصوص نشستیں حاصل نہیں کرسکے گی۔

سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشار نے اس حوالے سے بتایا کہ اس معاملے پر قانونی سقم موجود ہے اور اس سقم کی وجہ سے معاملہ الیکشن کمیشن کی صوابدید یا پھر سپریم کورٹ میں بھی جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا الیکشن ایکٹ کا سیکشن 104 سب سیکشن 4 کا سہارا لے کر تحریک انصاف فہرست جمع کرواسکتی ہے تاہم یہ صوابدید الیکشن کمیشن کی ہوگی کہ وہ پی ٹی آئی کی فہرست کو منظور یا مسترد کردے۔انہوں نے کہا کہ ’میری ذاتی رائے ہے کہ پی ٹی آئی اسی قانونی نقطے کو لے کر سپریم کورٹ جاسکتی ہے اور وہاں سے ان کو مخصوص نشستیں حاصل کرنے میں کامیابی بھی مل سکتی ہے‘

خیال رہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کا سیکشن 104 مخصوص نشستوں سے متعلق ہے، جس کا سیکشن ون واضح ہے کہ مخصوص نشستوں کے لیے سیاسی جماعتوں کو دیے گئے وقت کے اندر الیکشن کمیشن میں جمع کروائیں اور اس فہرست میں کوئی تبدیلی، اضافے یا نام کا اخراج نہیں کیا جاسکے گا۔ تاہم الیکشن ایکٹ کے سیکشن 104 سب سیکشن 04 کہتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے جمع کرائی گئی فہرست ختم ہوجائے ایسی صورت میں سیاسی جماعت خالی رہ جانے والی نشست کو پر کرنے کے لیے نام دے سکتی ہے، اس صورت میں سیکشن 1،2، اور 3 جس حد تک ممکن ہے لاگو ہوگا۔تحریک انصاف کے ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی الیکشن ایکٹ کے اسی سیکشن کے ساتھ پر امید ہے کہ انہیں مخصوص نشستیں مل جائیں گی۔ دوسری جانب پتن کے سربراہ سرور باری کہتے ہیں کہ قانون میں واضح ہے کہ سیاسی جماعت کو مخصوص نشستوں کے لیے طے کردہ مدت کے اندر فہرست جمع کروانا ہوگی اور اس میں اضافہ یا ترمیم نہیں ہوسکتی۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری اشتیاق احمد کا کہنا ہے کہ اگر کوئی آزاد امیدوار پارلیمان میں موجود کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرتا بھی ہے تو اس جماعت کی طرف سے مخصوص نشستوں کے لیے جو لسٹ فراہم کی گئی تھی اس میں کوئی ترمیم نہیں کی جا سکتی۔ الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں پر صرف اسی لسٹ کو فوقیت دے گا جو اس سیاسی جماعت نے انتخابات سے پہلے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی ہو۔

تاہم بعض مبصرین کے مطابق سیاسی جماعتوں کی طرف سے مخصوص نشستوں پر ناموں کی فہرست، انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ تک جمع کروائی جا سکتی ہے ۔ تاہم الیکشن رولز میں یہ لکھا ہوا ہے کہ اگر کسی جماعت کو عام انتخابات میں اس کی توقع سے زیادہ سیٹیں مل جائیں تو وہ مخصوص نشستوں کے لیے الیکشن کمیشن میں پہلے سے جمع کروائی گئی لسٹ پر نظرثانی کی درخواست دائر کر سکتا ہے۔تاہم سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو اس لسٹ پر نظرثانی کرنے کا اختیار نہیں ہے تاہم پاکستان تحریک انصاف کو اس ضمن میں صرف عدالتوں سے ہی ریلیف مل سکتا ہے اور وہ بھی اس صورت میں اگر وہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے پہلے انٹراپارٹی انتخابات کروائیں اور اس کے بعد وہ متعقلہ فورم کو اس حوالے سے درخواست دیں۔

Back to top button