کیا جسٹس صدیقی کیس میں سپریم کورٹ پر دباؤ ہے؟

پاکستانی کی طاقتور ترین خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس کے سیاسی کردار پر تنقید کرنے کی پاداش میں فارغ کر دئیے جانے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی کے لیے انصاف کا حصول ناممکن ہوتا چلا جا رہا ہے کیونکہ سپریم کورٹ انکی اپنی برطرفی کے خلاف دائر درخواست سننے پر آمادہ نظر نہیں آتی جبکہ ان کی ریٹائرمنٹ میں اب صرف تین ماہ باقی رہ گئے ہیں۔
جسٹس شوکت صدیقی نے ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد سے درخواست کی ہے کہ وہ 11 اکتوبر 2018 کے نوٹی فکیشن کے خلاف انکی درخواست پر فیصلہ سنائے جس کے تحت انہیں انکے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ چھ صفحات پر مشتمل اپنی درخواست میں سابق جج نے عدالت عظمیٰ سے اپنی برطرفی کا نوٹی فکیشن معطل کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔ یاد رہے کہ جسٹس گلزار احمد انجان وجوہات کی بنا پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی اپنی برطرفی کے خلاف دائر کردہ درخواست کی سماعت لٹکائے چلے جا رہے ہیں جس سے اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ جسٹس شوکت کو ان کے عہدے سے ہٹانے والی ایجنسی کا سپریم کورٹ پر دباؤ اب بھی برقرار ہے۔ یاد رہے کہ اپنی تقریر میں شوکت عزیز صدیقی نے بالواسطہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پر نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام لگایا تھا۔
جسٹس گلزار کے نام تازہ خط میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے یاد دلوایا یے کہ 11 اکتوبر 2018 سےاب تک انکی درخواست مسلسل التوا کا شکار ہے اور ابھی تک کیس کی ابتدائی مراحل کی کارروائی بھی ممکن نہیں ہوئی۔ جسٹس شوکت نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ شاید عدالت عظمی ان کی ریٹائرمنٹ کے انتظار میں ان کا کیس لٹکائے چلے جا رہی ہے۔ شوکت عزیز صدیقی کا موقف تھا کہ ان کی اپیل میں سماعت کے لیے غیر ضروری تاخیر روا رکھی جا رہی ہے لہذا عدالت عظمی کو اس عمومی تاثر کو سنجیدگی سے زائل کرنے کی ضرورت ہے کہ میری آئینی درخواست کو 30 جون 2021 تک زیر التوا رکھنا کسی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ میری ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزر جائے اور میری آئینی درخواست غیر موثر ہو جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مسلسل التوا کے نتیجے میں وہ اور ان کا خاندان ذہنی پریشانی اور اضطراب میں مبتلا ہیں جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ یہ جسٹس شوکت کی جانب سے پانچواں خط ہے جو کیس کی جلد سماعت کے لیے چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کو لکھا گیا ہے۔ تاہم ابھی تک چیف جسٹس گلزار نے جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی کے خطوط پر کوئی عملی کاروائی نہیں کی۔
