کیا جسٹس شوکت صدیقی کو ریٹائرمنٹ سے پہلے انصاف مل پائے گا؟

جنرل مشرف کو آئین شکنی کے جرم میں سزائے موت سنانے والے جسٹس وقار احمد سیٹھ تو سپریم کورٹ کا جج بننے کے لیے دائر کردہ اپنی پٹیشن لگنے کے انتظار میں اس دنیا سے چلے گئے لیکن اب سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کے وکیل کو یقین دلوایا ہے کہ انکی برطرفی کیس کا فیصلہ ان کی ریٹائرمنٹ سے پہلے کر دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے شوکت عزیز صدیقی کو 21 جولائی 2018 کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں تقریر کے دوران آئی ایس آئی کو اسکے سیاسی کردار کی وجہ سے چارج شیٹ کرنے پر جوڈیشل آفس سے ہٹا دیا تھا، تاہم اگر انھیں برطرف نہ کیا جاتا تو بطور سینجیر ترین جج آج جسٹس شوکت صدیقی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہوتے۔
عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کے خلاف شوکت عزیر صدیقی کی درخواست پر سماعت کر رہا ہے۔ بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل ہیں۔ 9 دسمبر کو ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے شوکت عزیز صدیقی کی بطور جج اسلام آباد ہائیکورٹ برطرفی کے خلاف دائر درخواست پر رجسٹرار آفس کو اسلام آباد، راولپنڈی اور کراچی بار کی درخواستوں پر اعتراضات سے متعلق وکلا کو آگاہی نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا۔سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ یہ بڑا کیس ہے، اور ہم چاہتے ہیں کہ وکلا کو تسلی سے سن کر فیصلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ بینچ اگر 4 اراکین سے زیادہ پر مبنی ہو تو معمول کے مقدمات متاثر ہوتے ہیں، جس پر شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے کہا کہ میرے موکل شوکت عزیز صدیقی اگلے سال ریٹائر ہو جائیں گے، اسلیے ہم چاہتے ہیں کہ اس کیس کا فیصلہ جلد ہو جائے۔اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہم شوکت عزیز صدیقی کی ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی آ کے کیس کا فیصلہ دے دیں گے۔
سماعت کے دوران کراچی بار ایسوسی ایشن کے وکیل رشید اے رضوی نے مؤقف اپنایا کہ ہماری درخواستیں مقرر نہ کرنے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ رجسٹرار آفس کے مطابق درخواستوں میں استعمال کی گئی زبان درست نہیں۔اس پر رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ اعتراضات سے متعلق آگاہ کیا جائے تا کہ دوبارہ درخواست دائر ہو سکے۔ ساتھ ہی اسلام آباد بار کے وکیل صلاح الدین کا کہنا تھا کہ میری ترمیمی درخواست بھی مقرر نہیں کی گئی، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ تمام درخواست گزاروں کو اعتراضات سے آگاہ کر دیا جائے گا۔بعد ازاں عدالت نے رجسٹرار آفس کو کراچی، اسلام آباد اور راولپنڈی بار کی درخواستوں پر اعتراضات سے متعلق وکلا کو آگاہی نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا۔ساتھ ہی کیس کی سماعت کو آئندہ برس جنوری تک ملتوی کردیا گیا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل نے اکتوبر 2018 میں ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف کارروائی کے بعد صدر مملکت عارف علوی سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے مذکورہ جج کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی جس پر عمل کرتے ہوئے صدر نے جسٹس صدیقی کو برطرف کر دیا تھا۔
جسٹس شوکت صدیقی نے جولائی 2018 میں راولپنڈی بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مبینہ طور پر آئی ایس آئی عدلیہ کے معاملات میں مداخلت کرتی ہے اور اپنی مرضی کے بینچ بنوا کر اپنی مرضی کے فیصلے لیتی ہے۔ اُنھوں نے الزام عائد کیا تھا کہ فوج کے خفیہ اداروں کی مداخلت کی وجہ سے اُنھیں نواز شریف کو احتساب عدالت سے ملنے والی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کرنے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے بینچ میں شامل نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے درخواست کی تھی کہ وہ اس بارے میں ایکشن لیں۔ شوکت عزیز صدیقی نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے جو اس وقت ڈپٹی ڈی جی آئی ایس آئی تھے، فیض آباد دھرنے سے متعلق مقدمے میں ان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی۔
اپنی برطرفی کے بعد ردعمل دیتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا تھا کہ ان کے لیے یہ فیصلہ غیر متوقع نہیں تھا۔ انھوں نے کہا: ’تقریباً تین سال پہلے سرکاری رہائش گاہ کی مبینہ آرائش کے نام پہ شروع ہونے والے ایک بے بنیاد ریفرنس سے پوری کوشش کے باوجود جب کچھ نہ ملا تو ایک بار ایسوسی ایشن سے میرے خطاب کو جواز بنا لیا گیا جس کا ایک ایک لفظ سچ پر مبنی تھا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’میرے مطالبے اور سپریم کورٹ کے واضح فیصلے کے باوجود یہ ریفرنس کھلی عدالت میں نہیں چلایا گیا نہ ہی میری تقریر میں بیان کیے گئے حقائق کو جانچنے کے لیے کوئی کمیشن بنایا گیا۔‘ تاہم جسٹس آصف سعید کھوسہ کی طرف سے لکھی گئی سفارشات میں کہا گیا تھا کہ حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے جسٹس شوکت صدیقی ججز کے بارے میں بنائے گئے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ہیں اس لیے اُن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے سب سیکشن 6 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے جسٹس شوکت صدیقی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی جاتی ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف اس تقریر سے متعلق ریفرنس کی صرف ایک ابتدائی سماعت ہوئی تھی اور یہ سماعت بھی ان کیمرہ تھی جس کے بعد اس ریفرنس کا فیصلہ سنا دیا گیا۔
خیال رہے کہ شوکت عزیز صدیقی نے اپنی برطرفی کے معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا اور ایک درخواست دائر کی تھی، جس پر ابتدا میں رجسٹرار آفس کی جانب سے اعتراضات لگائے گئے تھے تاہم فروری 2019 میں سپریم کورٹ نے رجسٹرار کے اعتراضات ختم کرتے ہوئے درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی تھی۔جس کے بعد ان کی اپیل پر سماعت تاخیر کا شکار ہوئی تھی جس پر انہوں نے نومبر 2020 کے اختتام پر چیف جسٹس پاکستان کو ایک خط بھی لکھا تھا، جس میں کیس کی سماعت جلد مقرر کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔بظاہر یہ ان کا تیسرا ایسا خط تھا جو درخواست گزار کی جانب سے کیس کی جلد سماعت کے لیے چیف جسٹس پاکستان کو لکھا گیا تھا۔ کیس کی سماعت شروع ہو چکی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ جلد انصاف دینے والے کو بھی انصاف مل جائے گا۔
