کیا تحریک عدم اعتماد کا مقصد ایک اہم تعیناتی روکنا ہے؟


وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد سے کچھ حلقے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ عمران کی مخالف قوتیں ’’سیاسی وجوہات‘‘ کی بنیاد پر نہیں بلکہ طاقت ور ترین ریاستی ادارے میں ایک اہم تعیناتی کو روکنے کے لئے متحرک ہوئی ہیں۔ لہذا عمران خان کے ذہن میں اس حوالے سے جو نام ہے اگر وہ اس سے کنارہ کشی کا برملا اعلان کر دیں تو بحران ٹل سکتا ہے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے انجام کو ہر ممکن حد تک ٹالنے کی جو مہلت قانونی موشگافیوں کے ذریعے حاصل کی ہے، اسے وہ بہت ہوشیاری کیساتھ اپنے دیرینہ حامیوں کے جذبات بھڑکانے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ اپنے حامیوں کو خان صاحب نے جذباتی تقاریر کی بدولت نہایت شدت سے قائل کر رکھا ہے کہ ان کے سوا وطن عزیز کے تمام سیاست دان ’’چور اور لٹیرے‘‘ ہیں۔ وہ اقتدار میں باریاں لیتے ہوئے ملک و قوم کے بنیادی مسائل کا حل تلاش کرنے کے بجائے ’’حرام کی کمائی‘‘ سے اپنے کاروبار بڑھاتے اور بیرون ملک قیمتی جائیدادیں خریدتے رہے ہین۔ موصوف یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگست 2018 میں وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد ان جیسے ’’ایمان دار شخص‘‘ کو گلاسڑ ریاستی، حکومتی اور عدالتی نظام ورثے میں ملا جو ان کے پائوں کی زنجیر ثابت ہوا۔ لہذا ’’کرپٹ مافیا‘‘ انکے وعدوں کے مطابق عبرت کی علامت نہ بن پایا۔ اب وہی مافیا باہم مل کر عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے گھر بھیجنا چاہ رہا ہے۔
نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ عمران خان ان دنوں شہر شہر جاکر جو تقاریر کررہے ہیں وہ مجھے 1993کا نواز شریف یاد دلارہی ہیں۔اپنی پہلی حکومت کی صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھوں فراغت سے ایک رات قبل انہوں نے پی ٹی وی کے ذریعے قوم سے خطاب کیا۔اس کے دوران ’’میں ڈکٹیشن‘‘ نہیں لوں گا والا نعرہ بلند کیا۔اپنی حکومت کی برطرفی کے خلاف وہ سپریم کورٹ بھی چلے گئے۔ اعلیٰ عدالت میں ان کے وکیل خالد انور نے اپنے دلائل سے سحر انگیز سماں باندھ دیا۔ بالآخر نواز حکومت کی برطرفی ’’غیر آئینی‘‘ قرار پائی۔ لیکن اس ’’تاریخی فیصلے‘‘ کے باوجود نواز شریف اپنی حکومت کی بقیہ مدت مکمل نہ کر پائے۔نئے انتخاب کروانا پڑے جن کے نتیجے میں محترمہ بے نظیر بھٹو ایک بار پھر اقتدار میں لوٹ آئیں۔ لیکن ’’میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘‘ کے نعرہ کے ساتھ نواز شریف نے جو ووٹ بینک بنایا اور مستحکم کیا وہ آج بھی ان کی ذات اور اس سے منسوب جماعت کے کام آرہا ہے۔ دوسری جانب عمران خان کو بھی طویل المدتی تناظر میں ایسی ہی عوامی حمایت آنے والے کئی برسوں تک مہیا رہے گی کیونکہ سیاسی اعتبار سے اپنے خلاف آئی تحریک عدم اعتماد کی بدولت وہ توانا تر ہوجائیں گے۔
مگر بقول نصرت جاوید، اقتدار کا کھیل بڑی ظالم شے ہے۔ محض ’’عوامی جذبات‘‘ یہاں کلیدی کردار کے حامل نہیں۔ یہ جذبات اگر کارگر ہوتے تو نواز شریف سپریم کورٹ کے ہاتھوں اپنی معطلی اور تاعمر نااہلی کے باوجود ان دنوں لندن میں مقیم نہ ہوتے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد ان کی دُختر 1988 میں بالآخر وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچ جانے کے بعد غالباََ تاحیات اس عہدے پر براجمان رہتیں۔ اقتدار کے کھیل میں برتر حیثیت برقرار رکھنے کے لئے بھرپور عوامی حمایت سے مالا مال سیاستدانوں کو بھی ہر نوع کی اشرافیہ کو اپنے ساتھ رکھنا ہوتاہے۔ ریاست کے دائمی طاقت ور اداروں کے روبرو مناسب لچک دکھانا پڑتی ہے۔ اس تناظر میں عمران خان میری دانست میں اسی مقام پر پہنچ چکے ہیں جو نواز شریف کا 1993، اکتوبر 1999 اور 2017 میں سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد مقدر ہوا۔
