کیا ترین کا پاور شو عمران خان کو مزید غضبناک کر دے گا؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اگر جہانگیر ترین کے خلاف حکومتی ایکشن نہ رکا تو ان کے ساتھ کھڑے ہونے والے ممبران صوبائی اور قومی اسمبلی کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا اور بالآخر حکومتی جماعت کے یہ ناراض لوگ فارورڈ بلاک بھی تشکیل دے سکتے جو تحریک انصاف ترین گروپ کہلوائے گا اور ملکی سیاست میں ترین فیکٹر کی نمائندگی کرے گا۔

اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جہانگیر ترین نے پی ٹی آئی کے دو درجن سے زائد منتخب اراکینِ اسمبلی کو اپنے ساتھ اکٹھا کرکے ایک متاثر کن پاور شو کیا ہے۔ اس اقدام سے ثابت ہو گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی ساخت میں ترین فیکٹر کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ سہیل کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو سیاست میں اِن کرنے اور انتخابات جتوانے میں جہانگیر ترین کی ذہانت اور مہارت کا ہاتھ تھا۔ ایک زمانے میں جہانگیر ترین عمران خان کے مشیرِ خاص ہوتے تھے، پارٹی کے تمام فیصلوں میں ان کی مشاورت شامل ہوتی تھی۔ پی ٹی آئی کی حکومت بنی تو تب بھی جہانگیر ترین کو وہی اہمیت حاصل رہی، وہ کابینہ کے اجلاسوں میں شریک ہوتے رہے، کابینہ کے کئی وزیر ان کو اپنے محکموں کی کارکردگی کے بارے میں بریفنگ دیتے رہے۔ 

لیکن عمران خان سے اس قدر قربت اور بےحد اہمیت کے بعد ایسا کیا ہوا کہ دونوں کے تعلقات میں اس قدر دوری آگئی کہ ترین کو اپنے خلاف ہونے والے اقدامات کے حوالے سے ارکانِ اسمبلی کو اکٹھا کرنا پڑا ہے۔  اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ان دونوں کے معاملات میں پہلی دراڑ تو سپریم کورٹ کے اُس فیصلے سے آئی جس میں جہانگیر ترین کو نااہل اور عمران خان کو صادق و امین قرار دیا گیا۔ اسی وقت یہ باتیں ہوئیں کہ دراصل یہ سب کچھ سواپ اور انڈر اسٹینڈنگ کے نتیجے میں ہوا ہے تاکہ عمران کو ان اور ترین کو آوٹ کیا جا سکے۔ اس فیصلے کے بعد ترین کی تسلی کے لیے یہ بھی کہا جانے لگا کہ کیا ہوا اگر ایک کھلاڑی آؤٹ ہو گیا، ٹیم تو جیت رہی ہے۔ لیکن ترین کے قریبی ساتھی سمجھتے ہیں کہ ان کی نااہلی میں کپتان کی مرضی بھی شامل تھی۔ جہانگیر ترین آج بھی اپنی نااہلی کو اپنے سیاسی کیریئر کی سب سے بڑی پھانس سمجھتے ہیں۔ سہیل وڑائچ کے مطابق عمران اور ترین میں دوسری بڑی دراڑ پی ٹی آئی حکومت بننے کے بعد پڑی۔ ترین پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیوں اور سازشوں کو تو بڑی حد تک کنٹرول کر لیتے تھے لیکن جب حکومت بن گئی تو ترین وزیراعظم سیکرٹریٹ میں براجمان خانوں اور کابینہ کے سازشیوں کا مقابلہ نہ کر سکے۔ ہوا یوں کہ وزیراعظم نے جہانگیر ترین کو پرائم منسٹر کے مانیٹرنگ یونٹ کا انچارج بنا دیا، اس حیثیت سے وہ کابینہ کے اجلاسوں میں بھی شرکت کرتے اور وزراء کو بلا کر پالیسی ہدایات بھی دیتے۔ لیکن وزیراعظم سیکرٹریٹ کے انچارج پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور وفاقی وزیر اسد عمر اس انتظام پر خوش نہیں تھے۔ 

سہیل کے مطابق کہا جاتا ہے کہ اس نظام کو تب شو ڈائون کا سامنا کرنا پڑا جب ایک روز وزیراعظم اور ترین کی موجودگی میں اعظم خان نے یہ کہہ کر انکے مانیٹرنگ یونٹ کو چیلنج کیا کہ ملک میں بہ یک وقت دو اتھارٹیز یا دو وزیراعظم نہیں ہو سکتے۔اور انتظامیہ صرف ایک ہی وزیراعظم کو جوابدہ ہے اور وہ عمران خان ہیں۔ حیران کن طور کپتان تب خاموش رہے۔ چنانچہ یہی وہ بریکنگ پوائنٹ تھا جب جہانگیر ترین کے حکومتی اختیارات ختم ہو گئے۔ اس کے بعد رفتہ رفتہ وزیر اعظم اور ترین کی قربتیں ختم ہو گئیں اور فاصلے پیدا ہو گئے۔ سہیل۔وڑائچ کے مطابق دونوں کے باہمی تعلقات کی خرابی شوگر سکینڈل کے بعد بڑھ گئی، کیونکہ تحقیقاتی رپورٹ میں ترین اور دوسرے شوگر مل اونرز کو مافیا قرار دے کر لوٹ مار کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ ترین نے پہلا وار ٹھنڈے دل سے برداشت کیا۔ ایف آئی اے، سرکاری اداروں اور عدالتوں کی پیشیاں بھگتیں، ساتھ ہی ساتھ عمران سے صلح صفائی کا راستہ بھی کھلا رکھا، حالات کچھ بہتر ہوئے تو ترین اپنے بیٹے علی ترین کے ساتھ انگلستان روانہ ہو گئے۔ ویان سے ان کا عمران خان سے رابطہ بحال ہو گیا، ایک دوسرے کے ساتھ ٹیکسٹ پیغامات کا تبادلہ ہونے لگا اور یہی فضا تھی جسے دیکھ کر ترین بیٹے کے ہمراہ واپس پاکستان آ گے۔ 

