کیا ترین کپتان مخالف قوتوں سے ہاتھ ملانے جا رہے ہیں؟

شوگر سکینڈل میں نیب کی ممکنہ کارروائی کے خطرے سے دوچار جہانگیر خان ترین نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ خاموش نہیں رہیں گے اور کونے میں لگنے کی بجائے دوبارہ سے سیاست میں متحرک ہو کر خود پر لگائے گئے تمام الزامات کا بھرپور دفاع کریں گے۔ اس حوالے سے ٹائمنگ کا فیصلہ وہ سوچ سمجھ کر کریں گے البتہ فی الحال وہ دفاعی حملے کی تیاری میں مصروف ہیں۔
اس بات کا انکشاف معروف صحافی اور اینکرپرسن سہیل وڑائچ نے بی بی سی کے لیے لکھی گئی اپنی ایک تازہ ترین رپورٹ میں کیا ہے۔ سہیل وڑائچ نے لکھا ہے کہ بلّی صدیوں سے انسان کی دوست ہے اور ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ وہ انسان پر حملہ کرے۔ مگر دیکھا گیا ہے کہ اگر بلّی کو بھی گھیر لیا جائے اور اسے بھاگنے کا راستہ نہ دیا جائے تو وہ بھی خود کو کارنر کرنے والے پر حملہ آور ہو جاتی ہے۔ یعنی بلّی بھی تنگ ہو تو جنگ کرنے پر اتر آتی ہے، جہانگیر ترین تو پھر اچھے بھلے انسان ہیں۔
سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ کہانیاں تو بہت ہیں کہ جہانگیر ترین اور عمران خان نیازی کے درمیان ایسا کیا ہوا کہ اتنا گہرا تعلق ٹوٹ گیا اور ایک دوسرے کے بارے میں شدید غلط فہمیاں پیدا ہو گئیں۔ ایک وقت تھا کہ یہ دونوں دوست سیاست تو کیا نجی زندگی کے فیصلے بھی باہمی مشورے سے کرتے تھے۔ لیک اب یہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ عمران خان کی اپنی موجودہ اہلیہ بشری بی بی سے شادی سے شاید چند ماہ پہلے مانیکا خاندان کے دو افراد جہانگیر ترین سے ملے تھے۔ یہ دونوں دراصل بشری وٹو کے دیور تھے اور پاکپتن کی سیاست میں بھی سر گرم تھے۔ انھوں نے جہانگیر ترین کو کہا کہ آج کل ان کی بھابھی بشری بی بی، عمران خان کے پاس آتی جاتی ہیں اور ان سے بہت متاثر ہیں۔ مانیکا برادران نے ترین سے درخواست کی کہ عمران خان کو متنبہ کریں کہ وہ اُن سے دور رہیں۔
جہانگیر ترین نے عمران خان سے خود بات کرنے کی بجائے عون چودھری کو پیغام دیا کہ کپتان کو بتا دینا کہ مانیکا برادران نے یہ انتباہ بھیجا ہے۔ عون چودھری نے عمران خان کو پیغام دیا تو جواباً انہوں نے کہا کہ ترین کو کہو کہ وہ آئندہ مانیکا برادران سے نہ ملے، یہ اچھے لوگ نہیں۔ چنانچہ ترین اس کے بعد کبھی مانیکا برادران سے نہ ملے۔ ترین کی عمران خان کی بیگم بشریٰ بی بی کے ساتھ پہلی اور آخری ملاقات اس وقت ہوئی جب عمران اور بشری کی شادی کے بعد پی ٹی آئی قیادت سے نئی پنکی بیگم صاحبہ کی سلام دعا ہو رہی تھی۔ ترین اور بیگم صاحبہ کی یہ پہلی اور اب تک کی آخری ملاقات کچھ زیادہ خوشگوار نہیں تھی اور اس موقع پر مسز عمران کی طرف سے ادا کردہ ایک طلسماتی فقرے کی تلخی کبھی دور نہ ہوپائی۔
