کیا ترین غضب ناک ہو کر بزدار حکومت گرا سکتے ہیں؟


جہانگیر ترین کی جانب سے اپنے حامی اراکین اسمبلی کا ایک مزید بڑا سیاسی پاور شو کرنے کی کوششیں عروج پر پہنچ چکی ہیں جس میں 50 سے زائد ہم خیال اراکین قومی وصوبائی اسمبلی کو اکٹھا کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا یے کہ ترین کے اس نئے منصوبے سے حکومتی صفوں میں کھلبلی مچ چکی ہے۔
وزیراعظم عمران خان کے قریبی حلقوں کو یہ یقین ہے کہ ترین اسٹیبلشمنٹ کے بغیر انکی حکومت کو نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اسی وجہ سے انہوں نے نے دفاعی پوزیشن اختیار کرنے کی بجائے اور بھی سخت رویہ اختیار کر لیا ہے۔ تاہم انھیں یہ خدشہ ضرور لاحق ہے کہ پنجاب میں عثمان بزار حکومت کے خلاف ترین گروپ اگر اپوزیشن الائنس کے ساتھ مل گیا تو انکے وسیم اکرم پلس کا اقتدار ختم ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب حکومت سے ناراض کئی اراکین ترین گروپ میں شمولیت کے متعلق فیصلہ کرنے سے قبل یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایا انہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے یا نہیں۔ تاہم اسٹیبلشمنٹ ترین اور عمران کے درمیان جاری کشیدگی میں تاحال غیر جانبداری برقرار رکھے ہوئے ہے جسکا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کئی ناراض ارکان کو منانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ کچھ اراکین بشمول وزراء کے خلاف سخت اقدامات کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے اور اس حوالے سے آئندہ چند ہفتوں میں مرحلہ وار پیش رفت کا امکان ہے۔ ترین کے قریبی حلقوں کے مطابق اب تک 28 اراکین پنجاب اسمبلی اور 12 اراکین قومی اسمبلی نے منظر عام پر آ کر انکا ساتھ دینے کا رسک لیا ہے۔ تاہم مزید کئی ایسے اراکین ہیں جو ترین کے ساتھ رابطے میں تو ہیں لیکن ابھی تک وہ منظر عام پر نہیں آئے۔ وہ دراصل یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ترین کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی تائید حاصل ہے یا نہیں ،اگر انہیں یقین ہوجاتا ہے کہ کپتان کے زیر عتاب ترین کو عسکری حمایت ہے تو یہ لوگ آئندہ چند روز میں سامنے آکر ترین کے حق میں بولتے دکھائی دیں گے، بصورت دیگر یہ پیچھے ہٹ جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا یے کہ وزیر اعظم عمران خان ترین گروپ بننے سے شدید دباؤ میں ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ اگر انکے سابقہ ساتھی نے ناراضی کو دشمنی میں تبدیل کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا تو وہ یقینی طور پر وفاق اور پنجاب میں ایک موثر فاروروڈ بلاک بنا سکتے ہیں جو مستقبل میں اپوزیشن کے ساتھ ملکر کوئی انتہائی اقدام کر سکتا ہے۔ تاہم ابھی وہ کسی قسم کا رد عمل نہیں دے رہے اور خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں حالانکہ 30 اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی نے انہیں ایک خط کے ذریعے ترین کے خلاف کارروائی روکنے کی درخواست کی ہے اور ملاقات کا مشورہ دیا ہے۔ دوسری جانب ترین کے حامیوں میں بھی نئی صف بندی ہو رہی ہے۔ کچھ لوگ واضح طور پر ان سے غیر متعلق ہونے کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ چند لوگ ابھی تک غیر جانبدار اور خاموش ہیں، وفاقی وزیر مراد سعید کو ترین کے نہایت قریب سمجھا جاتا تھا لیکن چند روز پہلے انہوں نے بھی بیان دیا ہے کہ عدالت پیشی کے موقع پر ترین کے موقف سے انہیں دکھ ہوا ہے، اسی طرح وفاقی وزیر فواد چوہدری جو ماضی میں شاہ محمود قریشی اور ترین کی لڑائی میں کھل کر ترین کا ساتھ دیتے تھے وہ بھی ابھی تک خاموش ہیں۔ وفاقی وزیر چوہدری ترین کے ایک اور قریبی غلام سرور بھی خاموش ہیں۔ اسی طرح وزیر دفاع پرویز خٹک جنھیں پہلے تحریک انصاف کا سیکرٹری جنرل اور پھر خیبرپختونخوا میں وزیراعلی لگوانے میں ترین کا مرکزی کردار تھا، وہ بھی تاحال خاموش ہیں اور صورتحال کا غور سے جائزہ لے رہے ہیں۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ سے پرویزخٹک کے ترین کے ساتھ تعلقات پہلے جیسے مضبوط نہیں رہے اور شاید یہی انکی خاموشی کی بڑی وجہ ہے۔
لیکن ترین کے قریبی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وقت آنے پر فواد چوہدری سے لے کر پرویز خٹک سبھی لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور صرف مناسب وقت کا انتظار یے۔
ترین کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ یہ درست ہے کہ وہ سپریم کورٹ سے نااہل قراردیئے جانے کے بعد پارلیمنٹ کا حصہ نہیں بن سکتے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ترین چار مختلف حکومتوں کی گڈگورننس کامیاب کروانے میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ 1997 میں وہ میاں شہباز شریف کی وزارت اعلی کے دور میں ان کے مشیر بنے۔ اس دوران ترین نے سندر انڈسٹریل اسٹیٹ اور بنیادی مراکز صحت سمیت زراعت کے شعبوں میں شہباز حکومت کو کامیاب کروایا۔ وزیراعلی چوہدری پرویز الٰہی کے دور حکومت میں ترین ان کے مشیر بنے تو زراعت کے کئی کامیاب منصوبے مکمل کیے۔ وزیر اعظم شوکت عزیز کی وفاقی کابینہ میں ترین نے صنعتی شعبے میں اہم ترین میگا پروجیکٹ شروع کروائے اور اسی طرح سے خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی پہلی حکومت کی کامیابی میں بھی ترین کی نمایاں محنت شامل رہی۔ لہذا ترین کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کو پاکستان کی مستقبل کی سیاست سے آؤٹ کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان اور جہانگیر ترین کے معاملات بہتر نہ ہو پائے تو پہلے مرحلے پر بزدار کی حکومت گرانے کے لیے ایک فارورڈ بلاک تشکیل دیا جائے گا جس کے بعد قومی اسمبلی کا رخ کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button