سہیل وڑائچ کے بقول وطن واپسی کے بعد بھی ترین اور عمران کا رابطہ بحال رہا بلکہ بقول ترین انہوں نے خود ٹیکسٹ پیغام کے ذریعے عمران کو چینی کی قیمتوں بارے مشورے دیے جن پر وزیراعظم نے عمل بھی کیا۔ لیکن ترین کے قریبی ذرائع کےبقول، وزیراعظم ہائوس اور کابینہ میں بیٹھے کچھ لوگ پھر سے اپنے مشن میں کامیاب ہوئے اور ترین اور وزیراعظم کے درمیان پھر سے رابطہ ٹوٹ گیا، اس حوالے سے کچھ انٹیلی جنس رپورٹس کا تزکرہ بھی کیا جاتا ہے جن میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ سینیٹ الیکشن کے دوران ترین نے حفیظ شیخ کی بجائے نہ صرف گیلانی کی حمایت کی بلکہ ان کو سفری سہولت کے لیے اپنا پرائیویٹ جہاز بھی فراہم کیا۔ اہم ترین ان رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ گیلانی نے مخدوم احمد محمود کا جہاز استعمال کیا تھا ان کا نہیں۔ لیکن ہوا یوں کہ ہھر ترین کے خلاف کارروائیوں کا آغاز بھی ہو گیا۔ ترین گو کافی عرصے سے سیاسی طور پر خاموش تھے لیکن عملاً وہ لاہور، اسلام آباد اور لودھراں ہر جگہ اراکینِ اسمبلی اور بیوروکریٹس سے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں۔ ان کا سیاسی ڈیرہ ہروقت آباد رہتا ہے اور اسی لیے دو درجن سے زائد اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے ان کے ساتھ کھڑے ہو کر انکے خلاف حکومتی اقدامات کو رد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ سب لوگ ترین کے انتہائی قریبی ساتھی تصور کئے جاتے ہیں، کیونکہ انکے سیاسی کیریئر میں ترین کا اہم کردار رہا ہے۔

سہیل وڑائچ توقع کرتے ہیں کی وقت گزرنے کے ساتھ یہ گروپ مزید بڑا ہو جائے گا۔ حکومت نے اگر ان کو کوئی نوٹس نہ بھیجا اور ترین کو لگا کہ ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں تیز ہو رہی ہیں تو پھر وہ اور زیادہ طاقتور پاور شو کریں گے اور بالآخر ایک فارورڈ بلاک یا ترین گروپ سامنے آسکتا ہے۔

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین کی جانب سے پاور شو کرنے پر اگر عمران خان نے خاموشی برقرار رکھی تو اسے پی ٹی آئی اور حکومت کی کمزوری پر محمول کیا جائے گا۔ تاہم اس گروپ کے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ جہانگیر ترین کی اسپیشلائزیشن صرف اور صرف پی ٹی آئی ہے اور وہ جو کچھ بھی کریں گے، پی ٹی آئی کے اندر رہتے ہوئے ہی کریں گے۔ اگر حکومت نے دبائو بڑھایا تو یہ فارورڈ بلاک کی شکل اختیار کر جائے گا وگرنہ موجودہ غیر رسمی شکل میں ہی چلتا رہے گا۔ سہیل کہتے ہیں کہ اندازہ یہ ہے کہ ترین اپنی عادت کے عین مطابق بہت زیادہ تیز نہیں چلیں گے، وہ تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو کے قائل محسوس ہوتے ہیں، اس لئے ان کی طرف سے کسی جارحانہ سیاسی داؤ پیچ کی امید نہیں ہے۔ وہ حکومت کے اقدامات دیکھ کر اپنی آئندہ کی پالیسی وضع کریں گے۔ انکے خیال میں ترین تاش کے پتوں کو سینے کے ساتھ لگائے رکھیں گےاور انہیں تب ہی شو کریں گے جب ملکی فضا میں سیاسی تبدیلی کے حوالے سے ارتعاش پیدا ہونا شروع ہوگا۔ ترین کے قریبی حلقوں کا خیال ہے کہ اگست ستمبر میں ایسے حالات پیدا ہونے کا امکان ہے۔ ترین بھی اپنے سیاسی دائو اس وقت تک کے کیے بچا کر رکھیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button