آٹا اور چینی کا سکینڈل میڈیا میں آیا تو جہانگیر ترین بیرون ملک تھے، واپس آ کر وہ فوراً وزیر اعظم سے ملے اور اپنی پوزیشن کی وضاحت کی، وزیر اعظم نے آٹا سکینڈل سے ترین کی بریت کا اعلان کر دیا لیکن چینی سکینڈل کے حوالے سے خاموش رہے۔ چینی پر ایف آئی اے کی رپورٹ باہر آئی تو وزیر اعظم اور ان کی کچن کابینہ کا ردعمل دیکھ کر ترین ششدر رہ گئے، انھیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کریں، آیا وہ بدنامی کے باوجود خاموش اور غیر سرگرم رہیں، وہ وزیر اعظم کے خلاف کھل کر بولیں اور سیاسی محاذ بنا لیں یا فی الحال مکمل رپورٹ کا انتظار کریں اور اپنی اس بدنامی کا مقابلہ سیاسی طور پر کریں لیکن اب یوں لگتا ہے کہ جہانگیر ترین نے سوچ و بچار کے بعد تیسری آپشن اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ فی الحال عمران خان کے خلاف محاذ نہیں کھولنا چاہتے، لیکن بہت سے وزرا اور اراکینِ اسمبلی ان سے رابطہ کر کے اپنی حمایت کا یقین دلا رہے ہیں۔ فیصل آباد سے راجہ ریاض اور سوات سے مراد سعید تو اس حوالے سے کھل کر سامنے آ گئے ہیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے تین مشیر کھلے عام جہانگیر ترین سے ملے اور تصاویر اتروا کر میڈیا میں تشہیر کروائی۔ ہر روز کسی نہ کسی ایم این اے یا ایم پی اے سے جہانگیر ترین کی ملاقات ہو رہی ہے۔ پی ٹی آئی خود بھی ترین کے مقابلے کے لیے تیار نظر آتی ہے۔ علیم خان کو صوبائی وزارت سے نوازنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ علیم خان اور جہانگیر ترین کے ممکنہ اتحاد کو روکا جا سکے۔
جہانگیر ترین کے قریبی حلقوں کو پوری طرح اندازہ ہے کہ ان کی حمایت کرنے والوں میں سے بہت کم ہیں جو کہ موجودہ حکومت کے مخالف کھڑے ہو سکیں گے۔ انھیں علم ہے کہ چند ایک وفادار ساتھیوں کے علاوہ باقی دراصل اپنی محرومیوں کی وجہ سے تحریک انصاف سے ناراض ہیں، ترین کیمپ کا تجزیہ یہ ہے کہ متحرک ہونے کا صحیح وقت بجٹ کے بعد ہو گا کیونکہ اسی وقت کوئی سیاسی سرگرمی نتیجہ خیز ثابت ہو سکتی ہے۔
جہانگیر ترین کے قریبی حلقے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کو سائڈ لائن کر کے اسد عمر عملی طور پر نائب وزیر اعظم بن بیٹھے ہیں۔ ایکنک کی خصوصی کمیٹی کے سربراہ اور کورونا کے سد باب کے لیے قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ بھی وہ، یوں اس خلا کا سب سے بڑا سیاسی فائدہ اسد عمرنے اٹھایا ہے۔ جبکہ پرنسپل سیکریٹری کی کارکردگی اور کابینہ اراکین سے ناروا سلوک کے حوالے سے ترین اکثر وزیر اعظم کی توجہ دلایا کرتے تھے مگر اب پرنسپل سیکریٹری کو فری ہینڈ مل گیا ہے اور وہ اور بھی طاقتور ہو گئے ہیں۔ جہانگیر ترین کو علم ہے کہ وہ خود سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے نا اہل ہیں اس لیے سیاست میں ان کے متحرک ہونے کی محدود گنجائش ہے، دوسری طرف وہ بزنس مین ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ حکومت سے براہ راست ٹکر لیں۔
مگر ان کے مشیر کہتے ہیں کہ جب ذوالفقار علی بھٹو نے بغاوت کی تو صرف ایک رکن اسمبلی مصطفیٰ کھر ان کے ساتھ تھے، آپ کے ساتھ تو سات ہیں اس لیے ہمت کریں کسی سیاسی جماعت کے ساتھ ہاتھ ملائیں اور ایک نیا سیاسی فرنٹ بنا کر عمران اور تحریک انصاف کا مقابلہ کریں۔ یہی وہ آپشن ہے جس سے آپ کی عزت اور سیاست بچ سکتی ہے۔ دیکھیں ترین اپنے کارڈز کب کھولتے ہیں، وہ پاور پالیٹکس کے ماہر ہیں پہلے اپنے پتے اچھی طرح لگائیں گے مقتدر حلقوں کی مرضی جانیں گے پھر ہی آگے بڑھیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button