نصرت کہتے ہیں کہ عمران خان ’’بھولے تو ہیں مگر اتنے بھی نہیں‘‘۔ میں جس جانب اشارہ کررہا ہوں اس کا انہیں مجھ سے کہیں زیادہ علم ہے۔تاریخ کا جبر البتہ انہیں ’’آخری گیند‘‘ تک لڑنے کو مجبور کررہا ہے۔ ان کے چند جواں سال وزراء بھی جو حکومت کی پالیسی سازی میں اہم کردار کے حامل رہے ہیں، نوشتہ دیوار پڑھ چکے ہیں۔ یہ لوگ ان دنوں نجی دوستوں اور قابل اعتماد اخبار نویسوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے اس تصور سے لطف اندوز ہورہے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجانے کی صورت نمودار ہونے والی حکومت ’’بھان متی کا کنبہ‘‘ نظر آئے گی۔ اقتدار سنبھالتے ہی اسے بجلی اور پیٹرول کی قیمت ہر صورت بڑھانا ہوگی۔یہ اضافہ خلق خدا کی اکثریت کو مایوس بنائے گا۔ وہ غضب سے مغلوب ہوکر عمران خان کو یاد کرنا شروع ہوجائیں گے۔ ان وزراء کا رویہ واضح عندیہ دے رہا ہے کہ وہ دل سے اپنی حکومت کی بابت ’’صبح گیا یا شام گیا‘‘ والے تاثر کو تسلیم کرچکے ہیں۔ عمران خان کے خلاف متحرک سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی کامیابی کا کامل یقین ہے۔ ان کی جانب سے یہ طے کرلیا گیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجانے کے بعد شہباز شریف ہی وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوجائیں گے۔ وہ ’’قومی‘‘ دِکھتی ’’مخلوط حکومت‘‘ کے سربراہ ہوں گے۔ ممکنہ حکومت کی اہم وزارتوں کے سربراہوں کے نام بھی ’’فائنل‘‘ ہوئے نظر آرہے ہیں۔ لیکن پیپلز پارٹی کے جواں سال سربراہ بلاول بھٹو ممکنہ حکومت میں کوئی عہدہ لینے کو ابھی تک رضا مند نہیں ہورہے۔ اپنی جماعت کے ممکنہ طور پر ’’حصہ‘‘ میں آئی وزارتوں کی سربراہی کے لئے اگرچہ اپنی جماعت کے کچھ نام انہوں نے طے کردئیے ہیں۔ نصرت جاوید کہتے ہیں کہ میں 1985 سے 2013 تک اقتدار کے کھیل کو بہت توجہ اور لگن سے دیکھتا رہا ہوں۔ میں نے آج تک حکومت کے خلاف مجتمع ہوئی اپوزیشن جماعتوں میں ایسا اعتماد نہیں دیکھا جو اِن دنوں اُن کی صفوں میں چھپائے بھی نہیں چھپ رہا۔ اس اعتماد کے ہوتے ہوئے میں اپنے باخبر ترین اور ذہن سازی کے حوالے سے معتبراور مؤثر گردانے ساتھیوں کی ان ’’تجاویز‘‘ کے بارے میں حیران سے حیران تر ہورہا ہوں جو ’’ہونی کو ٹالنے‘‘ کی خاطر ہمارے سامنے آرہی ہیں۔اس تناظر میں کامران خان کے ایک وڈیو پیغام کے بہت چرچے ہیں جو واضح طور پر وطن عزیز پر چھائے سیاسی بحران کا ’’حل‘‘ پیش کررہا تھا۔ کامران خان کا وڈیو پیغام یہ تاثر دے رہا ہے کہ عمران کی مخالف قوتیں ’’سیاسی وجوہات‘‘ کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک اہم اور طاقت ور ترین ریاستی ادارے میں کسی تعیناتی کو روکنے کے لئے متحرک ہوئی ہیں۔ عمران خان کے ذہن میں اس حوالے سے مبینہ طور پر جو نام ہے اگر اس سے کنارہ کشی کا برملا اعلان کردیا جائے تو ’’بحران‘‘ ٹل سکتا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں شاید اس کے بعد تحریک عدم اعتماد بھی واپس لے لیں۔ تاہم اگر وہ بضد بھی رہیں تو انہیں ناکامی سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ہاتھ باندھتے ہوئے التجا فقط اتنی کروں گا کہ معاملہ اب اتنا سادہ نہیں رہا اور خان صاحب کا جانا ٹھہر چکا ہے۔

Back to top button