کیا جسٹس بندیال عمران کو تاحیات نااہلی سے بچانا چاہتے ہیں؟


نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دینے والے بینچ کا حصہ ہونے کے باوجود فیصل واوڈا کیس میں تاحیات نا اہلی کو ظالمانہ سزا اور کالا قانون قرور دینے والے عمرانڈو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے اور اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا یہ ریمارکس عمران خان کی ممکنہ نااہلی کے پیش نظر دیے گئے ہیں۔ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ کیا تاحیات نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ اپنے 5 رکنی بینچ کے پچھلے فیصلے پر نظر ثانی کر کے اس سزا کو ختم بھی کر سکتی ہے۔ یاد رہے کہ چیف جسٹس نے 4 اکتوبر 2022 کو ریمارکس میں کہا تھا کہ ’تاحیات نااہلی یعنی آرٹیکل 62 ون ایف سفاک اور ڈریکونین قانون ہے۔

تاحیات نا اہلی سے متعلق ان کے یہ ریمارکس تب سامنے آئے جب پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی فیصل واوڈا کی نااہلی سے متعلق کیس سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت میں سماعت کے لیے مقرر ہوا۔ عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس کیس کو بہت محتاط ہو کر سنیں گے۔ کیونکہ ’تاحیات نااہلی ایک ظالمانہ قانون ہے۔ بندیال کے ان ریمارکس کے بعد ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے کیوں کہ 62 ون ایف یعنی سیاست دانوں کی نا اہلی سے متعلق مدت کا تعین تب کیا گیا جب اس آرٹیکل کی تشریح کی گئی تھی۔ یہ تشریح سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ میں رکنی لارجر بینچ نے کی تھی جسکا فیصلہ بندیال نے خود تحریر کیا تھا کیوں کہ وہ بھی اس بینچ کا حصہ تھے۔

آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی عدالتی تشریح میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ سیاست دانوں کی نااہلی 5 یا 10 سال کے لیے نہیں بلکہ تاحیات ہو گی۔ اب ساڑھے چار سال بعد جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے ہی لکھے فیصلے پر ریمارکس دیے ہیں کہ یہ ایک ڈریکونین قانون ہے۔ یاد رہے کہ 2016 میں پانامہ پیپرز کا معاملہ سامنے آیا تو پاکستانی سیاست میں ہلچل تب مچی جب سپریم کورٹ میں وزیر اعظم کے نواز شریف کے خلاف درخواست دائر ہوئی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے مقدمے کی سماعت کی اور جولائی 2017 میں سپریم کورٹ نے نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’نواز شریف نے اپنے کاغذات نامزدگی میں کیپٹل ایف زیڈ ای سے متعلق حقائق چھپائے، نواز شریف عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 12 کی ذیلی شق ٹو ایف اور آرٹیکل 62 کی شق ون ایف کے تحت صادق نہیں رہے، نواز شریف کو رکن مجلس شوریٰ کے رکن کے طور پر نااہل قرار دیتے ہیں، الیکشن کمیشن نواز شریف کی نااہلی کا نوٹیفکیشن فوری طور پر جاری کرے۔‘

خیال رہے کہ آئین کی شق 62 ون ایف کے مطابق پارلیمنٹ کا رکن بننے کے خواہش مند شخص کے لیے لازم ہے کہ وہ سمجھدار ہو، پارسا ہو، ایماندار ہو اور کسی عدالت کا فیصلہ اس کیخلاف نہ آیا ہو۔آئین کی یہ شق کسی شخص کے ’صادق اور امین‘ ہونے کے بارے میں ہے اور چونکہ اس قانون کے تحت ملنے والی سزا کا تعین ہی نہیں کیا گیا تو یہی تصور کیا گیا کہ نااہلی تاحیات ہی ہو گی۔ اب عمر عطا بندیال کے تازہ ریمارکس کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا سپریم کورٹ تاحیات نااہل کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر کے اسے ختم کر سکتی ہے اور کیا اس کا بنیادی مقصد عمران خان کو ممکنہ تاحیات نااہلی سے بچانا ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی رولنگ کے معاملے پر سپریم کورٹ کے 26 جولائی 2022 کے فیصلے میں جسٹس عمر عطا بندیال نے لکھا تھا کہ اگر کوئی جج ‘نادانستہ’ طور پر قانون کی غلط تشریح کرے تو اس کے پاس بعد میں دانستہ طور پر صحیح تشریح کرنے کی آزادی ہے۔ پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین عابد ساقی نے چیف جسٹس عمر عطا ببدیال کی طرف سے فیصل واوڈا کی درخواست کی سماعت کے دوران 62 ون ایف کو ’کالا قانون‘ قرار دینے کے ریمارکس کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ اب بھی چیف جسٹس کے اختیار میں ہے کہ وہ فل کورٹ یا سات رکنی لارجر بینچ بنا کر اس قانون کے تحت دیے گئے فیصلوں پر نظرِ ثانی کریں۔ انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست عدالت عظمیٰ میں زیر التوا ہے جس میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ عدالت عظمیٰ اس قانون کے تحت نااہلی سے متعلق دیے گئے فیصلوں کا جائزہ لے۔ انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ بھی اس قانون میں ترمیم کر سکتی ہے لیکن موجودہ حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے اس لیے فی الوقت پارلیمنٹ اس قانون میں ترمیم نہیں کر سکتی۔

دوسری جانب سینیٹ میں 62 ون ایف میں ترمیم کے لیے ایک بل پیش کیا گیا ہے اور یہ بل حکمراں اتحاد میں شامل پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان کی طرف سے پیش کیا گیا ہے۔ مجوزہ ترمیم میں شق 62 سے صادق اور امین کی عبارت کو راست گو اور وفا شعار میں تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مجوزہ ترمیم کے تحت صادق اور امین دنیا میں صرف پیغمبر اسلام کی ذات ہے۔ سینٹ کے چیئرمین نے یہ بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا ہے۔

Back to top button